Loading
وفاقی ادارہ شماریات ہر ہفتے مہنگائی بڑھنے اور کم ہونے کے جو اعداد و شمار جاری کرتا ہے، وہ عجیب و غریب ہی نہیں بلکہ عوام کے لیے نہ سمجھ میں آنے والے ہوتے ہیں جس کی ایک مثال جولائی کے ابتدائی دنوں میں جاری کی گئی۔ وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہفتہ وار مہنگائی 0.98 فی صد کم ہوئی جب کہ رپورٹ کے مطابق 23 اشیا مہنگی اور 11 سستی ہوئی ہیں۔
ادارہ شماریات نے یہ واضح نہیں کیا کہ جب 23 اشیا مہنگی اور نصف سے بھی کم صرف گیارہ اشیا سستی ہوئیں تو مہنگائی 0.98 فی صد کم کیسے ہوگئی؟ سالانہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار 13.52 فی صد ریکارڈ سطح پر برقرار رہی ہے۔
ادارہ شماریات ٹماٹر، آلو، پیاز کی قیمتوں میں اضافہ بتا رہا ہے جو روزانہ ہر گھر کی ضرورت ہوتی ہیں جب کہ صابن، کھلے دودھ، انڈوں، ماچس، بریڈ، چکن کی قیمتوں میں بھی اضافہ بتایا گیا ہے جن میں چاول، دودھ اور انڈے بھی روزانہ ہی استعمال میں آتے ہیں جب کہ معمولی کمی والی اشیا میں صرف چکن اور سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا ذکر ہے اور شاید اسی لیے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہفتہ وار مہنگائی 0.98 فی صد کم ہوئی ہے جب کہ روزانہ گھریلو استعمال میں آنے والی تمام سبزیوں کے نرخ جون کے آخر میں ہی بڑھنا شروع ہوگئے تھے ۔
محکمہ شماریات اپنے اعداد و شمار اسلام آباد سے جاری کرتا ہے جو پوش شہر ہے جب کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی غریبوں کی اکثریت والا شہر شمار ہوتا ہے جس کے بعد لاہور ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ بھی غریب پرور شہر ہے جہاں سبزیوں اور دودھ سمیت متعدد اشیا کے نرخ کراچی سے کم ہیں اور غریب بھی اپنا گزارا کر لیتے ہیں۔ پشاور اور کوئٹہ میں سبزیوں کے نرخ اکثر زیادہ ہی دیکھے گئے ہیں۔
ملک کا سب سے بڑا شہر ہونے کے باعث کراچی میں ہر چیز کی کھپت زیادہ ہے جہاں لاہور کی طرح سبزیاں اور پھل بیرونی شہروں سے آتے ہیں جہاں بڑی مارکیٹ ہونے کے باعث بہت کم اشیا خوردنی کے نرخ کم بھی ہوتے ہیں اور اکثر مارکیٹوں کے برعکس اندرون شہر بھی علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں مگر رمضان المبارک کیسوا کراچی انتظامیہ گیارہ ماہ سوئی رہتی ہے اور منافع خور من مانے نرخوں پر شہریوں کو لوٹتے رہتے ہیں اور انھیں کوئی نہیں پوچھتا۔ جو اعداد و شمار جاری ہوتے ہیں، ان میں قیمتوں کی کمی و بیشی کے شہروں کا نام نہیں بتایا جاتا جس کی وجہ سے مذکورہ ہفتہ وار رپورٹ کراچی کے نرخوں سے اکثر مختلف ہوتی ہے۔
کراچی میں دودھ کی کھپت زیادہ ہے اور انتظامیہ دودھ کے نرخ بھینسوں کے باڑوں والوں کی خوشنودی کے لیے ان کے دباؤ میں آ کر جاری کرتی ہے مگر معیار کوئی چیک نہیں کرتا جس کی وجہ سے سرکاری نرخ 240 روپے لیٹر مقرر ہے مگر شہر میں دودھ 160 سے ڈھائی سو روپے لیٹر کیوں اور کیسا فروخت ہو رہا ہے اس کی کسی کو فکر نہیں کہ سفید دودھ کے نام پر اصل دودھ مل رہا ہے یا کیمیکل والا، مگر کوئی چیک کرنے والا نہیں نہ ادارہ شماریات کی دودھ کے مختلف نرخوں پر توجہ ہے۔
کراچی واحد شہر ہے جہاں دہی کے سب سے زیادہ نرخ پر کسی ادارے یا انتظامیہ کی بالکل توجہ نہیں ہے جس کی وجہ سے دہی 380روپے سے 400 روپے کلو فروخت ہو رہی ہے جب کہ لاہور میں دودھ دہی کے نرخوں میں صرف 20روپے کلو کا فرق ہے جہاں دہی کا استعمال زیادہ ہے جو صحت کے لیے مفید بتائی جاتی ہے مگر ادارہ شماریات کی رپورٹ میں دہی کے نرخوں کا ذکر ہی نہیں ہوتا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل