Thursday, July 16, 2026
 

جنک فوڈ

 



پرانی بات ہے جب میں گورنمنٹ ڈگری جامعہ ملیہ کالج ملیر میں پڑھایا کرتی تھی، یہ میرا پہلا اپائنمنٹ تھا، وہیں میری دوست اورکولیگ پروفیسر اختر فاطمہ بھی پڑھاتی تھیں، جن کا اپائنمنٹ بھی اسی دن ہوا تھا جس دن میرا، ہم دونوں ریڈیو کے ’’بزم طلبا‘‘ پروگرام میں تواتر سے جاتے تھے، وہ فیڈرل بی ایریا بلاک نمبر 13 میں رہتی تھیں اور ہمارا گھر ہاؤسنگ سوسائٹی میں تھا۔ اس وقت سوسائٹی میں صرف چند گھر بنے تھے اور آج جہاں طارق روڈ ہے وہاں صرف سناٹا تھا اور وہاں 36 نمبر کی بس چلا کرتی تھی، میں اور اختر فاطمہ اکثر اکٹھے گھر جاتے تھے، فیڈرل بی ایریا 13 نمبر میں لب سڑک دو مشہور ہوٹل تھے۔ ایک ’’ تاج محل‘‘ اور دوسرا ’’ گلستان ہوٹل۔‘‘ اس ہوٹل کا کھانا بہت لذیذ ہوتا تھا اور بالکل گھر کا ذائقہ آتا تھا، وہاں نہاری، کوفتے، قیمہ آلو، سبزی، آلو گوشت اور مختلف سالن بنتے تھے۔ ہم لوگ اختر فاطمہ کے چھوٹے بھائی سے زیادہ تر کوفتوں کا سالن اور آلو گوشت منگایا کرتے تھے، تازہ تازہ ہرا دھنیا گرم مسالہ اور ہری مرچ ڈلا ہوا سالن نہایت لذیذ ہوتا تھا۔ ’’ تاج محل‘‘ والا سیخ کباب اور نہاری بناتا تھا اور دونوں ہوٹل خوب چلتے تھے۔ دوپہر ہو یا رات ان ہوٹلوں میں کھانے والوں کا اور پارسل لے جانے والوں کا رش رہتا تھا، اسی طرح بندر روڈ پر دو مشہور ہوٹل تھے، ایک ’’ دہلی مسلم ہوٹل‘‘ اور دوسرا ’’کالی ہوٹل‘‘ کراچی کے باسی ان ہوٹلوں سے بہت اچھی طرح واقف تھے، اول الذکر ہوٹل میں بریانی، گولہ کباب، سیخ کباب ملتے تھے اور دوسرے میں صرف دہلی کا خوشبودار قورمہ۔ لوگ دور دور سے ان ہوٹلوں میں آتے تھے، یہ ہوٹل سول اسپتال کے بالکل مخالف سمت میں تھے، میرے والد اکثر ہم سب کو ’’ کالی ہوٹل‘‘ لے جاتے تھے جہاں گرما گرم تندوری روٹی اور شیرمال ہمیشہ ملتی تھی، یہ وہ ہوٹل ہیں جہاں ہم نے خوب کھانا کھایا ہے، میرے شوہر قاضی اختر جونا گڑھی کو دونوں ہوٹلوں کے کھانے پسند تھے، انھیں بندر روڈ لائٹ ہاؤس پر سرتاج ہوٹل کی بکرے کی تندوری ران بہت پسند تھی۔ اس کے علاوہ کراچی شہر میں جگہ جگہ اور بھی ہوٹل تھے، جہاں روایتی کھانے ملا کرتے تھے، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ان روایتی کھانے تیار کرنے والے ہوٹلوں پر جیسے جھاڑو پھر گئی ۔ جن ہوٹلوں کا ذکر میں نے کیا ہے وہ سب قصہ پارینہ بن گئے۔ اب ڈھونڈے سے بھی کوئی ایسا ہوٹل آپ کو نہیں ملے گا جہاں ہمارے مغلئی اور روایتی کھانے ملتے ہوں، ہم جب بھی لاہور جاتے وہاں بھی کلچہ تل والا، قورمہ اور قیمہ کھائے ہیں، جن ہوٹلوں کا ذکر میں نے کیا ہے، وہاں پائے بھی بنتے تھے، ہم نے لاہور میں لنچ میں خوب پائے کھائے ہیں لیکن دیکھتے ہی دیکھتے سب ختم ہو گیا۔ 2015 میں مارچ کے مہینے میں ایک مشہور ادیب اور کالم نگار نے ہماری دعوت کی، وہ ہمیں لاہور کے معروف لکشمی چوک لے گئے جہاںکے ریستوران میں زیادہ تر چکن کے آئٹم تھے جو آرڈر کیے گئے۔ میں نے اپنے میزبان سے کہا کہ میں چکن نہیں کھاتی تو انھوں نے فوراً سیخ کباب منگوا دیے جو بہت لذیذ تھے لیکن انھوں نے اصرار کیا کہ دو نوالے ملائی بوٹی کے ضرور کھائیں، میں نے ان کا دل رکھنے کے لیے دو تین بوٹیاں اٹھا کر اپنی پلیٹ میں ڈالیں اور ایک نوالہ منہ میں رکھا تو حیران رہ گئی، بہت لذیذ تھی اور اس میں ناگوار مہک نہیں تھی، اس دن کے بعد میں ملائی بوٹی کھانے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے روایتی کھانے غائب ہو گئے اور ان کی جگہ جنک فوڈ نے لے لی، جہاں دیکھیے پیزا، برگر اور بروسٹ دستیاب ہے، جن کے ساتھ کولڈ ڈرنک لازمی ہے۔ ’’جنک فوڈ‘‘ یعنی ردی اور فضول۔ لوگ گھروں کا کھانا نہیں کھاتے، خصوصاً نوجوان اور بچے، سب غٹاغٹ کولڈ ڈرنک اپنے معدے میں اتارتے ہیں، جس کا نتیجہ موٹاپے کی شکل میں نکلتا ہے۔ موٹاپا بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے۔ جیسے السر، شوگر اور معدے کی تیزابیت، دل کے امراض الگ ہیں۔ انھیں کئی کئی دن کے پرانے تیل میں تلا جاتا ہے، جو زہر بن جاتا ہے اور متعدد بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ پچھلے دنوں میرا بیٹا اسلام آباد سے آیا ہوا تھا، وہ بازاری کھانے سے پرہیز کرتا ہے اور مہینے میں ایک بار بد پرہیزی کرتا ہے۔ ایک دن اس نے کہا کہ وہ آج چکن بروسٹ کھائے گا، وہ والا جو امریکا کی فوڈ چین کا ہے، گھر میں کھانا پکا ہوا تھا، لیکن اس کی خواہش میں نے رد نہ کی، جب وہ بروسٹ اور کولڈ ڈرنک لے کر آیا تو میں کھانا لگا چکی تھی، ہم نے پلاؤ اور رائتہ بنایا تھا ساتھ میں شامی کباب بھی تھے، میرے بیٹے نے بروسٹ نکال کر پلیٹوں میں رکھا اور ایک بروسٹ میری طرف بڑھا کر بولا کہ میں یہ ٹیسٹ کروں، میں نے اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے لیگ پیس اٹھایا تو وہ میدہ اور چاول کے آٹے سے بندھا ہوا تھا، جوں ہی اسے توڑنا چاہا تو اوپر لگا ہوا میدہ اور چاول کی پرت باہر آ گئی اور اندر سے بالکل سفید ٹانگ نکل آئی، چکھ کر دیکھا تو بالکل بے مزہ، نہ مسالہ نہ کوئی ذائقہ، ایسا لگ رہا تھا جیسے بھاپ میں پکی ہوئی چکن ہو۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اتنی بے مزہ بروسٹ لوگ کیسے کھا لیتے ہیں۔ ہوٹلوں سے ہمارے روایتی کھانوں کا غائب ہونا اور ان کی جگہ غیرملکی کھانوںکا اچانک آ جانا ایک بڑا ثقافتی اور معاشی بدلاؤ ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں کھانے کو ہمیشہ ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ ہمارے روایتی کھانے جیسے بریانی ، پلاؤ، قورمہ، آلو گوشت، شلجم گوشت، شب دیگ، شملہ مرچ اور قیمہ، دال چاول، سبزیاں صرف غذا نہیں رہی بلکہ ہماری تاریخ، محبت اور مہمان نوازی کے امین رہے ہیں، تاہم پچھلی چند دہائیوں سے ہمارے ہوٹلوں اور ریستورانوں کا منظرنامہ تیزی سے بدلا ہے، اب روایتی کھانوں کی خوشبو مدھم ہو رہی ہے، ہر موڑ پر اور بڑے ریستورانوں میں برگر، پیزا، فرائڈ رائس، چائنیز کھانے اور فرائڈ چکن ہر جگہ نظر آتے ہیں، یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے کئی معاشی، سماجی اور نفسیاتی عوامل کارفرما ہیں۔ پھر بھی شہر میں اب بھی نہاری شوق سے کھائی جاتی ہے اور نہاری کے ہوٹل ہمیشہ لوگوں سے بھرے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح جگہ جگہ بریانی اور پلاؤ بھی بکتا نظر آتا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اور نوجوان نسل جنک فوڈ کی دیوانی ہے، جس سے صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ البتہ جنک فوڈ کے ساتھ حلیم بھی مقبول ہے۔ ہمارے معاشرے میں جنک فوڈ برانڈز پر جانا، وہاں سالگرہ منانا اور فیملی کے ساتھ وہاں تقریبات منعقد کرنا اب اسٹیٹس سمبل بن گیا ہے، لوگ ان جنک فوڈ میں جا کر خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگتے ہیں۔ بین الاقوامی جنک فوڈ اور Chain نے خود کو اس طرح مارکیٹ کیا ہے کہ نئی نسل روایتی ڈھابوں اور ہوٹلوں پر بیٹھ کر دال روٹی یا سالن کھانے کو پسماندگی کی نشانی سمجھنے لگی ہے۔ جنک فوڈ کمپنیوں کا مارکیٹنگ بجٹ اربوں روپے پہ محیط ہوتا ہے۔ ٹی وی، سوشل میڈیا اور اشتہاری بڑے بڑے بورڈ پر برگر اور پیزا کی دلکش تصاویر اور ویڈیوز بچوں اور نوجوانوں کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ اس کے برعکس روایتی کھانے بیچنے والے اور چھوٹے ہوٹل اس سطح کی اشتہار بازی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حلیم، نہاری اور پلاؤ بیچنے والے صرف قرب و جوار میں مشہور ہوتے ہیں۔ ان کے کاروبار میں اشتہار بازی کے بجائے ذائقہ دار کھانے ہی ان کا اشتہار ہوتے ہیں لیکن والدین بھی بعض اوقات بچوں کی ضد کے آگے مجبور ہو جاتے ہیں۔ گھر میں آلو کی طاہری پکی ہے، رائتہ بھی ہے، سلاد بھی ہے، اچار بھی ہے لیکن بچے ضد کرکے برگر یا پیزا لے آتے ہیں اور گھر کا کھانا ضایع ہو تا ہے، اس لیے مائیں اب کھانا پکاتی ہیں تو اتنا کہ میاں بیوی کھا لیں اور بچوں کو جنک فوڈ مل جاتا ہے۔ میں نے ایک سے زائد گھرانوں میں دیکھا ہے کہ دوپہر اسکول سے آنے کے بعد بچے کپڑے بدل کر جنک فوڈ لینے جاتے ہیں، رنگ دار کولڈ ڈرنک بھی معدے میں تیزابیت پیدا کرتے ہیں، موٹاپا آج نئی نسل کا عذاب بن گیا ہے، چھوٹی عمر میں گیس کی شکایت، معدے کے امراض اور شوگر جیسی بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ میرے قریبی رشتہ داروں میں ایک فیملی ایسی ہے جہاں دن کو اور رات کے ہر کھانے کے ساتھ خواہ وہ دال چاول ہوں یا سبزی ترکاری، کولڈ ڈرنک کی جمبو سائز کی بوتل ہمیشہ ہوتی ہے۔ مہینے کا سودا سلف جب آتا ہے تو بڑی تعداد میں کولڈ ڈرنک کی بڑی بوتلیں بھی آتی ہیں۔ خاتون خانہ کے گردے میں پتھری ہو گئی ہے، ڈاکٹر نے گردے کی پتھری کو شعاعوں کے ذریعے نکالنے کے لیے کہا ہے، لیکن جب ان کے گردوں پہ شعاعیں ڈالی جاتی ہیں تو پتھری جگہ بدل لیتی ہے اور شعاعیں اسے توڑنے میں ناکام رہتی ہیں۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ کولڈ ڈرنک کے زیادہ استعمال سے پتھری ہوتی ہے۔ ڈاکٹروں نے سختی سے جنک فوڈ اور کولڈ ڈرنک کے استعمال سے منع کیا ہے لیکن وہی مثال ہے کہ ’’چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔‘‘ تو وہ صاحبہ جب موقع ملتا ہے کولڈ ڈرنک معدے میں انڈیل لیتی ہیں۔ اس کے بعد گردوں میں درد ہوتا ہے تو پین کلرز لینی پڑتی ہے۔ آیندہ آنے والے سالوں میں بلڈ پریشر، شوگر اور معدے کی تیزابیت تیزی سے بڑھے گی اور صحت کا ستیاناس کرے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل