Loading
کراچی کے علاقے لیاری پھول پتی لین جمعہ مسجد کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان جماعت اسلامی کی زیر تعمیر عمارت پر کریکر پھینک کر فرار ہوگئے جس کے نتیجے میں جماعت اسلامی کے 3 کارکنان زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق لیاری کے علاقے پھول پتی لین جمعہ مسجد کے قریب زیر تعمیر عمارت کے قریب موٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزمان کریکر پھینک کر فرار ہوگئے، جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 3 افراد چھرے لگنے سے زخمی ہوگئے، زور دار دھماکے سے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
کریکر حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی دوڑیں لگ گئیں جبکہ ایدھی کے رضا کار بھی موقع پر پہنچ گئے اور کریکر حملے میں زخمی ہونے والے 3 افراد کو فوری طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا جہاں ان کی شناخت 48 سالہ عبدالبقی، 50 سالہ حسین اور 32 سالہ غلام مصطفیٰ کے نام سے ہوئی۔
پولیس نے جائے وقوع کو سیل کر کے کرائم سین یونٹ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کرلیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کا کہنا تھا کہ واقعہ لیاری پھول پتی لین جمعہ مسجد کے قریب زیر تعمیر عمارت پر کریکر حملے سے پیش آیا ہے جس میں 3 افراد زخمی ہوئے ہیں، ابتدائی تحقیقات میں عینی شاہدین کے مطابق موٹر سائیکل سوار ایک ملزم کریکر پھینک کر فرار ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زیر تعمیر عمارت جماعت اسلامی کی ہے، واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جبکہ جائے واقعہ پر شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے جماعت اسلامی لیاری کے دفتر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان پر حملہ بزدلانہ اور قابلِ مذمت کارروائی ہے، حملے میں زخمی کارکنان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔
منعم ظفر خان نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کیا جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق عبرت ناک سزا دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان کو خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائیں، شہر کا امن خراب کرنے کی ہر سازش ناکام بنائی جائے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر قسم کی دہشت گردی اور تشدد کی مذمت کرتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل