Loading
اردو بولنے والے جب پاکستان بنانے کی مشقت سے نکلے تو اس سرزمین پر قدم رکھتے ہی سماجی و سیاسی ماحول کو تشکیل دیا اور یوں شہر شہر بستے گئے۔آج بھی پاکستان میں صرف کراچی ہی نہیں، میرپور خاص، حیدر آباد، نوابشاہ، سکھر اور سندھ کے دیگر شہروں کو بھی آباد کیا۔
ایم کیو ایم تو اس وقت معرض وجود میں آئی جب اتنی بڑی حقیقت کی نفی کرتے نظر آئے اور وہ حقیقت تھی، ہندوستان سے آنے والے اردو بولنے والے مہاجر۔ یوںپاکستان بنانے والوں کی اگلی نسل نے پھر سے اپنے وجود کو منوانے کے لیے سَر اٹھایا۔
اس وقت اردو بولنے والوں کا یہ منشور تھا کہ مہاجر آبادی سمیت ہر شہری کو برابری، عزت اور آئینی حقوق حاصل ہوں اورپاکستان میں بسنے والی شہری آبادی کو وہ سہولیات ملیں جن کی وہ حقدار ہے۔مہاجر چونکہ پاکستان کی تعمیر و ترقی اور عروج کے لیے جو فکر رکھتے ہیں، یہ وہی ہے کہ گھر بنانے والا کبھی اپنے گھر کو توڑتا نہیں۔
18مارچ 1986 کو اردو بولنے والوں پراپنی سرزمین تنگ کی جانے لگی اور ہر طرف سے استحصال ہونے لگا تو مہاجر قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کا قیام عمل میںلایا گیا۔31اکتوبر 1987کو ایم کیو ایم کے پکا قلعہ، حیدر آباد میں ہونے والے جلسہ عام میںشرکت کے لیے کراچی سے جانے والی ریلی پر سہراب گوٹھ پر دہشت گردوں نے گولیاں چلا دی تھیں جس کی میں خود بھی گواہ ہوں۔
پھر ایک اور المیہ ہو گیا، ایم کیو ایم تقسیم کروا دی گئی 26 جولائی 1997 کو ایم کیو ایم کی لیڈر شپ کو پورے پاکستان کی پارٹی بن جانے کے خواب دکھا کرکہ آپ کراچی تک نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیڈر بن سکتے ہیںاور مہاجر قومی موومنٹ کو دو لخت کر دیا گیا جس کے اعلان میں، میں بھی موجود تھی اور میں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ سَر جھکائے خاموشی سے اٹھ کرواپس جا رہے ہیں جب کہ کچھ ایسے بھی تھے جو گم سم سے بیٹھے رہ گئے اور جھانسے میں آگئے۔
یوں اپنے منشور، اپنے حقوق کے لیے سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے اور پاکستان بنانے والوں کے ساتھ ایک مذاق ہی تھا جو کیا گیاتھا،یہ تھی تقسیم کی پہلی کوشش۔اس بات کا تذکرہ اس لیے کر رہی ہوں کہ آج بھی وہی مذموم کوششیں پھر سے کی جا رہی ہیں،لیکن میںآپ کو یقین دلاتی ہوں کہ ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے باوجود مہاجرقوم اپنے حق کے حصول کے لیے ایک پیج پر ہے۔
میں یہ محسوس کر رہی ہوں کہ بعض لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایم کیو ایم یعنی مہاجر قومی موومنٹ اپنے ہدف سے ہٹ گئی ہے تو میں یہاں یہ برملا کہوں گی کہ ایسا ہر گز نہیں۔ سازشوں کی بدولت ہم تقسیم کا شکار ضرور ہوئے مگر اردو بولنے والے آج بھی اپنی بنائی ہوئی سرزمین سے مخلص ہیں اور ان کی گھٹی میں پاکستان سے وفاداری شامل ہے۔
گو کہ کئی بار ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ لوگوں کو جان بچانے کے لیے روپوش ہونا پڑا حتیٰ کہ ایک بڑی تعداد کو ہجرت بھی کرنا پڑی۔ ایم کیو ایم کے قیام کے بعد جو مہاجروں کو امید کی کرن جاگی تھی وہ دھندلی ضرور ہوئی معدوم نہیں۔ وہ اب بھی اسی روشنی اور یقین کے ساتھ موجود ہے یہ سیاسی تحریک ایک مقصد، نظریے اور عوامی خدمت کے جذبے کے تحت موجود ہے۔
میری یہ ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ اولین مہاجر قومی موومنٹ کے بنیادی مشن کو اجاگر کیا جائے جو اس کی بنیاد تھا۔اس کااصل منشور’’ہمیں مانو اور تسلیم کرو‘‘پر قائم ہے۔ ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والے ہر فرد کے ماتھے پر ایم کیو ایم لکھا ہوا ہے، خواہ وہ کسی بھی جماعت میں جا کر بیٹھ گیا ہو۔
میں یہ چاہتی ہوں کہ ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والی آبادی کویہ باور کرایا جائے کہ اس تحریک کا وارث کوئی فرد واحد نہیں بلکہ تمام اردو بولنے والے ہیں۔ یہ تحریک کسی شخصیت، خاندان یا محدود گروہ کی ملکیت نہیں بلکہ ایک عوامی مشن ہے جس کی بنیاد ہجرت ہے۔
جس کا مقصد آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے خصوصاً اردو بولنے والوں کے جائز حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔تنظیم کی ازسر نو تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اندرونی جمہوریت کو فروغ دیا جائے۔
قیادت کا انتخاب شفاف طریقے سے ہو، نوجوانوں، خواتین، تعلیم یافتہ افراد، ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قیادت میں مناسب نمائندگی دی جائے۔ میرٹ، دیانت داری، شفافیت اور خدمت کو ہر سطح پر بنیادی اصول بنایا جائے سوشل میڈیا، سیمینارز، عوامی مکالموں، نوجوانوں کی نشستوں، تعلیمی پروگراموں اور کمیونٹی سروس کے ذریعے ہر طبقے تک مثبت پیغام پہنچے۔
اردو بولنے والے عوام کے حقوق کے تحفظ کا مطلب کسی دوسرے لسانی یا نسلی گروہ کی مخالفت نہیں بلکہ آئین کے مطابق مساوی حقوق، منصفانہ نمائندگی، تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع کا مطالبہ ہے۔میں یہ جانتی ہوں کہ ایک مضبوط سیاسی تحریک وہی ہوتی ہے جو اپنے حقوق کی بات کرتے ہوئے دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کرے اور قومی یکجہتی کو فروغ دے۔
کراچی سمیت اردو بولنے والے جہاںجہاں بستے ہیں، ان شہری علاقوں میں بنیادی سہولیات، روزگار، تعلیم، صحت، بلدیاتی نظام، انفراسٹرکچر اور نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے مو اقعے جیسے مسائل اب بھی توجہ چاہتے ہیں جس کے لیے ہمیں میدان میں اترنا ہو گا۔کسی بھی تحریک کی اصل طاقت اس کی خود احتسابی، اصلاح اور عوام سے مضبوط تعلق میں ہوتی ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے ان سے سبق سیکھنا ہی مستقبل کی کامیابی کی بنیاد بن سکتا ہے جب کہ ہماری بنیاد کمزور نہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل