Loading
تھانہ سول لائن کے علاقے لالکڑٹی میں ٹک ٹاک ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے تنازع پر ٹک ٹاکر کے قتل اور اس کے دوست کو زخمی کرنے کے مقدمے میں پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والا مرکزی ملزم بھی ٹک ٹاکر ہے اور دونوں فریقین ایک دوسرے کے خلاف ٹک ٹاک پر ویڈیوز اپ لوڈ کرتے رہتے تھے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ مقتول علی رضا کے بہنوئی عبداللہ خان کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق زخمی مراد نے بیان دیا کہ وہ علی رضا، اس کی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ موٹر سائیکلوں پر اس کے گھر جا رہے تھے۔ لالکڑٹی پہنچنے پر داور علی اور اس کے ایک نامعلوم ساتھی نے انہیں روک لیا اور علی رضا سے کہا کہ آج تجھے ٹک ٹاک پر ویڈیو لگانے کا مزہ چکھاتے ہیں، جس کے بعد دونوں نے فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے نتیجے میں علی رضا موقع پر شدید زخمی ہوگیا اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، جبکہ مراد بھی گولیاں لگنے سے زخمی ہوگیا۔ مقدمے کے مطابق داور علی نے اپنے ساتھی کے ہمراہ حیدر علی کی ایما پر علی رضا کو قتل اور مراد کو زخمی کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں فریق آپس میں رشتہ دار بھی ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ٹک ٹاک پر ایک دوسرے کے خلاف ویڈیوز اَپ لوڈ کرنے کے علاوہ رشتے اور منگنی کے معاملے پر بھی دونوں خاندانوں میں تنازع چل رہا تھا، جس کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ معاملہ حل کرنے کے لیے ایک جرگہ بھی منعقد ہوا تھا، تاہم وہاں بھی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
پولیس کے مطابق واردات کے بعد ملزمان روپوش ہوگئے تھے، تاہم سول لائنز پولیس نے ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے تین روز کے اندر دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور کیس کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر میرٹ کے مطابق یکسو کیا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل