Loading
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کو کوئی منصوبہ نہیں ہے کیونکہ واشنگٹن کی جانب سے گزشتہ ماہ دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی جاری ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی توجہ اس وقت اپنی حدود میں امریکا کے حملوں کے خلاف دفاع اور جواب دینے پر مرکوز ہے۔
امریکا کی جانب سے ایران کو حملوں کے ذریعے مذاکرات پر مجبور کرنے کے دعوؤں پر انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور دفاع پر توجہ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ایران 17 جون کو امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے شرائط پر مزید پابند تصور نہیں کرتا کیونکہ امریکا معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت باہمی وعدوں کا مجموعہ ہے اور دوسرے فریق کی جانب سے خلاف ورزی کے بعد ہم بھی اپنے وعدے پورے کرنے کے پابند نہیں رہیں گے، یہ ایک اصولی بات ہے اور یہی راستہ آگے بھی اپنایا جائے گا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ مخالف فریق برے ارادوں کے ساتھ مصروف ہے اور مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کے پہلے دن سے ہی اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران کے اندر ہر کوئی امریکا اور اس کے جابرانہ مطالبات کے خلاف کھڑے ہونے کی پالیسی کی حمایت کر رہا ہے، ہماری مسلح افواج کسی بھی جارح پسند کو پوری قوت کے ساتھ جواب دیں گی، اگر کوئی حملہ ہوا تو وہ اس کا جواب دیں گی۔
خیال رہے کہ ایران کے اعلیٰ عہدیدار کا ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں پر امریکی حملے جاری ہیں اور جس کے بارے میں امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کی آبنائے ہرمز میں حملوں کی صلاحیت کمزور کردی ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کی ذمہ داری ان کے پاس ہے جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم بحرہ گزرگاہ ہے اور یہ 14 نکاتی مفاہمتی یاد داشت کی پانچویں شق اور اس پر واشنگٹن اور تہران پر اتفاق کیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل