Friday, July 17, 2026
 

ٹرمپ کے ایک بار پھر انتخابی دھاندلی کے الزامات، چین پر امریکی ووٹرز کا ڈیٹا حاصل کرنے کا دعویٰ

 



واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل ایک بار پھر انتخابی دھاندلی اور بیرونی مداخلت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی انتخابی نظام کو مزید محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بعض خفیہ دستاویزات کو عام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن کے مطابق چین نے مبینہ طور پر تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹرز کا ڈیٹا غیر قانونی طور پر حاصل کیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا کی چار ریاستوں میں ڈھائی لاکھ سے زائد ایسے افراد ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ ہیں جو امریکی شہری نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے خطاب میں ان دعوؤں کے حق میں کوئی تفصیلی شواہد پیش نہیں کیے۔ امریکی صدر نے ایک بار پھر 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ چوری شدہ انتخابات دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہوں نے قانون سازوں پر زور دیا کہ ووٹنگ کے قوانین مزید سخت کیے جائیں۔ ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران بعض امریکی ٹی وی نیٹ ورکس، جن میں ABC اور NBC شامل ہیں، پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان اداروں نے ان کا خطاب براہِ راست نشر نہیں کیا اور بغیر ثبوت یہ دعویٰ بھی کیا کہ بعض میڈیا ادارے انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب انتخابی قوانین کے ماہرین اور ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے انتخابی قانون کے ماہر رِک ہیسن نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے وہی پرانے دعوے دہرائے ہیں جن کے حق میں اب تک کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات کا مقصد نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے عوام کے اعتماد کو متاثر کرنا ہے۔ واضح رہے کہ 2020 کے صدارتی انتخابات کے بعد بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم متعدد عدالتی مقدمات، ووٹوں کی دوبارہ گنتی، مختلف ریاستی آڈٹس اور امریکی محکمہ انصاف کی تحقیقات میں ایسے شواہد سامنے نہیں آئے تھے جن سے انتخابی نتائج تبدیل ہونے کا امکان ثابت ہوتا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مڈٹرم انتخابات سے قبل انتخابی نظام، ووٹر رجسٹریشن اور انتخابی قوانین ایک بار پھر امریکی سیاست کا اہم موضوع بنتے جا رہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل