Loading
لاہور کے پہلو میں دریائے راوی کے کنارے جہاں نیا شہری منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، وہیں اس منصوبے کے دائرہ کار میں آنے والے 91 دیہات کی ترقی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) نے پہلے مرحلے میں فلمی کردار نوری نت سے منسوب تاریخی نت گاؤں کو ماڈل ویلیج میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں نئی سڑکیں، نکاسی آب کا نظام، تعلیمی اور طبی سہولتیں، خواتین کے لیے دستکاری مرکز قائم کیا گیا ہے وہیں ایک دوسرے علاقے ڈیرہ گجراں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے گھروں کی چھتوں پر خصوصی یو وی ریفلیکٹو پینٹ لگانے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
روڈا کا دعویٰ ہے کہ اس خصوصی پینٹ سے گھروں کے اندر درجہ حرارت 6 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کیا جا سکتا ہے، جس سے بجلی کی کھپت میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
دریائے راوی کے قریب بھینی روڈ پر واقع نت گاؤں کو روڈا نے اپنی کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی (سی ایس آر) مہم کے تحت ماڈل ویلیج کے طور پر منتخب کیا ہے۔ منصوبے کے تحت کارپٹڈ سڑکیں، گلیاں، نکاسی آب کا بہتر نظام، سرکاری اسکول کی ازسرنو تعمیر و تزئین، ڈسپنسری، صاف پانی کی فراہمی، گٹروں پر ڈھکن، خواتین اور بچیوں کے لیے دستکاری اسکول اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔
گاؤں کے رہائشی اور مقامی زمیندار اعزاز ظفر نے بتایا کہ فلموں میں نوری نت کے کردار کو منفی انداز میں پیش کیا گیا، حالانکہ مقامی تاریخ کے مطابق تقسیم ہند کے دوران نوری نت نے اس علاقے کے مسلمانوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ یہاں کے لوگوں کے نزدیک ایک ہیرو کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چند برس قبل تک گاؤں تک پہنچنے کے لیے مناسب سڑک بھی موجود نہیں تھی، لیکن روڈا کی مداخلت کے بعد نہ صرف انفرا اسٹرکچر بہتر ہوا بلکہ بند پڑا سرکاری اسکول بھی جدید سہولتوں سے آراستہ کر کے فعال کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول روڈا کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے ذریعے علاقے کی ترقی کی نئی راہیں کھلی ہیں۔
روڈا کی ڈائریکٹر کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی اینڈ اسپیشل انیشی ایٹو فاطمہ علی خان نے بتایا کہ راوی سٹی کے دائرہ کار میں 91 مواضعات شامل ہیں اور ادارے کی کوشش ہے کہ دیہی آبادیوں کو جدید شہری سہولتیں فراہم کرتے ہوئے ان کی روایتی شناخت اور سبز ماحول بھی محفوظ رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، صاف پانی، سڑکیں، نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولتیں ان منصوبوں کی اولین ترجیحات ہیں تاکہ دیہات کے مکینوں کا معیارِ زندگی بہتر بنایا جا سکے۔
روڈا کے ڈپٹی ڈائریکٹر سی ایس آر سید معظم علی کے مطابق منصوبے کا مقصد صرف انفرا اسٹرکچر کی بہتری نہیں بلکہ دیہی آبادی کو جدید طرز زندگی سے ہم آہنگ کرنا بھی ہے۔ اسی مقصد کے تحت گاؤں کی دکانوں میں ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے تاکہ لوگ موبائل فون کے ذریعے مالی لین دین سے واقف ہو سکیں اور نقد رقم پر انحصار کم ہو۔
روڈا کے دائرہ کار میں آنے والے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک منفرد تجربہ بھی کیا جا رہا ہے۔ ڈیرہ گجراں کے علاقے میں متعدد گھروں کی چھتوں اور بیرونی دیواروں پر خصوصی سفید یو وی ریفلیکٹو پینٹ لگایا جا رہا ہے، جو سورج کی شعاعوں کو جذب کرنے کے بجائے واپس منعکس کرتا ہے۔
گاؤں کے رہائشی چوہدری رحمت علی نے بتایا کہ ابتدا میں لوگ اس منصوبے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے، تاہم جب انہیں اس کے فوائد سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے تعاون کیا۔ ان کے مطابق پینٹ کے بعد گھر پہلے کی نسبت ٹھنڈا محسوس ہوتا ہے اور گرمی کی شدت میں واضح کمی آئی ہے۔
روڈا کی ڈپٹی ڈائریکٹر علیشباہ تاجور نے بتایا کہ یو وی ریفلیکٹو پینٹ سورج کی حرارت کو عمارت کے اندر منتقل ہونے سے روکتا ہے، جس کے باعث اندرونی درجہ حرارت کم رہتا ہے اور ایئر کنڈیشنر یا پنکھوں کے استعمال میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پینٹ کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ عمارت کو واٹر پروف بنانے میں مدد دیتا ہے، جبکہ اس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔
پینٹ کے اطلاق پر کام کرنے والے ماہرین کے مطابق اس مقصد کے لیے دو تہیں لگائی جاتی ہیں۔ پہلی تہہ بنیاد فراہم کرتی ہے جبکہ دوسری تہہ مکمل تحفظ دیتی ہے، جس سے چھت گرمی اور بارش دونوں سے بہتر طور پر محفوظ رہتی ہے۔
فاطمہ علی خان نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں 10 سے 12 گھروں کو اس منصوبے میں شامل کیا گیا ہے، بعد ازاں اسے مرحلہ وار پورے علاقے تک توسیع دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خصوصی پینٹ کے ذریعے گھروں کے اندر درجہ حرارت میں 6 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک کمی لائی جا سکتی ہے، جس سے نہ صرف رہائشیوں کو زیادہ آرام دہ ماحول میسر آئے گا بلکہ بجلی کی بچت بھی ممکن ہوگی۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے نمٹنے کے لیے درخت لگانے اور گرین روف جیسے اقدامات کے ساتھ یو وی ریفلیکٹو پینٹ بھی ایک مؤثر متبادل ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں چھتوں پر باغبانی ممکن نہ ہو۔ اگر اس قسم کی ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر اپنائی جائے تو شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں توانائی کی بچت اور گرمی کے اثرات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل