Monday, July 13, 2026
 

برائے توجہ

 



راقم الحروف کا کالم بعنوان’’پاکستان میں مڈل کلاس طبقہ کیوں سکڑ رہا ہے؟‘‘ شائع ہوا تو اس پر ہمارے ایک صحافی دوست نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ’’آپ نے مڈل کلاس زندگی کی بڑی قریب سے تصویر کشی کی ہے، اگر ممکن ہو تو ایک سطح اور نیچے آ جائیں۔ اسکول، علاج، عید، برات، خوشی اور غمی کے اخراجات کا بھی ذکر کریں۔ فی الحال آپ کے کالم کو پڑھنے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صرف بجلی اور پٹرول سستا کرنے سے ہی مڈل کلاس کے مسائل حل ہو جائیں گے۔‘‘ بات یہ ہے کہ گزشتہ چھ سات برسوں کے دوران مختلف حکومتوں کی جانب سے بجلی، پٹرول، گیس اور پانی کے بلوں کی صورت میں عوام پر جو معاشی بوجھ مسلسل ڈالا گیا ہے، اس سے سب سے زیادہ مڈل کلاس متاثر ہوئی ہے۔ اس طبقے کی حالت اب یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس کے لیے صرف زندگی گزارنا ہی نہیں بلکہ ’’سروائیو‘‘ کرنا بھی مشکل تر ہو گیا ہے، البتہ مذکورہ دیگر مسائل بھی مڈل کلاس کے لیے نہایت اہم ہیں، اور راقم گزشتہ پچیس برسوں کے دوران اپنے مختلف کالموں میں ان موضوعات پر متعدد بار قلم اٹھا چکا ہے۔ ایک بار پھر صحت کے حوالے سے چند گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔ امید ہے کہ متعلقہ ذمے داران، خصوصاً وفاقی اور صوبائی وزرائے صحت، ان پر توجہ دیں گے اور ان تجاویز کو سنجیدگی سے زیر غور لائیں گے۔ صحت کے شعبے میں علاج معالجے کے اخراجات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ ایک عام آدمی کے لیے اپنے اور اپنے خاندان کا مناسب علاج کرانا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ چنانچہ آج بے شمار ایسے افراد ملتے ہیں جو کسی مستند ڈاکٹر سے علاج کروانے کے بجائے محض مالی مجبوری کے باعث متبادل طریقہ علاج اختیار کرتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بزرگ شہریوں کی ہے، جنھیں اتنی پنشن بھی نہیں ملتی کہ وہ شوگر یا بلڈ پریشر کی دوائیں ہی ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق باقاعدگی سے خرید سکیں۔ پھر ان بزرگوں کا کیا حال ہوگا جنھیں پنشن بھی میسر نہیں؟ سرکاری اسپتالوں کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ راقم الحروف کو متعدد مرتبہ سرکاری اسپتالوں سے رجوع کرنے کا موقع ملا، مگر ہر بار وہاں رش، بدنظمی اور بدانتظامی دیکھ کر یہی خواہش ہوئی کہ آیندہ کسی اچھے نجی اسپتال سے رجوع کیا جائے، لیکن سوال یہ ہے کہ نجی اسپتال میں کسی ماہر ڈاکٹر کی ایک ملاقات کی فیس ہی چار سے پانچ ہزار روپے ہوتی ہے، جب کہ ادویات اور ٹیسٹوں کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ ایسے بھاری اخراجات آخر ایک متوسط طبقے کا فرد کیسے برداشت کر سکتا ہے؟  اگر کسی کو ایمرجنسی میں اسپتال جانا پڑ جائے اور صرف ایک ڈرِپ اور ایک انجکشن لگنے کے بعد آدھے گھنٹے میں فارغ بھی ہو جائے تو کم از کم پانچ ہزار روپے کا بل بن جاتا ہے، اگر معاملہ کچھ زیادہ سنگین ہو تو پھر اخراجات کی کوئی حد نہیں رہتی۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک شخص کی فریاد سنی۔ وہ بتا رہے تھے کہ ان کے چھوٹے بچے کا انتقال ہو گیا۔ بچے کا صرف بارہ گھنٹے علاج ہوا تھا، مگر اسپتال نے تقریباً ڈھائی لاکھ روپے کا بل بنا دیا اور مبینہ طور پر بل کی مکمل ادائیگی تک بچے کی میت حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔  نہ جانے صبح و شام ایسی کتنی دردناک کہانیاں ہمارے معاشرے میں جنم لیتی ہیں۔ ابھی ایک سال پہلے کی بات ہے کہ ایک شخص اپنی حاملہ بیوی کو موٹر سائیکل پر اسپتال لے جا رہا تھا کہ راستے میں ایک آئل ٹینکر نے اسے کچل دیا اور خاتون جاں بحق ہو گئی۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس شخص کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں تھے کہ وہ اپنی حاملہ بیوی کو ٹیکسی یا کسی دوسری محفوظ سواری کے ذریعے اسپتال پہنچا سکتا۔  اسی طرح ایک اور نہایت اہم مسئلہ یہ ہے کہ آپ چاہے کتنے ہی خوش حال کیوں نہ ہوں، اگر سڑک پر حادثے کا شکار ہو جائیں اور کوئی آپ کو ایسے اسپتال پہنچا دے جہاں فوری آپریشن سے آپ کی جان بچ سکتی ہو، تو اکثر نجی اسپتال آپریشن اس وقت تک شروع نہیں کرتے جب تک مطلوبہ رقم ایڈوانس جمع نہ کرا دی جائے۔ یہ نہایت افسوس ناک اور خطرناک صورت حال ہے، اگر عین وقت پر آپ کے پاس رقم موجود نہ ہو تو آپ کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے، خواہ آپ کروڑ پتی ہی کیوں نہ ہوں۔ ہمارے ایک معروف کالم نگار ماضی میں ایک واقعہ بیان کر چکے ہیں کہ ایک ٹریفک حادثے کے بعد ایک نوجوان کو اسپتال لایا گیا، مگر سرجن نے ایڈوانس فیس جمع نہ ہونے کی وجہ سے اس کا آپریشن نہ کیا اور وہ نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ نوجوان اسی سرجن کا اپنا بیٹا تھا۔  بہرحال، یہ صرف ایک مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا قومی المیہ ہے کہ ایک ایسی ریاست میں، جہاں وفاقی اور صوبائی وزارتِ صحت موجود ہو اور جہاں متعدد غیر سرکاری تنظیمیں عوام کی خدمت کے دعوے کرتی ہوں، وہاں کوئی شہری صرف اس وجہ سے علاج سے محروم رہ جائے کہ وہ بروقت ایڈوانس رقم ادا نہیں کر سکتا۔ آئیے! اب اس مسئلے کے ایک نسبتاً آسان حل کی طرف آتے ہیں۔ تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں کو پابند کیا جائے کہ ایمرجنسی کی صورت میں، خواہ مریض ہارٹ اٹیک کا شکار ہو یا کسی حادثے کا، اس کا فوری علاج شروع کیا جائے اور بل کی ادائیگی کا معاملہ بعد میں نمٹایا جائے، اگر چند معاملات میں مریض واقعی ادائیگی سے قاصر ہو تو اس کی رقم حکومت ادا کرے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نجی اسپتالوں کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کر سکتی ہے۔ اسی طرح جو غیر سرکاری تنظیمیں عوامی خدمت کی دعویدار ہیں، وہ بھی اسپتالوں کے ساتھ اشتراک کر کے اس انسانی مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔  دوسرا اہم مسئلہ ماہر ڈاکٹروں کی بھاری فیسیں ہیں، جو ایک عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہوتی ہیں۔ اس کے حل کے لیے حکومت سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر سرکاری سطح پر ایسے آن لائن پلیٹ فارم یا واٹس ایپ گروپس قائم کیے جائیں، جہاں رجسٹرڈ ڈاکٹر ابتدائی طبی مشورہ فراہم کریں اور ضرورت کے مطابق مریضوں کو نسخہ جاری کریں۔ اس سے خصوصاً بزرگ افراد کو بار بار اسپتال جانے، لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے اور اضافی اخراجات سے کافی حد تک نجات مل سکتی ہے۔ (انسانی ہمدردی رکھنے والے ڈاکٹرز اپنے طور پر بھی سوشل میڈیا پر اس قسم کے گروپ بنا کر اپنی خدمات مفت پیش کر سکتے ہیں، اگر بیرون ملک کے ڈاکٹرز بھی اس میں شامل ہو جائیں تو مریضوں اور بھی سہولت میسر آسکتی ہے خاص کر ایسے مریضوں کو جن کے علاج کے بیرون ملک کے ڈاکٹروں کے مشوروں کی اشد ضرورت ہو۔)  اسی پلیٹ فارم کے ذریعے مستقل مریضوں کا ریکارڈ محفوظ کیا جا سکتا ہے اور انھیں ضروری ادویات کم قیمت پر، یا کم از کم بغیر منافع کی بنیاد پر، بائیکیا یا اسی نوعیت کی ڈیلیوری سروس کے ذریعے ان کے گھروں تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ ایسے منصوبے نہ صرف وفاقی اور صوبائی حکومتیں شروع کر سکتی ہیں بلکہ مختلف سماجی تنظیمیں بھی اس میں موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ امید ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ذمے داران، خصوصاً وفاقی وزیر ِ صحت، ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور عملی اقدامات اٹھائیں گے تاکہ عوام، بالخصوص مڈل کلاس، کو مہنگائی کے اس دور میں حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل