Tuesday, July 14, 2026
 

گم شدہ پشتون راجپوت

 



محمود غزنوی شمالی ہندوستان پر سترہ حملے کرنے اورچانددیوتا کا ایک بت توڑنے کے بعد بت شکن، مجاہد اسلام اورغازی بن گیا ، اپنی سلطنت کو مالامال ، رعایا کوخوشحال اورخود کو فارغ البال کرگیا تو حضرت اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ بننے کا خیال آیا ، اسے بھی نیکیوں کاخیال آیا، دوسری نیکیوں کا پتہ تو اسلامی تاریخی ناول نگاروں کو ہوگا ، ہمیں اس کی جس ’’نیکی ‘‘ کا پتہ ہے اورجس کے پھل ہم ابھی تک کھارہے ہیں، اس کایہ ’’نیک‘‘ کام ہے کہ اس نے پشتو کو دیوناگری رسم الخط سے عربی رسم الخط میں منتقل کیا ، یہ کام اس کے وزیر حسن نے قاضی سیف اللہ نام کے ایک شخص کے حوالے کیا۔ قاضی نہ تو عالم تھے نہ ماہرلسانیات، صرف ایک روایتی درباری ملا تھے چنانچہ اس نے عربی کے اٹھائیس حروف لیے اور چھیالیس آوازوں کو اس میں ٹھونسنا شروع کیا، وہ یہ سمجھ ہی نہیں پایا کہ عربی میں بے شک اٹھائیس اورہمزہ کے ساتھ انتیس حروف ہیں لیکن عربی لسانی نظام جو ایک مالا مال مکمل اورفصیح وبلیغ نظام ہے۔  اس میں اضافتیں یعنی زیر زبر پیش بھی ہیں جو لفظ کے معانی کو بدل دیتے ہیں بلکہ ڈبل زبر، زیر، پیش بھی مفہوم بدل دیتے ہیں اوراس کے علاوہ شد اورمد بھی ہیں۔ یوں اگر پورے عربی لسانی نظام کو اپنایا جاتا ہے تو کوئی مسلہ نہ ہوتا لیکن یہاں انتیس حروف تہجی لیے گئے ،گویا بچے کا لباس بڑے کو پہنانے کی کوشش کی گئی ، نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی پشتو کی رسم الخط اوراملا ایک چیستاں بنا ہوا ہے ، سرچھپائیں تو پیر ننگے ہوجاتے ہیں اورپیر چھپائیں تو سر۔لیکن اصل قیامت یہ نہیں تھی بلکہ یہ تھی کہ قومیت کو مذہب کے ساتھ مشروط کیا گیا اورصرف وہی لوگ ’’پشتون‘‘ قراردیے گئے جو مسلمان ہوئے تھے اورعربی رسم الخط کو اپنا لیا تھا اورجو مسلمان نہیں ہوئے یااپنے رسم الخط پر رہ گئے تھے، ان کو اسلام بدر کرنے کے ساتھ پشتون بدر بھی کردیا گیا، یعنی مذہب کے ساتھ قومیت سے بھی نکالا گیا ۔ یوں پشتونوں کا تین چوتھائی حصہ اپنے نوشتوں، تاریخ ،عقائد، ادب اور ثقافت کے ساتھ کاٹ کر کفر کے دریا میں بہا دیا گیا، یہی وجہ ہے کہ آج پشتون دعویٰ تو پنج ہزارسالہ پرانی قوم کاکرتے ہیں لیکن ہزارآٹھ سوسال سے پرانا ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ تاریخ نہ ثقافت نہ عقائد ونظریات نہ ادب وشاعری، ایسا لگتا ہے جیسے یہ قوم اچانک ہزارآٹھ سو سال پہلے پیدا ہوگئی ہو، بلکہ غالباً اسی زمانے سے اسلام کاٹھیکہ بھی ان کے نام کردیا گیا تھا جو ابھی تک چل رہا ہے ۔ دعویٰ اور  طرہ امتیاز یہ ہے کہ دیکھو، عرب بھی سارے مسلمان نہیں لیکن ہم پشتون سارے کے سارے من حیث القوم مسلمان ہیں اوراس کی حقیقت میں نے بتادی کہ دیونا گری رسم الخط والے تو کاٹ کر الگ پھینک دیے گئے اورساتھ ہی سارا قدیم قومی ورثہ اوراثاثہ بھی۔ اس کا ثبوت بھی موجود ہے۔ آپ ویدیں، رامائن، مہا بھارت پڑھیں تو ان قدم نوشتوں یا کتابوں میں نام اورعلاقے جنوب مشرقی افغانستان، خیبرپختونخوا اور گندھارا کے ہیں ۔ پھر ہوا یوں کہ ان الگ کیے جانے والوں کو راجنٹر( راج جن) کہا جاتا تھا ، چارسدہ، استی نگر کا قدیم نام پشکلاوتی تھا اور راجدھانی کا نام استی نگر جیسے مہابھارت میں استنا پور کردیا گیا ہے ، اودیانہ (سوات) کو اودھ اورایودھیا کردیا ہے ، سب سے بڑی یونیورسٹی بھی گندھارا (ٹیکسلا) میں تھی ، کورووں کی ماں گندھاری، راجہ گندھار کی بیٹی، چارسدہ کے پہلو میں ایک گاؤں ہے ’’رزڑ‘‘ جس کی مٹھائی اورکھدر مشہور ہے، یہ بھی راج جن ، راجنٹر سے رزڑ ہوا ہے ، صوابی میں ایک وسیع علاقہ بھی ٹپہ رزڑ رراجنٹر کہلاتا ہے ، یہی راجنڑ ((راجاؤں کی اولاد ) تھی جسے شہنشاہ اکبر نے ’’راجپوت‘‘ میں بدل دیا ، راجہ مان سنگھ کا تعلق بھی انھی سے ہے یعنی راجاؤں کی اولاد  آپ راجستھان میں جاکر دیکھیں وہی بڑی بڑی پگڑیاں ، خواتین کے گھٹنوں تک لٹکے ہوئے گھونگھٹ اورپشتونوں کی طرح بات بات پر مرنے اورمارنے کارحجان۔کچھ عرصہ پہلے راجستھان کا ایک گلوکار انڈین آئیڈل میں مشہورہوا تھا نام تھا ، سروپ خان ، ایسے نام میں نے خودراجستھان میں اوربھی سنے ہیں، بھارت کا صوبہ ’’آندھرا‘‘ پردیش جو پہلے حیدر آباد دکن ہوا کرتاتھا ، مقامی آندھرا لوگ خودکو پشتون کہتے ہیں کیوں کہ پشتونوں کا ایک بڑا حصہ قبیلہ اندڑیا اندھڑ کہلاتا ہے ، غالباًماضی میں ’’اندردیوتا ‘‘ کے ماننے والے تھے ، اندڑ غزنی میں ایک پوری ولایت ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی ایک جگہ موجود ہے بلکہ سندھ میں بھی ایندھڑکے نام سے معروف ہیں، یہ راجپوت کہلاتے ہیں، انھی میں ایک اسکالر ڈاکٹر عبدالوحید نے اردو میں ایک کتاب ’’تاریخ ایندھڑ ‘‘ لکھی ہے۔ان کے مطابق ان کاجداعلیٰ جو ہندو تھا، راجستھان میںراجہ تھا لیکن اپنے چچا زادوں سے شکست کھا کر سندھمیںآیا تھا جہاں ایک بزرگ نے انھیں پناہ دی اورکچھ عرصہ بعد وہ ان کے ہاتھوں مسلمان ہوگیا،سندھی ایندھڑاسی کی اولاد ہیں ۔ خلاصہ ان ساری باتوں کایہ ہے کہ ڈیوائڈ اینڈ رول کے مارے ہوئے پشتون اورراجپوت ایک ہی ہیں، جس طرح غرزئی غلزئی ،گرجارا،گرجرا، گرجر اورگجر ایک ہیں ، وسط ایشیا میں گرجستان ، جارجیا اورگورگاں بھی یہ ثبوت فراہم کرتے ہیں ۔لیکن محمود غزنوی نے ’’سارے مسلمان‘‘ کاطرہ پشتونوں کے سر پر رکھنے اورخود غازی اسلام بنانے کے لیے ’’غیرمسلمان‘‘ پشتونوں کو اپنی تاریخ ، نوشتوں اوراثاثے سمیت دین بدر اورقوم بدر کردیاتھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل