Tuesday, July 14, 2026
 

آبنائے ہرمز کا بحران اور عالمی امن کا امتحان

 



امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات نیز چھوٹی بحری کشتیوں کو نشانہ بنانے کے اعلان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک ایک مرتبہ پھر براہ راست عسکری محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بندر عباس میں مسلسل دھماکوں کی اطلاعات اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے اس تصادم کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز پر بحری ناکہ بندی، ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے اور وہاں سے گزرنے والے سامان پر معاوضہ عائد کرنے کا اعلان محض جنگی حکمت عملی نہیں بلکہ عالمی تجارت کے مسلمہ اصولوں کو ایک نئے امتحان سے دوچار کرنے والا اقدام بھی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ عالمی منڈی میں پہنچنے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والی معمولی بے یقینی بھی عالمی منڈیوں میں شدید اضطراب پیدا کر دیتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے بعد خام تیل کی قیمت کا اسی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار، درآمد کنندگان اور مالیاتی ادارے اس بحران کو وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول یا ڈیزل تک محدود نہیں رہتا بلکہ نقل و حمل، صنعت، زراعت، خوراک اور پیداواری لاگت کے ہر شعبے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کی نئی لہر جنم لیتی ہے، مرکزی بینکوں پر شرح سود برقرار رکھنے یا بڑھانے کا دباؤ پیدا ہوتا ہے اور عالمی اقتصادی بحالی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔سمندری راستے صرف پانی کی گزرگاہیں نہیں ہوتے، وہ تہذیبوں کی نبض، معیشتوں کی شہ رگ اور طاقت کی سیاست کے آئینے بھی ہوتے ہیں۔ جب کسی تنگ آبی گزرگاہ پر جنگی بیڑوں کی قطاریں کھڑی ہو جائیں، میزائلوں کی دھمک سفارتی بیانات پر غالب آ جائے اور تجارت کی آزادی عسکری احکامات کی اسیر بننے لگے تو مسئلہ صرف دو ممالک کے درمیان تصادم کا نہیں رہتا بلکہ پوری دنیا ایک ایسے بحران کی دہلیز پر آ کھڑی ہوتی ہے جس کے اثرات ایندھن کی قیمت سے لے کر عام آدمی کی روزمرہ زندگی تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے گرد جنم لینے والی نئی کشیدگی بھی اسی حقیقت کی مظہر ہے۔ اس بار معاملہ محض بحری نقل و حرکت یا علاقائی بالادستی کا نہیں بلکہ عالمی اقتصادی نظام، بین الاقوامی قانون، توانائی کے تحفظ اور مستقبل کی جغرافیائی سیاست کا ہے، جس کے نتائج آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ دیگر ممالک آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزر سکیں گے لیکن ایرانی جہازوں اور ان کے تجارتی شراکت داروں کو روکا جائے گا، بظاہر ایک محدود ہدف کی حکمت عملی دکھائی دیتی ہے، مگر عملی طور پر کسی بھی بین الاقوامی بحری راستے میں اس نوعیت کی تفریق کو نافذ کرنا نہایت پیچیدہ عمل ہے۔ بین الاقوامی تجارت میں کارگو، بیمہ، بحری رجسٹریشن، پرچم، شراکت داری اور ملکیت کے معاملات باہم اس قدر مربوط ہوتے ہیں کہ کسی ایک ملک کے جہازوں کو الگ کر کے روکنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی بحری تنظیم نے اس قسم کی فیس اور بحری انتظام پر اعتراض اٹھایا ہے، کیونکہ اگر طاقتور ریاستیں عالمی گزرگاہوں پر اپنی مرضی کے محصولات عائد کرنے لگیں تو آزاد بحری تجارت کا پورا تصور کمزور پڑ جائے گا۔ایران کا موقف بھی اسی قدر واضح ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو اپنی قومی سلامتی اور علاقائی خودمختاری سے الگ نہیں سمجھتا۔ تہران کا یہ اعلان کہ وہ امریکی مداخلت قبول نہیں کرے گا اور آبنائے کے انتظام سے دستبردار نہیں ہوگا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران اس تنازع کو محض عسکری نہیں بلکہ قومی وقار اور تزویراتی بقا کا مسئلہ تصور کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج دونوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے امریکی اقدامات کو عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ ایرانی بحریہ کی جانب سے بعض جہازوں کو روکنے اور انتباہی فائرنگ کی اطلاعات اس بات کا اظہار ہیں کہ سمندر میں معمولی غلط اندازہ بھی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ خلیجی ریاستیں اس کشمکش میں نہایت نازک صورت حال سے دوچار ہیں۔ ایک طرف ان کے امریکا کے ساتھ دیرینہ دفاعی اور سلامتی کے تعلقات ہیں، دوسری طرف ایران ان کا جغرافیائی ہمسایہ ہے۔ اگر خطے کے ممالک کسی ایک فریق کے عسکری مقاصد کے لیے اپنی سرزمین یا تنصیبات کھولتے ہیں تو اس کے ردعمل سے بچنا آسان نہیں ہوگا۔ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کو خبردار کرنا اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس لیے ان ممالک کے لیے دانش مندی اسی میں ہے کہ وہ اپنے دفاعی مفادات اور علاقائی استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھیں اور تصادم کو مزید وسعت دینے سے گریز کریں۔برطانیہ کی جانب سے پاسداران انقلاب کو کالعدم دہشت گرد تنظیم قرار دینا اس بحران کو صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہنے دے گی۔ اس فیصلے کے بعد یورپی ممالک کی ایران سے متعلق پالیسی مزید سخت ہو سکتی ہے، مالیاتی پابندیاں بڑھ سکتی ہیں اور سفارتی فاصلے وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مذاکرات کے امکانات کمزور اور عسکری دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب سفارت کاری کے دروازے تنگ ہوتے ہیں تو میدان جنگ خود بخود وسیع ہو جاتا ہے۔اس پورے بحران کا ایک اہم پہلو عالمی معیشت کی ساخت میں آنے والی ممکنہ تبدیلیاں بھی ہیں۔ دبئی کی جانب سے فجیرہ کے مقام پر نئی بندرگاہ اور کنٹینر ٹرمینل کی منصوبہ بندی اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، اگر متحدہ عرب امارات اپنی تجارتی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ خلیج عمان کے راستے منتقل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو آبنائے ہرمز پر انحصار نسبتاً کم ہو سکتا ہے۔ یہ فیصلہ وقتی ردعمل نہیں بلکہ مستقبل کی اس حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس میں ممالک اپنی رسد، تجارت اور بندرگاہی ڈھانچے کو ایسے خطرات سے محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو جغرافیائی کشیدگی سے جنم لیتے ہیں۔  اس منصوبے سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ جدید دنیا میں اقتصادی سلامتی اب صرف مالیاتی پالیسیوں سے وابستہ نہیں رہی بلکہ بنیادی ڈھانچے، بندرگاہوں، متبادل راستوں اور لاجسٹکس کے نظام سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ جو ریاستیں بروقت متبادل راستے تیار کر لیں گی، وہ بحران کے دوران بھی اپنی تجارت کو جاری رکھ سکیں گی، جب کہ مکمل انحصار رکھنے والے ممالک زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔ یہی رجحان مستقبل میں نئی بندرگاہوں، زمینی راہداریوں اور علاقائی تجارتی منصوبوں کو مزید اہم بنا سکتا ہے۔ اگر ہر بڑی طاقت اپنے عسکری مفادات کی بنیاد پر عالمی بحری راستوں کے قواعد متعین کرنے لگے تو آنے والے برسوں میں دوسرے حساس بحری راستے بھی اسی نوعیت کی کشیدگی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس سے عالمی تجارت کی پیش گوئی، سرمایہ کاری کا اعتماد اور بین الاقوامی اقتصادی نظام سب متاثر ہوں گے۔ ایسے ماحول میں ضروری ہے کہ اقوام متحدہ، بین الاقوامی بحری تنظیم اور دیگر عالمی ادارے اپنی ذمے داری محض بیانات تک محدود نہ رکھیں بلکہ ایک ایسا سفارتی فریم ورک تشکیل دیں جس کے تحت تمام متعلقہ فریق مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ طاقت کا استعمال وقتی برتری تو دے سکتا ہے مگر مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ مشرق وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی سبق دہرا رہا ہے کہ ہر نئی جنگ اپنے ساتھ ایک اور زیادہ پیچیدہ بحران کو جنم دیتی ہے۔  پاکستان سمیت وہ تمام ممالک جو توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے بھی یہ صورت حال لمحہ فکریہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ زر مبادلہ کے ذخائر، درآمدی بل، مہنگائی، صنعتی پیداوار اور عوامی زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے ممالک کو ایک طرف توانائی کے متبادل ذرائع، علاقائی تعاون اور ذخیرہ اندوزی کی بہتر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی، جب کہ دوسری جانب عالمی سطح پر ہر اس سفارتی کوشش کی حمایت کرنا ہوگی جو کشیدگی کم کرنے میں معاون ثابت ہو۔  آبنائے ہرمز کا بحران دراصل اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ اکیسویں صدی کی جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ سمندروں، معیشتوں، رسد کے راستوں اور عالمی منڈیوں میں بھی لڑی جا رہی ہیں۔ اس تصادم کا حقیقی فاتح کوئی ایک ملک نہیں ہوگا، کیونکہ جب عالمی تجارت خوف، توانائی غیر یقینی اور سفارت کاری تعطل کا شکار ہو جائے تو نقصان پوری انسانیت کا ہوتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ طاقت کے مظاہرے سے زیادہ تدبر کی سیاست کو اہمیت دی جائے، کیونکہ سمندر اگر تجارت کے بجائے تصادم کی علامت بن جائیں تو ان کی لہریں صرف ساحلوں سے نہیں بلکہ دنیا کی ہر معیشت، ہر بازار اور ہر گھر سے ٹکرا کر گزرتی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل