Loading
کراچی اور سندھ کے دیگر حصوں میں منہ کے کینسر کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے ، یہ بیماری خاص طور پر نوجوانوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے جبکہ صوبے میں کینسر کیلیے مخصوص اسپتال کی کمی ہے.
ماہرین صحت کے مطابق منہ کے کینسر میں تیزی سے اضافہ کی وجہ گٹکا ، ماوا ، پان ، چھالیہ اور تمباکو کی مصنوعات کے بڑے پیمانے پر استعمال ہے.
سب سے زیادہ کیسز کراچی کے ضلع جنوبی اور دیگر ساحلی اور مضافاتی علاقوں سے رپورٹ ہوئے ہیں، پچھلے پانچ سال کے دوران سندھ میں منہ کے کینسر کے کیسز میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ سے کم عمر مریضوں کی اموات بھی بڑھ گئیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کے علاج کی جامع سہولت کی عدم موجودگی نے مریضوں کیلئے سنگین چیلنجز پیدا کر دیے.
کراچی میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مراکز میں ریڈی ایشن تھراپی دستیاب ہے لیکن بڑھتی طلب کو پورا کرنے کے لئے موجودہ سہولیات ناکافی ہیں ۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سندھ میں منہ کے کینسر کی شرح پاکستان میں سب سے زیادہ ہے جس کی بنیادی وجہ گٹکا ، مین پوری ، ماوا ، چھالیہ اور تمباکو کی مصنوعات کا وسیع پیمانے پر استعمال ہے.
کراچی کینسر رجسٹری نے 2017 سے 2021 کے درمیان سندھ میں منہ کے کینسر کے 65,886 کیسز ریکارڈ کئے جبکہ ڈاؤ کینسر رجسٹری نے 2010 سے 2019 کے درمیان منہ اور ہونٹوں کے کینسر کے 22,858 کیسز رپورٹ کئے ۔
سول اسپتال کے شعبہ کینسر کے سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نور محمد سومرو نے کہا کہ گٹکا ، ماوا ، چھالیہ اور پان کے استعمال سے سندھ میں نوجوانوں میں منہ کے کینسر میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
ڈاکٹر سومرو نے سندھ میں ایک مخصوص کینسر ہسپتال کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ایک ہی چھت کے نیچے علاج کی مکمل سہولیات فراہم کی جاسکیں ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل