Monday, July 13, 2026
 

فاعتبرو!

 



ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی صاحب خود ایک عالم بے بدل تھے اور اس زمانے کے چانسلر صاحب نے ان کی لیاقت، غیر معمولی شرافت اور علم و عمل سے آراستہ شخصیت ہونے کے باعث انھیں جامعہ کراچی کا شیخ الجامعہ مقرر کیا۔ظاہر ہے کہ وہ اس منصب جلیلہ کے تقاضوں کو بہ خوبی جانتے تھے اور اس عہدے کا احترام کرانے کا سلیقہ ان میں ودیعت کیا گیا تھا۔  ایک زمانے میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب اپنی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ اور ملک کے انتہائی مقبول رہنما تھے۔ ان کی تقاریر جلسوں میں آگ لگا دیتیں، نوجوانوں کے وہ محبوب لیڈر تو تھے ہی ملک کی اشرافیہ بھی ان سے مرعوب تھی۔ انھیں اشتیاق حسین قریشی صاحب سے نظریاتی اختلاف تھا اور سیاست کے جوش میں انھوں نے ایک جلسہ عام میں ڈاکٹر صاحب موصوف کے لیے کچھ نامناسب الفاظ کہے۔ ڈاکٹر صاحب بھلا اس کا کیا جواب دیتے اور کیوں دیتے، البتہ ملک کے علمی حلقوں میں بھٹو صاحب کی غیر معمولی مقبولیت کے باوجود ان کے رویے کو ناپسند کیا گیا۔ علم اور صاحب علم کی عظمت کا احساس ابھی باقی تھا۔ پھر ڈاکٹر محمود حسین صاحب شیخ الجامعہ مقرر ہوئے۔ وہ بھی سراپا علم اور علم کے علم بردار تھے۔ ان کے زمانے میں ایک روز چند طالب علموں نے انھیں جامعہ کی چھوٹی سی لفٹ کے پاس روکا اور اپنے کچھ مطالبات پیش کیے۔ ڈاکٹر صاحب نے انھیں سنا اور ان پر غور کرنے کا اور اس کی روشنی میں اقدام کرنے کا وعدہ کیا۔ ایک طالب علم کو عین اس وقت جب صاحب موصوف اپنی بات ختم کرکے لفٹ میں سوار ہونے جانے لگے، کوئی اور مطالبہ بھی یاد آ گیا۔ وہ تیزی سے لفٹ کی طرف بڑھا اور ڈاکٹر صاحب کی شیروانی کا دامن ہی چھو سکا کہ لفٹ چل پڑی مگر ڈاکٹر صاحب کی شیروانی کا دامن لفٹ کے دروازے میں اٹک گیا۔ اس سے نقصان تو کچھ بھی نہیں ہوا، البتہ ڈاکٹر صاحب کو طالب علم کی یہ جرأت غیر مہذب اور ناشائستہ لگی، وہ اوپر اپنے کمرے میں گئے، استعفیٰ لکھا اور گھر چلے گئے۔  کچھ مدت بعد ڈاکٹر احسان رشید شیخ الجامعہ مقرر ہوئے۔ اس وقت تک جامعہ میں فائرنگ کے رواج کی ابتدا ہوئی تھی۔ ایک روز طلبا نے کسی معاملے میں مشتعل ہو کر شیخ الجامعہ کے دفتر کے باہر نعرے بازی کی، جامعہ کے ارباب حل وعقد نے لڑکوں کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کر دیا مگر احسان رشید صاحب کو یہ بات سخت ناگوار گزری، وہ اپنی گاڑی میں بیٹھے گھر آئے اور دوسرے دن وہ دفتر میں نہیں آئے، ان کا استعفیٰ آ یا۔ یہ تھے وہ لوگ جو شیخ الجامعہ کے منصب اعلیٰ پر فائز ہونے کے لائق تھے۔ وہ اس منصب کے صرف اہل نہ تھے بلکہ اس کی عظمت کے تحفظ کے امین بھی تھے۔ وہ اسے ملازمت نہیں سمجھتے تھے بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کا مقدس فریضہ خیال کرتے تھے اور اگر کبھی ان کے منصب پر حرف آنے لگتا تو کوئی مصلحت آڑے نہیں آتی تھی۔ وہ اپنے دامن پر آنے والی آنچ کو دراصل جامعہ اور اس کے ماحول کی توہین گردانتے تھے اس لیے ذرا سی بدتمیزی بھی انھیں بہت نظر آتی تھی اور اس سے بے زاری وہ مستعفٰی ہو کر دیتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک کسی عہدے سے چمٹے رہنا اس عہدے کا احترام نہیں بلکہ اسے دوسروں کے حوالے کرکے اس کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہوتا ہے جب طالب علم معمولی سی شکایات پر شیخ الجامعہ کا گھیراؤ کرنے لگیں تو انھیں سبق سکھانے کے لیے عہدہ چھوڑ دینا ضروری خیال کرتے تھے۔  اب تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیجیے۔ دروغ بر گردن راوی سنا ہے کہ جامعہ اردو آج کل شدید مالی بحران میں مبتلا ہے ،نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اساتذہ کو کئی کئی ماہ تنخواہیں نہیں مل پاتیں۔ یہ قومی زبان میں تدریس کا واحد علمی ادارہ ہے اور جیساکہ نام سے ظاہر ہے یہ اردو یونیورسٹی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس جامعہ کا تحفظ اہتمام کے ساتھ کیا جاتا مگر یہاں تو جامعہ کے اساتذہ کے ہاتھوں میں کشکول گدائی تھما دیا گیا ہے۔ راوی ہی کے مطابق جامعہ کے شیخ کے فرائض میں شامل ہے کہ جامعہ کے تقدس، ترقی اور تدریسی خدمات کی بہتری کے لیے وہ مناسب اقدامات کرے مگر شاید اب شیوخ الجامعہ کوئی اچھی مثال قائم کرنے کے لیے مطلق تیار نہیں ہیں۔  کئی ماہ سے قوت لایموت سے محروم اساتذہ طرح طرح احتجاج کرتے رہے اور فقیرانہ صدائیں بلند کرتے رہے مگر ایوان صدر سے لے کر عوامی سرکار تک کسی کے سر میں جوں نہ رینگی۔ یہ صورت حال دیکھ کر ایک استاد اب انھیں شیخ الجامعہ کے بجائے وائس چانسلر کہنا ہی مناسب ہے کیونکہ اردو لقب اب جامعہ اردو کے شیخ الجامعہ کو زیب نہیں دیتا، وہ وائس چانسلر ہی اچھے۔ چنانچہ ان وائس چانسلر کی دفتر سے روانگی کے وقت ایک دلیر استادنے آؤ دیکھا نہ تاؤ، ان کی گاڑی کے آگے لیٹ گیا کہ روز روز مرتے رہنے سے بہتر ہے ایک بار ہی مر لیا جائے۔ وائس چانسلر صاحب نے گاڑی چھوڑی اور جامعہ سے باہر آ کر رکشہ لیا اور چلتے بنے، گاڑی وہیں چھوڑی کہ گاڑی کا تو کوئی قصور نہ تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل