Tuesday, July 14, 2026
 

شیخ امتیاز علی۔ لیجنڈری استاد اور بے مثل منتظم

 



اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلی نصف صدی میں پاکستان کی تعلیمی درسگاہوں کو نہ شیخ امتیاز علی صاحب جیسا استاد ملا ہے اور نہ ہی ان جیسا بے مثال ایڈمنسٹریٹر۔ معاشرے زوال پذیر ہوجائیں تو انسانی بڑائی اور عظمت ماپنے کے پیمانے بدل جاتے ہیں، ورنہ ہمارے ہاں اگر کردار کی عظمت اور ارفع اصولوں کی پاسبانی، انسان کے بڑا ہونے کا معیار ہوتی تو ملک کا ہر صحافی اور ہر چینل گواہی دے رہا ہوتا تو 5 جولائی کو لاہور میں اتنے بڑے انسان کو قبر میں اتارا گیا جس کا پورے ملک میں کوئی ثانی نہیں تھا۔ یقین سے کہتا ہوں کہ پروفیسر امتیاز علی صاحب جیسی عبقری شخصیت کسی زندہ معاشرے میں ہوتی تو اس پر فلمیں بنتیں، چوکوں اور شاہراہوں کے نام رکھے جاتے، نامور اینکرز انٹرویو کے لیے اس کے گھر کے باہر منڈلاتے رہتے، اور صدرِ مملکت خود ان کے گھر جا کر انھیں ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ پیش کرتے، مگر ہمارے ہاں کے معیار پست اور ترجیحات فرسودہ ہیں جہاں قوم کی تعمیر کرنے والے معماروںسے اداکاروں اور گلوکاروں کو زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ کئی بار لکھ چکا ہوں، ہمارے زوال کی ایک بڑی وجہ تعلیم سے مجرمانہ غفلت اور اساتذہ کی ناقدری ہے۔ انسانیت کے عظیم ترین محسنؐ اور راہنمائے اعظم حضرت محمدﷺ کے اس فرمان نے کہ ’’مجھے دنیا میں معلّم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘ دنیا بھر کے اساتذہ کو سب سے زیادہ معزز اور محترم ہونے کی سند عطا کردی۔ مگر اس ملک کے حکمران نہ تعلیم کو اہمیّت دیتے ہیں اور نہ معلّم کو عزّت وتکریم۔ سچ تو یہ ہے تمام حکمرانوں نے تعلیم کو نظر انداز کرنا اور اساتذہ کو بے توقیر کرنا اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ اس پس منظر میں ایک نوجوان، افسرانہ سروس کی بجائے معلّمانہ کیرئیر اپناتا ہے، اور علی گڑھ یونیورسٹی میں اوّل آنے کے بعد دہلی یونیورسٹی میں بطور لیکچرر تعینات ہو جاتا ہے، قانون پڑھانے والا یہ نوجوان مسلمانوں کے قائد محمدعلی جناحؒ کے اعلیٰ کردار اور اصول پسندی سے اس قدر متاثر ہوتا ہے کہ ہندوستان کو خیرباد کہہ دیتا ہے اور جان ہتھیلی پر رکھ کر ایک انتہائی مشکل اور جان لیوا سفر کے بعد پاکستان پہنچتا ہے۔ نئے ملک پہنچ کر وہ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے وابستہ ہوجاتا ہے اور صرف 33 سال کی عمر میں اس کی غیر معمولی صلاحیتوں اور قابلیّت کی بناء پر اسے برِّصغیر میں قانون کی سب سے بڑی درسگاہ کا سربراہ مقرر کردیا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں نے تحفظات کا اظہار بھی کیا مگر جلد ہی ہر شخص کی زبان پر ایک ہی فقرہ تھا کہ یونیورسٹی لاء کالج نے پروفیسر امتیازعلی شیخ سے بہتر نہ استاد دیکھا ہے اور نہ ہی کبھی اس کالج کو ان سے بہتر منتظم ملا ہے۔ پروفیسر امتیاز علی کی بارعب اور بااصول شخصیّت کے باعث ملک کے سب سے بڑے لاء کالج میں ڈسپلن، میرٹ، قواعدوضوابط اور قانون کا راج اس طرح قائم ہواکہ کالج کے عبقری سربراہ نے اپنی 28سالہ سربراہی میں میرٹ اور قانون کی حکمرانی کو کبھی پامال نہ ہونے دیا۔ کالج میں بڑے سے بڑے بدمعاش کو شیخ صاحب گریبان سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے کلاس سے باہر نکال دیتے مگر کسی میں آنکھ اٹھانے کی بھی جرات نہ ہوتی۔ اسی درسگاہ میں راقم نے بھی ہزاروں دوسرے طالب علموں کی طرح شیخ صاحب سے بہت کچھ پڑھا اور سیکھا۔ قانون کے ضابطے بھی اور زندگی کے اصول بھی۔ اُن دنوں اسٹوڈنٹس یونینز بڑی متحرّک اور جاندار ہوتی تھیں، میں پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کی اسٹوڈنٹس یونین کا صدر منتخب ہوا تو کالج کے سربراہ سے زیادہ واسطہ پڑنے لگا۔ ہم حسبِ روایت پرنسپل صاحب کے پاس کسی طالب علم کے داخلے کی سفارش کرتے، نمبر کم ہونے کی بناء پر پرنسپل صاحب ناں کردیتے تو انا کو ٹھیس پہنچتی اور دوسرے طلباء کے سامنے کچھ سبکی محسوس ہوتی، مگر جب یہ دیکھتے کہ پرنسپل صاحب میرٹ اور انصاف کی ہر حال میں پاسبانی کرتے ہیں اور بڑے سے بڑے سفارشی کو بھی ناں کردیتے ہیں تو دل کو اطمینان ہوجاتا۔ اُس وقت مرکز اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی ۔ پنجاب میں غلام مصطفٰی کھر جیسا سخت گیر جاگیر دار حکمران تھا ۔ جن آنکھوں نے یہ دیکھا کہ پرنسپل شیخ امتیاز علی صاحب میرٹ اور اصولوں کا پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیتے اور پنجاب کے جابر حکمرانوں کو بھی میرٹ کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیتے تو وہ آنکھیں ان کے احترام میں ہمیشہ کے لیے جھک گئیں۔ سنا ہے انھوں نے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی بابائے قوم سے انصاف اور میرٹ کو سربلند رکھنے کا عہد کیا تھا، وہ کئی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر، ایچ ای سی کے چیئرمین اور وزیرتعلیم بھی رہے مگر ہر عہدہ ان کے قد سے چھوٹا نکلا۔ انھوں نے ہمیشہ اپنے عہد کو اپنے عہدے سے زیادہ عزیز رکھا۔ ایک بار پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کی تاریخ مقرر ہوئی تو شیخ صاحب کو (جو وائس چانسلر تھے) گورنر ہاؤس طلب کرکے کہا گیا کہ ’’ہمارے حمایت یافتہ طلباء کو کامیاب کرانے میں مدد کیجیے‘‘ توقع کے عین مطابق شیخ صاحب نے جواب دیا ’’وائس چانسلر کی حیثیت باپ کی سی ہوتی ہے، باپ نا انصافی کرے اور جانبدار ہوجائے، میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا‘‘ جس شدّت سے اصرار بڑھا، اسی شدّت سے انکار ہوا۔ فرمائش نے دباؤ کی صورت اختیار کی تو وائس چانسلری کا چوغہ وہیں اتار کر واپس آگئے، بعد میں حکمرانوں نے معذرت کرکے بڑی مشکل سے منایا۔ شیخ الجامعہ کا فیصلہ تھا کہ پنجاب یونیورسٹی میں کوئی سیاسی لیڈر نہیں آئے گا۔ ایمپلائز یونین نے یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں اپنی حلفِ وفاداری کی تقریب منعقد کرنے اور اس میں ایک نہیں تین وزراء کو مدعو کرنے کا اعلان کردیا۔ شیخ صاحب نے عہدیداروں کو بلا کر سمجھایا مگر وہ حکومتی سرپرستی کے زعم میں تھے، وزیروں کو یونیورسٹی میں بلانے پر بضد رہے، اور پھر پنجاب یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ نے عجیب نظارہ دیکھا۔ علی الصبح وائس چانسلر صاحب سینیٹ ہال کے سامنے پہنچے، گیٹ پر تالہ لگایا، چابی جیب میں ڈالی اور گیٹ کے سامنے چہل قدمی کرنے لگے۔ عین وقت پر یونین کے عہدیدار جلوس کی شکل میں آئے۔ مگر سامنے شیخ صاحب کو دیکھا تو ادھر ہی رک گئے، نعرے بازی کرتے رہے مگر کسی کو آگے بڑھ کر گیٹ کھولنے کی جرات نہ ہوئی۔ شیخ الجامعہ نے قانون کی حکمرانی اس طرح قائم کی کہ دنیا حیران وششدر رہ گئی مگر حکمران برداشت نہ کرسکے اور شیخ صاحب کو عہدے سے ہٹا دیا۔ اَسّی کی دھائی میں شیخ صاحب کو قائد اعظم یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ سیاہ وسفید کے مالک چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے یونیورسٹی میں داخلے کے لیے ایک لڑکے کی سفارش کی، داخلہ قوائد وضوابط کے منافی تھا، اس لیے شیخ صاحب نے انکار کردیا،آمر نے اصرار کیا تو شیخ الجامعہ نے کہا مسٹر پریذیڈنٹ! آپ کی خواہش مان لی گئی تو میرٹ کا خاتمہ ہوجائے گا اور یونیورسٹی تباہ ہوجائے گی۔ صاحبِ اقتدار کو با اصول منتظم کے آگے سر جھکانا پڑا۔ استادِ محترم کو علم کے فروغ اور تدریس سے عشق تھا۔ بانوے سال کی عمر تک پڑھاتے رہے۔ ان کے سیکڑوں شاگرد فیڈرل سیکریٹری، آئی جی اور مختلف محکموں کے سربراہ اور درجنوں اعلیٰ عدلیہ کے جج اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ میں ان چند خوش نصیب شاگردوں میں تھا جن سے بہت شفقت کرتے تھے، راقم باقاعدگی سے ان کی رہائش گاہ پر سلام کے لیے حاضر ہوتا تھا، ہر عید پر فون کرکے مبارکباد دیتا تو بہت خوش ہوتے، اور دعائیں دیتے، پچھلے سال میں عید کی نماز کے بعد سو گیا تو ان کا فون آگیا، مجھے اپنی کوتاہی پر سخت شرمندگی ہوئی اور یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی سنگین جرم کا مرتکب ہوا ہوں۔ پچھلے سال ان کے گھر پر ملنے گیا تو ان کی عمر 102 سال تھی۔ بہت کمزور ہوچکے تھے۔ مگر یادداشت جوانوں کی طرح قائم تھی۔ مجھے انھوں نے قائد اعظم ؒ کے بارے میں ایک نایاب کتاب دی اور جب کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اس پر لکھا ’’ڈئیر ذوالفقار، تم اس طرح کے سول سرونٹ ہو جس طرح کے قائد اعظم دیکھنا چاہتے تھے‘‘ تو میری آنکھیں بھیگ گئیں اور میں نے عقیدت سے ان کے ہاتھ چوم لیے۔ کافی دیر بعد جب ان کو کمرے میں لے جانے کے لیے ان کی صاحبزادی نے سہارا دے کر انھیں وہیل چیئر پر بٹھایا تو دل بہت دکھی ہوا اور وہ وقت یاد آگیا جب انتہائی خوش لباس، وجیہہ اور بارعب پرنسپل شیخ امتیاز علی خود کار ڈرائیو کرتے ہوئے لاء کالج کی حدود میں داخل ہوتے تو کالج میں بھونچال آجاتا، بڑے بڑے پھنّے خان دبک جاتے اور دوڑ کر اپنی کلاس روموں میں داخل ہوجاتے۔ آخری ملاقات کے بعد مجھے دھڑکا ہی لگا رہتا تھا، ایک دو بار ان کی صاحبزادی کے داماد ڈاکٹر احمد جاوید کا فون آیا تو میں نے گھبرا کر پوچھا، ’’ شیخ صاحب خیریت سے ہیں ناں‘‘ مگر بالآخر یہ ہونا ہی تھا۔ 5 جولائی کو میں پی ایم اے کاکول میں ایک لیکچر کے سلسلے میں گیا ہوا تھا جب ڈاکٹر احمد جاوید کے میسج کے ذریعے معلوم ہوا کہ علم ودانش کا چراغ گل ہوگیا ہے۔ ہمارے جلیل القدر استاد اور بے مثل منتظم پروفیسر شیخ امتیاز علی صاحب اپنے خالق ومالک کے حضور پیش ہوگئے ہیں، اور ان کے ساتھ ہی شعبۂ تعلیم میں انصاف، میرٹ اور اصولوں کی پاسداری کے شاندار اور سنہری دور کا خاتمہ ہوگیا۔حکومت کو چاہیے کہ لاہور کے کسی بڑے کالج اور کسی اہم شاہراہ کو پروفیسر امتیاز کے نام سے منسوب کردے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے استادِ محترم کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل