Loading
تیرہ ہزار297 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے اور تقریباً50 لاکھ آبادی رکھنے والے آزاد کشمیر میں 27جولائی2026کو عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے لیے یہ11 ویں عام انتخابات ہیں ۔ پچھلے سات عشروں کے دوران خالص کشمیری جماعتوں اور نون لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے وزرائے اعظم ، باری باری، کشمیری اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھ چکے ہیں ۔
گویا آزاد کشمیر کے اقتدار سے کشمیر اور پاکستان کی سبھی بڑی جماعتیں لطف اندوز ہو چکی ہیں ۔ ایک حقیقت مگر مرکزی اور نیوکلیس کا درجہ رکھتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے اقتدار پر براجمان ہونے والے ہر فرد کو ( خواہ وہ وزیر اعظم تھا یا صدر) پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی کسی نہ کسی طرح اشیرواد حاصل رہی ہے ۔ عام خیال یا تصور یہ ہے کہ ان کے بغیر یہ بیل منڈھے چڑھ ہی نہیں سکتی۔ زمینی حقیقت بھی تو یہی ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاسی و عالمی حساس صورتحال کے پیش منظر میں( پسِ پردہ) مذکورہ اشیرواد یا حمائت ضروری بھی ہے ۔
آزاد کشمیر میں27جولائی کو عام انتخابات میں ویسے تو مقامی مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی ، نون لیگ اور پی ٹی آئی بھی حصہ لے رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے جے یو آئی (ایف) سے، مبینہ طور پر، سیاسی و انتخابی اتحاد بھی کرلیاہے۔اِس ضمن میں حضرت مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو زرداری صاحب کی خوشگوار ملاقات بھی ہو چکی ہے۔جب آزاد کشمیر میں مذکورہ انتخابات کا اعلان ہُوا ، اُس وقت وہاں پیپلز پارٹی کی حکومت کا پرچم لہرا رہا تھا ۔ مگر اب عمومی طور پر یہ خیال کیا جارہا ہے کہ الیکشن کے بعد آزاد کشمیر میں نون لیگ کی ’’باری‘‘ ہے کہ وہ حکومت بنائے ۔مگر الیکشن کمپین میں نون لیگ کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
اِس سلسلے میں جولائی کے پہلے ہفتے جب آزاد کشمیر کی دو معروف و محترم نون لیگی سیاسی شخصیات ، ووٹروں کے پاس جانے کے لیے نکلیں تو راستے میں مخالفین نے اُن کے ساتھ جو سلوک کیا، اس نے بتا دیا کہ نون لیگ کو بھی انتخابات میں سیاسی رکاوٹوں کا سامنا ہے اور پیپلز پارٹی کو بھی ۔ نون لیگ کے ایک اور کشمیری رہنما اور سابق وزیر ( اور ہمارے سابق صحافی ساتھی) کو مبینہ طور پر بعض لوگوں نے جنازے میں شرکت نہ کرنے دی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین، بلاول بھٹو زرداری، نے مظفر آباد پہنچ کر انتخابات تک آزاد کشمیر میں ڈیرے ڈالے رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے ۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی کُل سیٹیں 53ہیں۔ اور آزاد کشمیر میں کھمبی کی طرح پھوٹ پڑنے والی کالعدم ’’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ (JAAC) اِن سیٹوں میں کمی کرنا چاہ رہی ہے ۔ پچھلے سال بھی اِس نے پورے آزاد کشمیر کو تقریباً بند کر دیا تھا ۔ خون خرابہ بھی ہُوا تھا اور نصف درجن جانوں کا ضیاع بھی۔ پھر حکومت جھک گئی اور اُن کے 90فیصد مطالبات بھی تسلیم کیے گئے ( سستا ترین آٹا ، سستی ترین بجلی ، مقدمات کا خاتمہ وغیرہ) شائد اِسی’’فتح‘‘ سے حوصلہ اور شہ پا کر اب پھر (عام انتخابات سے قبل) اِس کالعدم کمیٹی نے سر اُٹھایا اور نئے مطالبات سامنے رکھ دیے ۔ نئے مطالبات میں مرکزی اور بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان بھر میں مہاجرینِ کشمیر کی جو12سیٹیں ہیں، ان کا خاتمہ کیا جائے۔
ایکشن کمیٹی کا گمان اور یقین ہے کہ اِنہی 12سیٹوں کی وجہ سے آزاد کشمیر میں اسلام آباد کی مرضی سے حکومت قائم ہوتی ہے۔ اِسی پر پھڈا ہے ۔ ایکشن کمیٹی کئی ہفتوں سے راولا کوٹ میں دھرنا دیے بیٹھی رہی۔ یہ تنازعہ مدہم ہونے کے بجائے ، بڑھ رہا ہے ۔ ایکشن کمیٹی کے کئی کارکنان اور لیڈرز گرفتار بھی کیے گئے۔ جولائی2026کے پہلے ہفتے کالعدم JAAC کے مفرور مرکزی رہنما ( شوکت نواز میر) کو مبینہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے ۔14جولائی2026 کو آزاد کشمیر میں جو مبینہ خونریز ی ہوئی ہے، اِسے نامناسب اور افسوناک ہی کہا جائے گا۔
کشمیری مہاجرین کی12سیٹوں ( جن میں 10تو صرف پنجاب میں ہیں)کے خلاف’’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ کے مزاحمتی و احتجاجی اقدامات (جس کی بنیاد پر بھارتی میڈیا اور انڈین سیاسی رہنما پاکستان کے خلاف بھرپور منفی پروپیگنڈے کررہے ہیں)اور آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال کے پس منظر میں پی ٹی آئی نے، عام انتخابات سے 24روز قبل آزاد کشمیر کے انتخابات کا مقاطعہ (Boycott) کر دیا۔ اِس کاباقاعدہ اعلان پی ٹی آئی کے چیئرمین (بیرسٹر گوہر علی خان) نے بھی کیا اور پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات ( شیخ وقاص اکرم) نے بھی ۔ اِس بائیکاٹ یا مقاطعہ سے سبھی ناراض ہیں ۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ بھی( پی ٹی آئی کے مقاطعہ سے) بظاہر اظہارِ ناراضی کر رہی ہیں ، مگر اندر سے یہ دونوں خوش ہیں کہ اچھا ہُوا ہمارے راستے کا ایک ’’کانٹا‘‘ صاف ہُوا۔ اگر یہ سوچ کہیں موجود ہے تو اِس کی تحسین نہیں کی جا سکتی۔
اہلِ نظر کا مگر کہنا ہے کہ راستہ صاف نہیں ہُوا ، بلکہ راستے میں مزید کانٹے بکھر گئے ہیں ۔ اِن مبینہ کانٹوں کو چننا سہل و آسان نہیں ہے ۔ قومی سلامتی ، قومی یکجہتی اور کشمیر سے اخوت کے رشتوں کے تقاضے یہ ہیں کہ اِن کانٹوں کو جلد از جَلد چُن لیا جائے ۔ پی ٹی آئی تو کالعدم ایکشن کمیٹی کے جملہ مطالبات کی حمائت بھی کر رہی ہے اور اس سے مبینہ یکجہتی کو دکھانے کے لیے کشمیر انتخابات کا مقاطعہ کیا گیا ہے ۔
کشمیر انتخابات کے بائیکاٹ بارے پی ٹی آئی نے 2جولائی2026 کو جو اعلامیہ جاری کیا تھا، وہ خاصا غیر معمولی کہا گیا ہے ۔ پی ٹی آئی کے ہر قسم کے مخالفین کا مگر دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی نے کالعدم ایکشن کمیٹی سے اظہارِ یکجہتی کرکے اور الیکشن کا بائیکاٹ کا اعلان کرکے ’’قومی خدمت‘‘ کا مظاہرہ نہیں کیا ہے اور ایک بار پھر (حسبِ سابق) مرکزِ گریز قدم بھی اُٹھایا ہے ۔پیپلز پارٹی کا مگر کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ کالعدم ’’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ بارے اُس کے اصل اور حقیقی خیالات کیا ہیں؟
سب کا مگر اِس امر پر اتفاق ہے کہ (1) آزاد کشمیر میں کسی احتجاجی و مزاحمتی شخصیت کو ملک دشمن و غدارِ وطن قراردینے سے گریز کرنا چاہیے (2) پی ٹی آئی کو مقاطعہ تج کر انتخابات کے میدان میں اُترنا چاہیے کہ آج تک جس نے بھی انتخابات کا مقاطعہ کیا ہے، بعد میں پچھتایا ہی ہے (3) کالعدم ایکشن کمیٹی کو بھی (اگر اس پر کالعدمی کا داغ اُتر جاتا ہے) مذاکرات و انتخابات میں مردانہ وار حصہ لینا چایئے اور سیٹیں جیت کر آزاد کشمیر پارلیمنٹ کے فلور پر12سیٹوں کے خلاف اپنا مقدمہ لڑنا چاہیے (4) اور اگر12سیٹوں کے خاتمے سے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر بارے پاکستان کا مقدمہ اور دعویٰ کمزور پڑنے کا قوی اندیشہ ہو توکالعدم JAAC کے وابستگان کو اپنی لاحاصل ضد سے دستکش ہوجانا چاہیے ۔
خاص طور پر اب جب کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے چند ایک گرفتار لیڈروں کی جانب سے ، مبینہ طور پر ، کچھ خصوصی انکشافات و اعترافات بھی کیے گئے ہیں، ایکشن کمیٹی کو راہِ راست اختیار کرلینی چاہیے ۔ کہا جارہا ہے کہ یہ ’’ اعترافات ‘‘ آزاد کشمیر میں حالیہ بھارتی شیطانی مداخلتوں کے چہرے سے نقاب اُلٹتے ہیں۔ اورہاں، آزاد کشمیر کے انتخابات سے قبل آئی پی پی نے آزاد کشمیر کی سیاست میں جو انٹری ڈالی ہے ، وہ حیرت انگیز ہے ۔ خاص طور پر آزاد کشمیر کے ایک سابق وزیر اعظم بھی آئی پی پی میں شامل ہو گئے ہیں ۔ اور آئی پی پی کے سربراہ آزاد کشمیر کے اقتدار کا خواب بھی دیکھنے لگے ہیں ۔لگتا ہے جی بی میں کچھ کامیابی کے بعد آئی پی پی کو خاصا حوصلہ ملا ہے ۔ہماری یہ بھی دعا ہے کہ آزاد کشمیر کے جزوی دگرگوں حالات کو سدھارنے کے لیے مولانا فضل الرحمن اور جماعتِ اسلامی قیادت کی جانب سے جو کوششیں بروئے کار ہیں، کامیابی سے ہمکنار ہوں ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل