Loading
مشرق وسطیٰ کا امن تیزی سے بگڑتا نظر آ رہا ہے۔ امریکا ایران جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد ہر دو جانب سے ایک دوسرے پر حملوں کی نئی لہر شروع ہو چکی ہے جس کا دائرہ پھیل کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
بہ طور ثالث پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے دل و جان سے رات دن ایک کرکے دانش مندی، حکمت و بصیرت کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان چار دہائیوں کے بعد مذاکراتی عمل کے ذریعے افہام و تفہیم کے ماحول میں ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کروانے کا امید افزا فریضہ انجام دیا تھا۔ توقع یہ کی جا رہی تھی کہ جنگ بندی کے بعد امریکا اور ایران کی قیادتیں بالغ نظری و دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کے خاتمے اور مذاکراتی عمل سے باہمی تنازعات کو کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر پرامن طریقے سے طے کر لیں گی، مشرق وسطیٰ میں امن بحال ہو جائے گا، عالمی مارکیٹ میں تیل کا بحران ختم ہوگا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کے تجارتی بحری قافلے گزرنے کی راہ ہم وار ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ جو دنیا میں قیام امن اور جنگیں ختم کروانے کی بات کرتے ہیں، پاک بھارت ممکنہ ایٹمی جنگ رکوانے کا کریڈٹ لیتے ہیں ۔ وہی امریکی صدر ٹرمپ ایران کے ایم او یو پر دستخط کے بعد جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایران کو ایک مرتبہ پھر صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی اعلانیہ کہہ دیا ہے کہ ایران اپنے عظیم قائد اور شہید رہنما علی خامنہ ای کے قتل کا انتقام لے گا۔ یوں ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان، چین، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، روس اور دیگر ممالک کی جانب سے ایران امریکا کشیدگی ختم کرانے کے لیے کی جانے والی کوششیں ثمر آور ثابت ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔
امریکا اسرائیل نے ایران پر حملے کا آغاز رجیم چینج کو جواز بنا کر کیا تھا اور ان کا اصل نشانہ ایران کی جوہری تنصیبات اور افزودگی یورینیم کا حصول تھا۔ 39 روزہ جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ایران کی فوجی قوت تیل و بجلی کی تنصیبات تباہ کر دیں، ایران کی بحری، فضائی اور زمینی فوجی صلاحیت تباہ کر دی اور اب ایران ہم سے معاہدہ کرنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔امریکا ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ بندی خاتمے کی وجہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران و عمان کے درمیان واقع دنیا کا سب سے اہم اور معروف ترین سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا بھر کے تجارتی بیڑے گزرتے ہیں بالخصوص تیل کی عالمی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ چین ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے اور پاکستان و دیگر ملکوں کو بھی ایران تیل فراہم کرتا ہے۔
امریکا سے جنگ کے آغاز میں ہی ایران نے ہرمز کو بند کر دیا تھا جس کے باعث پوری دنیا میں تیل کی سپلائی معطل ہوکر رہ گئی تھی۔ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز پر امریکا و ایران کے کنٹرول کے دعوؤں نے صورت حال کو کشیدہ کر دیا ہے۔ امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایرانی جہازوں کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے جب کہ باقی ملکوں کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ صدر ٹرمپ نے پہلے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے حفاظت فراہم کرنے کی مد میں فیس وصولی کا کہا تاہم اب فیس نہ لینے کا اعلان کیا ہے جب کہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اول دن کی طرح ہرمز کا کنٹرول اس کے پاس ہی رہے گا اور اخراجات کی مد میں گزرنے والے بحری قافلوں سے فیس لی جائے گی۔
ایران ہرمز میں اپنا کنٹرول ہر صورت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب، بحرین، کویت، اردن و عمان پر ایرانی حملے خلیج کے مسلم ملکوں کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ ہے۔ پاکستانی قیادت کے لیے یہ گھڑی آزمائش اور مشکل کی ہے کہ ایران بھی برادر اسلامی ملک ہے۔
البتہ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے، حوثیوں کے حملوں سے بڑی علاقائی جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر یمن کا محاذ دوبارہ کھلا تو خلیج سے بحر احمر تک تنازعات کی نئی لہر اور جنگ کے بادل پھیل جائیں گے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے دفاع میں قدم اٹھانا پڑے گا، صورت حال کی نزاکت اور سنگینی کا احساس کرتے ہوئے امریکا و ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرانے اور امن کے لیے اقوام متحدہ چین، روس و دیگر عالمی طاقتیں اپنا کردار ادا کریں۔ امریکا آبنائے ہرمز کو جنگ کا نیا شاخسانہ بنانے سے گریز کرے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل