Thursday, July 16, 2026
 

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور امن کی تلاش

 



امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر شدت اختیار کرتی ہوئی کشیدگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ طاقت کے توازن پر قائم بین الاقوامی نظام میں جنگ محض میدان کارزار تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات معیشت، سفارت کاری، عالمی تجارت، توانائی کی رسد، مالیاتی نظام اور علاقائی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی گھروں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تازہ دھمکیاں صرف ایک عسکری حکمت عملی کا اظہار نہیں بلکہ ایسی سیاسی نفسیات کی عکاس ہیں جو مذاکرات کو دباؤ کے ذریعے ممکن بنانے پر یقین رکھتی ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستوں کی خودمختاری، قومی وقار اور سلامتی کے سوال ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں تو دھمکیوں کی زبان اکثر وہ نتائج پیدا کرتی ہے جو خود دھمکی دینے والے کے مفادات کے بھی خلاف چلے جاتے ہیں۔  جنگی حکمت عملی میں ہمیشہ یہ کوشش کی جاتی ہے کہ مخالف کی عسکری صلاحیت کو کمزور کیا جائے، مگر جب نشانہ فوجی مراکز سے بڑھ کر بجلی گھر، پل، توانائی کے مراکز اور عوامی ڈھانچہ بن جائیں تو معاملہ محض عسکری برتری تک محدود نہیں رہتا بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون، جنگی اخلاقیات اور شہری آبادی کے تحفظ کا سوال سامنے آ جاتا ہے۔ جدید دنیا میں بنیادی تنصیبات کسی ملک کی زندگی کی شہ رگ ہوتی ہیں۔ ان کی تباہی سے صرف حکومت متاثر نہیں ہوتی بلکہ لاکھوں عام شہری اندھیرے، بے روزگاری، خوراک کی قلت، طبی سہولتوں کی کمی اور معاشی ابتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری بارہا اس اصول پر زور دیتی رہی ہے کہ جنگ میں بھی کچھ اخلاقی اور قانونی حدود برقرار رہنی چاہییں۔صدر ٹرمپ کے بیانات کا ایک پہلو مذاکراتی دباؤ پیدا کرنا ہے۔ وہ اس سے قبل بھی سخت ترین الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں، تاہم موجودہ صورت حال ماضی سے مختلف ہے۔ اس بار دھمکیوں کے ساتھ عملی فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں، فضائی حملوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں خطے کے مختلف حصوں تک پہنچ چکی ہیں۔ اس ماحول میں کسی بھی بیان کو محض سیاسی بیان بازی قرار دینا حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں ہوگا، کیونکہ ہر نئی دھمکی میدانِ جنگ میں ایک نئے مرحلے کی بنیاد بن سکتی ہے۔  ایران کی قیادت نے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے اپنی توجہ دفاع پر مرکوز رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ موقف اس تصور کی ترجمانی کرتا ہے کہ تہران عسکری دباؤ کے تحت مذاکرات کو اپنی سیاسی کمزوری سمجھتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نفسیاتی رکاوٹ ہے جو اس بحران کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ جب ایک فریق جنگ کو سفارتی دباؤ کا ذریعہ بنائے اور دوسرا اسے قومی مزاحمت کا امتحان قرار دے، تو دونوں کے درمیان مکالمے کی گنجائش مسلسل محدود ہوتی جاتی ہے۔ اس صورت حال میں ہر نئی کارروائی اعتماد کی مزید دیواریں گرا دیتی ہے۔امریکا کی جانب سے ایران سے منسلک کرپٹو کرنسی کے ایک سو تیس ملین ڈالر سے زیادہ اثاثے منجمد کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ موجودہ تنازع صرف میزائلوں اور فضائی حملوں تک محدود نہیں بلکہ مالیاتی محاذ پر بھی پوری شدت سے جاری ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے کرپٹو کرنسی کو بعض ریاستوں نے متبادل مالیاتی راستے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، مگر امریکا نے واضح کر دیا ہے کہ وہ روایتی بینکاری کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل مالیاتی نظام پر بھی اپنی نگرانی قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ ڈیجیٹل معیشت، سائبر نظام اور عالمی مالیاتی نیٹ ورک میں بھی لڑی جائیں گی۔  ادھر ایران کی جانب سے برطانوی سفیر کو طلب کرنا، برطانیہ کی پابندیوں پر احتجاج اور مختلف امریکی تنصیبات پر جوابی حملے اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ تنازع اب صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان محدود نہیں رہا۔ اس میں متعدد علاقائی اور عالمی طاقتیں کسی نہ کسی درجے میں شامل ہوتی جا رہی ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں مقامی جنگ بتدریج وسیع علاقائی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی متضاد مفادات، مذہبی تقسیم، پراکسی جنگوں اور توانائی کی سیاست کا مرکز رہا ہے، اگر یہ محاذ مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہیں گے۔بحرین، کویت، اردن اور عراق میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانا یہ پیغام دیتا ہے کہ ایران دفاعی حکمت عملی کو اپنے جغرافیے تک محدود رکھنے کے بجائے امریکی مفادات پر دباؤ بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اگرچہ ایسے حملے عسکری اعتبار سے محدود نوعیت کے ہوں، مگر ان کی سیاسی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ یہ جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سفارتی حلقے اس بحران کو صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔  اس بحران کا سب سے نمایاں اقتصادی پہلو عالمی توانائی کی منڈی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر یہ راستہ متاثر ہوتا ہے تو اس کے نتائج صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایشیا، یورپ اور افریقہ کی معیشتیں بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اسی خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ سرمایہ کار مستقبل میں رسد کی قلت کا امکان دیکھ رہے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب صرف مہنگا ایندھن نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت، خوراک اور مہنگائی کی نئی لہریں بھی ہیں۔خام تیل کی قیمت ایک سو دس ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی اس امر کا اشارہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اس بحران کو وقتی ہنگامہ نہیں سمجھ رہے، اگر ایسا ہوا تو ترقی پذیر ممالک پر اس کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہوں گے۔ درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والی معیشتوں کے تجارتی خسارے میں اضافہ ہوگا، کرنسیوں پر دباؤ بڑھے گا، افراطِ زر نئی بلندیوں کو چھوئے گا اور مرکزی بینکوں کے لیے شرحِ سود میں کمی تقریباً ناممکن ہو جائے گی، یوں ایک علاقائی جنگ پوری دنیا کی معاشی بحالی کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے بعد دیگر بحری تجارتی راستوں کو بھی بند کرنے کی دھمکی نہایت سنجیدہ معاملہ ہے۔ عالمی تجارت کی بڑی شاہراہوں میں رکاوٹ صرف تیل کی قیمتوں کو نہیں بڑھاتی بلکہ سپلائی چین، بحری انشورنس، جہاز رانی کے اخراجات اور عالمی منڈیوں میں اشیائے ضروریہ کی دستیابی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ کووڈ وبا کے بعد دنیا ابھی مکمل طور پر معاشی استحکام کی طرف واپس نہیں لوٹی، ایسے میں کسی بڑے بحری بحران کے اثرات گزشتہ تجربات سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔اس پورے منظرنامے میں پاکستان کا موقف قابلِ توجہ ہے۔ اسلام آباد نے نہ صرف مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھی بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ امن کی کوششیں ختم نہیں ہوئیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ پہلو حقیقت پسندانہ بھی ہے اور ضروری بھی، کیونکہ پاکستان براہِ راست اس خطے کا ہمسایہ ہے جہاں ہر نئی کشیدگی اس کی معیشت، توانائی کی ضروریات، سمندری تجارت اور داخلی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دے کر پاکستان نے یہ پیغام دیا ہے کہ اگرچہ عسکری محاذ پر حالات بگڑ چکے ہیں، مگر سفارتی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔  پاکستان کے لیے سب سے اہم مسئلہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی مسلسل فراہمی ہے۔ ملکی توانائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے وابستہ ہے، اگر اس گزرگاہ میں طویل تعطل پیدا ہوتا ہے تو پاکستان کو درآمدی بل، زرمبادلہ کے ذخائر، مہنگائی اور صنعتی سرگرمیوں کے حوالے سے نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کا امن پر زور دینا محض اصولی مؤقف نہیں بلکہ ایک ناگزیر قومی ضرورت بھی ہے۔ عالمی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ جنگ کا آغاز ہمیشہ محدود مقاصد کے ساتھ کیا جاتا ہے، لیکن اس کے نتائج اکثر منصوبہ بندی سے کہیں زیادہ وسیع اور غیر متوقع نکلتے ہیں۔ طاقت کے استعمال سے وقتی عسکری کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں، مگر پائیدار امن صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب سیاسی تنازعات کو مذاکرات، باہمی احترام اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر حل کیا جائے، اگر موجودہ بحران اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کا نظام اور بین الاقوامی استحکام ایک طویل غیر یقینی دور میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب عالمی قیادت کو عسکری برتری کے اظہار کے بجائے سیاسی بصیرت، سفارتی تحمل اور اجتماعی ذمے داری کا ثبوت دینا ہوگا، کیونکہ جنگ کی آگ سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی اور اس کے شعلے بالآخر ہر اس معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں جو خود کو اس سے محفوظ سمجھتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل