Loading
امریکا کا ایران کے ایک اور آئل ٹینکر پر حملے سے علاقے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی افواج نے خلیج فارس میں واقع جزیرہ خارگ کے قریب لنگرانداز ایک ایرانی آئل ٹینکر کو 2 روز کے دوران دوسری مرتبہ میزائل حملے کا نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق تازہ حملے میں دو امریکی میزائل داغے گئے تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
صوبہ بوشہر کے ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ بیلما این آئی۔22 نامی خالی آئل ٹینکر جو دو روز قبل بھی امریکی حملے کا نشانہ بنا تھا آج دوبارہ دو امریکی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق حملے کے وقت ٹینکر میں تیل موجود نہیں تھا تاہم جہاز کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین اور بحری سلامتی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے۔
جزیرہ خارگ ایران کی تیل برآمدات کا سب سے اہم مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں سے ملک کی بڑی مقدار میں خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
اس تنصیب یا اس کے قریب موجود بحری جہازوں پر حملے کو ایران کی توانائی کی برآمدات کے لیے ایک اہم چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔
تاحال امریکی محکمہ دفاع ’’پینٹاگون‘‘ یا امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے ایرانی آئل ٹینکر پر مبینہ تازہ حملے کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل