Thursday, July 23, 2026
 

پاکستان آئل ٹینکرز اور کنٹریکٹرز کا حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لیے 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم

 



پاکستان آئل ٹینکرز اور کنٹریکٹرز نے حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لیے 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیا۔ کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی، جس کی ذمہ داری وزارتِ پیٹرولیم اور اوگرا پر ہوگی۔ انہوں نے وائٹ آئل پائپ لائن کے کوٹے میں اضافے اور کمرشل لوڈنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عابد اللہ آفریدی نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے آئل ٹینکرز کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ موٹروے اور این ایچ اے ٹول ٹیکس میں 180 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، اس لیے ٹول ٹیکس کے تناسب سے کرایوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مذاکرات اور خط و کتابت جاری تھی، مگر اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے انہیں ہڑتال پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مطالبات نہ مانے گئے تو پورے پاکستان میں آئل ٹینکرز کا پہیہ جام ہوگا۔ جنرل سیکریٹری شعیب خان نے کہا کہ پائپ لائن کو 55 فیصد کے بجائے 80 فیصد مال دیا جا رہا ہے، جس کے باعث گاڑیاں لوڈ کے انتظار میں کھڑی رہتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمرشل لوڈنگ بند کر کے پائپ لائن کا کوٹہ مقرر کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائپ لائن کی وجہ سے دو ماہ میں صرف ایک ٹرپ ملتی ہے، جبکہ ایک گاڑی پر ڈھائی سے تین کروڑ روپے لاگت آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 70 فیصد کوٹہ پائپ لائن کو دیا ہوا ہے، باقی 30 فیصد روڈ کے لیے ہے، مگر وہ بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ شعیب خان نے کہا کہ وفاقی وزیر علی پرویز کو کئی بار ملاقات کے لیے خطوط لکھے، لیکن شنوائی نہیں ہوئی، اور جب احتجاج یا ہڑتال کی بات کی جاتی ہے تو حکومت عوام کے ساتھ زیادتی کا الزام لگاتی ہے۔ آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے صدر سرفراز جدون نے کہا کہ این ایچ اے کا ٹیکس تین سال میں 180 فیصد بڑھ چکا ہے، مگر کرائے آج بھی تین سال پہلے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی صنعت ٹرانسپورٹ ہے، ٹرانسپورٹرز کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 72 گھنٹوں میں مسائل حل نہ ہوئے تو ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی، کیونکہ حکومت نے انہیں اس پر مجبور کر دیا ہے۔ محمد سلیمان ترین نے کہا کہ حکومت کا کام تاجروں کو بہتر مواقع فراہم کرنا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سے مشاورت کے بغیر پائپ لائن بچھائی گئی، جس سے ان کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچا اور اسے مزید تباہ کیا جا رہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل