Loading
پنجاب بھر میں مون سون بارش برسانے والا سسٹم بدستور موجود ہے ۔ آج لاہور سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا امکان ہے۔
لاہور میں آج سورج اور بادلوں کے درمیان آنکھ مچولی جاری رہنے کے ساتھ دوپہر کے وقت مزید بارش متوقع ہے۔ شہر میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے ممکنہ نقصانات کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ ایم ڈی واسا کی ہدایت پر نکاسی آب کے حوالے سے آپریشنل اسٹاف کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ہدایت کے مطابق بارش شروع ہوتے ہی افسران اور ملازمین فیلڈ میں موجود رہیں گے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث صوبے کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس سلسلے میں بارشوں کا دوسرا اسپیل 24 جولائی تک جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، جہاں کالا باغ میں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 17 ہزار جبکہ چشمہ میں 2 لاکھ 95 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دریائے چناب میں مرالہ اور قادرآباد کے مقام پر نچلے درجے جبکہ خانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 28 ہزار، خانکی پر ایک لاکھ 52 ہزار اور قادرآباد پر ایک لاکھ 57 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ دریائے راوی، ستلج اور جہلم میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ نالہ بئیں میں بھی نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے کہا ہے کہ بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے، اس لیے دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے ممکنہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تمام انتظامات مکمل کر رکھے ہیں ، جس کے تحت فلڈ ریلیف کیمپس میں بنیادی سہولیات اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ موسم اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے اطراف سیروتفریح سے گریز کریں۔
درین اثنا ترجمان ریسکیو کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب بھر میں بارش اور آندھی کے باعث دیواریں اور چھتیں گرنے سے 8 افراد جاں بحق جبکہ 37 زخمی ہوئے۔
گجرانوالہ میں بارش کے باعث چھتیں اور دیواریں گرنے کے 8 مختلف واقعات میں 3 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے، جبکہ بارش اور کرنٹ لگنے کے 3 مختلف حادثات میں ایک شخص جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے۔
کامونکی انڈر پاس میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر ایک بچہ بھی جاں بحق ہوا۔ پاکپتن میں مکان کی کچی چھت گرنے سے 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے، ساہیوال کے علاقے کوٹ خادم علی شاہ میں چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوئی جبکہ ہڑپہ میں دکان کی چھت گرنے سے 3 افراد زخمی ہوئے۔
لاہور کے بند روڈ گلشن راوی کے قریب چھت گرنے سے 4 افراد زخمی ہوئے، منڈی بہاالدین کے مختلف دیہات میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے 8 افراد زخمی ہوئے، بہاولنگر کے خان بابا روڈ الجنت چوک کے قریب شیڈ گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا، سیالکوٹ میں ٹی آر کی چھت گرنے سے 3 افراد زخمی ہوئے، جبکہ مری اور کہوٹہ میں جزوی لینڈ سلائیڈنگ اور درخت گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل