Loading
سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے بعد ضمانت کے مقدمات میں اپیل کے دائرہ اختیار سماعت سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا، جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 3رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
وکیل درخواست گزار عباد الرحمان لودھی نے کہا کہ ہائیکورٹ کے حتمی فیصلہ کیخلاف اپیل آئینی عدالت جائے گی جبکہ ضمانت نہ ملنے پر کیس سپریم کورٹ سنے گی۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ملزم کو ضمانت دینے پر درخواست کو اپیل میں تبدیل کیا جاتا ہے، ایسا کرنے سے سپریم کورٹ اپیلٹ فورم بن جائے گی جبکہ نیب قانون کے مطابق اپیلٹ فورم وفاقی آئینی عدالت ہے، ضمانت کیسز میں سپریم کورٹ اپیلٹ اتھارٹی کیسے بن سکتی ہے، سپریم کورٹ ضمانت کے کیسز سنے اس کیلئے قانونی راستہ دکھائیں۔
عباد الرحمان لودھی نے کہا کہ خدا کا واسطہ ہے انتظامیہ کے خفیہ مقاصد کیلیے اپنا اختیار سرنڈر نہ کرے، سپریم کورٹ کے پاس کوئی اختیار تو رہنے دیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہم نے کوئی اختیار سرنڈر نہیں کیا، 27ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ نے کی تھی، سپریم کورٹ نے تھوڑی کی ہے۔
عباد الرحمان لودھی نے کہا کہ قانون نے ضمانت سننے کا اختیار وفاقی عدالت کو نہیں دیا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل آئینی عدالت جائے گی، کیا ہم نئی کھڑکی کھول کر کہہ سکتے ہیں کہ ضمانت ہم سنیں گے، کیا ایسے کوئی عدالتی نظائر ہیں جہاں اپیل کا فورم نہ ہونے کے باوجود سپریم کورٹ نے کیس سنا ہو، ہم آپ سے بیچ کا راستہ پوچھ رہے ہیں۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ نیب ترمیم ایکٹ میں ضمانت کا تو لفظ ہی نہیں ہے۔ وکیل نے کہا کہ 5 مارچ کو قانون آیا، 18 مارچ کو سپریم کورٹ نے ضمانت دی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالت میں بتایا گیا گریس کا مظاہرہ کیا گیا۔
وکیل نے کہا گریس کا مظاہرہ کیا ہوا، پورا آرڈر پڑھیں سمجھ آجائے گی۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کہیں ایسا تو نہیں جہاں فیور دینی ہو وہاں کھڑکی کھلی چھوڑ دی گئی ہو۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ماضی میں ضمانت کے مقدمات میں ایسے فیصلے بھی دیے جہاں پورا کیس کھول دیا گیا۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ میں آپکی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں، سپریم کورٹ ماضی میں ضمانت کیس میں پورا کیس ہی طے کرتی رہی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کی ایک مثال خواجہ سعد رفیق ضمانت کیس ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کہیں ایسا تو نہیں نیب ترمیم آپ نے کرائی ہو؟ اٹارنی جنرل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا مختصر ترین جواب ہے، نہیں۔ بعدازاں عدالت نے سماعت مکمل کرلی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا فیصلہ دو روز میں جاری کیا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل