Monday, July 13, 2026
 

بھارت ، اسرائیل ، شیوا جی اور دھریندر

 



جب سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے مسلح شبخون کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد اسرائیلی و غیر ملکی شہری ہلاک ہوئے تو نیتن یاہو کی میز پر اظہارِ یکجہتی کا پہلا پیغام واشنگٹن یا یورپ سے نہیں بلکہ نریندر مودی کی جانب سے آیا۔’’ اس دہشت گرد کارروائی سے شدید صدمہ پہنچا ہے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں ہم آپ کے شانہ بشانہ ہیں ’’۔جب کہ ایک اور قریبی دوست ایران کے رہبرِ اعلی علی خامنہ ای کی اسرائیلی بمباری میں شہادت کی تعزیت میں مودی حکومت کو چار دن لگے۔  مودی جی آخری غیر ملکی رہنما تھے جنھوں نے ایران پر اسرائیل اور امریکا کے اچانک حملے سے دو دن پہلے تل ابیب میں اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں ’’پھادر لینڈ مدر لینڈ ‘‘ والا خطاب کر کے سب کے دل موہ لیے۔بھارت میں اسرائیل کے سفیر روون آزر کے بقول ’’ ایک ایسی دنیا جو آفاقیت اور قوم پرستی کے مرحلے سے آگے نکل رہی ہے ، مودی اور نیتن یاہو نہ صرف قوم پرستی بلکہ قومی شناخت کے داعی ہیں ‘‘۔ جیسے جیسے دونوں ممالک عالمی برادری میں الگ تھلگ نظر آ رہے ہیں ویسے ویسے یہ تنہائی انھیں مزید قریب لا رہی ہے۔نیتن یاہو جرائم کی بین الاقوامی عدالت سے وارنٹ نکلنے کے بعد نہ صرف کئی مغربی ممالک میں ناپسندیدہ قرار پائے ہیں بلکہ اب تو سب سے بڑے اتحادی امریکا کی رائے عامہ بھی کھلم کھلا بیزاری کا اظہار کر رہی ہے۔ البتہ مودی حکومت سمجھتی ہے کہ انتہاپسند اسلام کی لہر کے آگے بند باندھنے کی کوششوں میں بھارت اور اسرائیل کو پہلے سے زیادہ یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔اسرائیل کو بھی مغرب میں بڑھتی ہوئی بیزاری کے سبب مشرق میں ایک مضبوط اقتصادی و نظریاتی پارٹنر کی اتنی ہی ضرورت ہے۔ ان دونوں کو ایک خلیجی ساجھے دار متحدہ عرب امارات کی شکل میں میسر ہے۔عجیب بات ہے کہ اس بڑھتی ہوئی قربت کے باوجود بھارت آج بھی کاغذی طور پر فلسطین کے دو ریاستی حل کا حامی ہے۔وہ حل جو بقول نیتن یاہو زمین میں گہرا دفن ہو چکا ہے۔ بھارت کی کسی ایک ٹوکری میں تمام انڈے رکھ دینے والی ایسی خارجہ پالیسی کبھی بھی نہیں تھی۔سرد جنگ کے زمانے میں بھارت نہ صرف غیر جانبدار تحریک کے صفِ اول کے علمبرداروں میں تھا بلکہ پی ایل او کا بھی کھلم کھلا حامی تھا۔یہ پالیسی دراصل نہرو کی کلاسیکی خارجہ حکمتِ عملی کا تسلسل تھی۔ بھارت نے انیس سو سینتالیس میں فلسطین کی تقسیم کی مخالفت کی اور جب اسرائیل بن گیا تو اقوامِ متحدہ میں اس کے داخلے کی بھی مخالفت کی۔ انیس سو بانوے میں جا کے کہیں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ تب تک ہندو قوم پرستی کے رتھ نے نہرو دور کی سیکولر سوشلسٹ پالیسییوں کو کچلنا شروع کر دیا تھا۔ ایک اہم موڑ انیس سو ننانوے کی کرگل کی جنگ ثابت ہوئی۔ایک برس پہلے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد امریکا اور مغربی ممالک نے بھارت کو اسلحے کی فروخت معطل کر دی۔اس آڑے وقت میں اسرائیل نے بھارت کو ایمونیشن اور میزائل فراہم کیے۔جب دو ہزار چودہ میں مودی حکومت برسرِ اقتدار آئی تو بھارت اسرائیل کے اس اسٹرٹیجک نظریہ سے خاصا متاثر ہو چکا تھا کہ آپ کا تحفظ تب ہی ممکن ہے جب آس پاس والے عدم تحفظ کی حالت میں رہیں۔شدت پسندی کا مسئلہ بات چیت سے نہیں بلکہ اینٹ کے جواب میں پتھر کی پالیسی سے ہی قابو میں رہ سکتا ہے۔ دو ہزار سترہ میں مودی پہلے بھارتی وزیرِ اعظم تھے جو تل ابیب پہنچے اور نیتن یاہو نے اگلے برس جوابی دورہ کیا ( ایریل شیرون کے بعد نیتن یاہو بھارت کا دورہ کرنے والے دوسرے وزیرِ اعظم ہیں۔مودی اور نیتن یاہو دو دو بار ایک دوسرے کے مہمان بن چکے ہیں )۔ گذشتہ دس برس میں اس شراکت داری میں برق رفتار اضافہ ہوا۔بھارت نہ صرف اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے بلکہ دو طرفہ ہتھیار سازی اور جدت کاری کے کئی منصوبے بھی جاری ہیں۔ ان ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ کوئی شرائط بھی نتھی نہیں۔مثلاً اسرائیلی کمپنیوں رافیل اور آئی اے آئی کا براک میزائل شکن نظام کی تیاری کا لائسنس دو بھارتی کمپنیوں ( بھارت ڈائنامکس اور بھارت فورج ) کو بھی ملا ہوا ہے۔ گوتم اڈانی کی کمپنی اڈانی پورٹس نہ صرف اسرائیلی بندرگاہ حیفہ کا انتظام سنبھالتی ہے بلکہ حیفہ پورٹ کے ستر فیصد شئیرز کی بھی مالک ہے۔ اسرائیلی ڈرونز ہرمیس اور ہروپ کی بھارت میں تیاری بھی اڈانی گروپ کے ہاتھ میں ہے۔دھشت گردی کی روک تھام کے نام پر موساد اور را میں جنوبی اور مغربی ایشیا سے متعلق حساس معلومات کا آزادانہ تبادلہ ہوتا ہے۔ اسرائیلی فوجی قیادت کے بھارت کے دورے اب بکثرت ہیں۔ بہت سے ممالک میں اسرائیل کے خلاف عمومی نفرت میں اضافے کے سبب اسرائیلی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اب بھارت کا رخ کر رہی ہے۔ان میں موجودہ اور سابق فوجی سیاح بھی شامل ہیں جنھیں غزہ اور مغربی کنارے میں نسل کشی سے شل اپنے دماغوں کو آرام دینے کے لیے ملک سے دور گوا یا ہمالیائی پہاڑوں میں قائم یوگا مراکز میں آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسرائیل بھارتی زرعی اور آبی ماہرین کی تربیت بھی کرتا ہے۔اسرائیلی تعلیمی اداروں میں سیکڑوں بھارتی طلبا اور صنعت و خدمات و زراعت کے شعبوں میں ہزاروں بھارتی کارکن دیکھے جا سکتے ہیں۔حال ہی میں شمال مشرقی بھارت میں صدیوں سے آباد بنی مناشے قبیلے کو بھی یہودی تسلیم کیے جانے کے بعد ان کی نقل ِ مکانی شروع ہو گئی ہے۔آر ایس ایس کا ایک کیڈر بھی اسرائیل کے مطالعاتی دورے پر جانے والا ہے تاکہ صیہونیت کے سماج و ریاست پر عملی نفاذ کے طور طریقوں سے سیکھ سکے۔ بھارتی ریاست اسرائیل کی محبت میں اس قدر گرفتار ہے کہ بعض اوقات اپنے شہریوں کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔مثلاً اگست دو ہزار بائیس میں قطری انٹیلی جینس نے بھارتی بحریہ کے آٹھ سابق افسروں کو قطر کے آبدوز پروگرام کی اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزاِ موت سنا دی۔تاہم نریندر مودی کی ذاتی مداخلت اور قطر سے ایل این جی خریدنے کے بیس سالہ سودے کے عوض ان آٹھ مجرموں کی جاں بخشی کر دی گئی۔ اب تو ایک دوسرے کی کہانیاں بھی فلم سازی میں استعمال ہو رہی ہیں۔مثلاً بالی وڈ کی سب سے کامیاب فلم دھریندر کی کہانی کا مرکزی خیال نیٹ فلیکس پر دستیاب مقبول اسرائیلی ٹی وی سیریز فودا سے لیا گیا ہے۔اس میں ایک انڈر کور اسرائیلی یونٹ حماس کے ایک انتہائی مطلوب شدت پسند کے تعاقب میں بھیجا جاتا ہے۔دھریندر کی نہ صرف اسرائیل بلکہ دلی کے اسرائیلی سفارتخانے میں بھی خصوصی نمائش ہوئی۔مودی جی جب فروری میں اسرائیل میں تھے تو وہاں ان کی ملاقات فودا کے اداکاروں سے بھی ہوئی۔ اب فودا کی پوری ٹیم بھارت کا دورہ کرنے والی ہے۔مغلوں سے نبرد آزما شیوا جی کا ایک بڑا مجسمہ بھی ایک اسرائیلی کمپنی نے آرڈر کیا ہے تاکہ اسے کسی بڑے شہر میں نصب کیا جا سکے۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل