Loading
تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے بارہا یہ احساس ہوتا ہے کہ اقتدار کی سب سے بڑی غلط فہمی یہی ہوتی ہے کہ وہ خود کو دائمی سمجھنے لگتا ہے۔ رویے بدلنے لگتے ہیں، حفاظتی حصار مضبوط ہوتے جاتے ہیں، دربار چاپلوسوں سے بھرنے لگتا ہے اور حکمرانوں کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کچھ کرلیں، عوام اندھوں کی طرح ان کی پوجا کریں گے، مگر تاریخ کبھی کسی ایک فرد، کسی ایک جماعت یا کسی ایک اقتدار کی جاگیر نہیں رہی۔
اس کی نبض ہمیشہ عوام کے ہاتھ میں رہی ہے، وہ عوام جو بظاہر کمزور ہوتے ہیں، منتشر دکھائی دیتے ہیں مگر جب اپنے حق، اپنی عزت اور اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہو جائیں تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتیں بھی ان کے سامنے بے بس ہو جاتی ہیں۔
ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان میں آج جو سیاسی بے چینی دکھائی دے رہی ہے، اسے صرف ایک جماعت یا ایک رہنما کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جمہوریت کیا صرف انتخابات کا نام ہے یا پھر جمہوریت عوام کے اعتماد، اختلافِ رائے کے احترام، اداروں کی آزادی اور شہریوں کی آواز سے اپنا وجود حاصل کرتی ہے؟ اگر عوام کو صرف ووٹ ڈالنے کا حق ملے مگر سوال پوچھنے کا حق چھن جائے تو کیا جمہوریت اپنی روح برقرار رکھ سکتی ہے۔
برصغیر کی آزادی کی جدوجہد ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔ برطانوی سامراج دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کے پاس فوج تھی، سرمایہ تھا، قانون تھا اور دنیا بھر پر حکومت کرنے کا غرور بھی۔ مگر اس کے مقابلے میں کھڑے ہونے والے عام لوگ تھے۔
کسان، مزدور، طالب علم، عورتیں، ادیب اور بے شمار گمنام انسان۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں نہیں تھیں مگر ان کے دلوں میں آزادی کی خواہش تھی۔ آخرکار فتح اسی خواہش کی ہوئی۔ شاید اسی لیے گاندھی جی عوام کی اخلاقی قوت پر یقین رکھتے تھے اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر بار بار یہ یاد دلاتے تھے کہ آئین صرف کتاب کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ سماجی معاہدہ ہے جس کی حفاظت عوام کے شعور سے ہوتی ہے۔
اقتدار کی ایک عجیب نفسیات ہوتی ہے، وہ اپنے گرد ایسے لوگوں کا ہجوم جمع کر لیتا ہے جو ہر فیصلے کو درست اور ہر نعرے کو مقبول ثابت کرتے رہتے ہیں۔ یوں حکمران یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ خاموشی رضامندی ہے، اختلاف سازش ہے اور اکثریت ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی، لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ خاموشی کے اندر کبھی کبھی برسوں کا غصہ، مایوسی اور بے بسی پل رہی ہوتی ہے جو ایک دن اچانک عوامی طاقت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
دنیا کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ عرب دنیا میں ایک معمولی سے سبزی فروش کی بے بسی نے ایسی آگ بھڑکائی جسے دنیا نے عرب اسپرنگ کے نام سے یاد کیا۔ تیونس سے اٹھنے والی یہ لہر، مصر، لیبیا، یمن اور شام تک پہنچی۔
ہر ملک کا انجام مختلف تھا۔ کہیں آمریتیں ختم ہوئیں، کہیں خانہ جنگی نے امیدوں کو نگل لیا ،کہیں نئے اقتدار نے پرانے نظام کی جگہ لے لی لیکن ایک حقیقت پوری دنیا نے دیکھی کہ جب لاکھوں لوگ سڑکوں پر آ جائیں تو اقتدار کے مضبوط سے مضبوط ستون بھی لرزنے لگتے ہیں۔ عوامی مزاحمت ہر بار مثالی انجام تک نہیں پہنچتی مگر وہ یہ ضرور ثابت کرتی ہے کہ خوف ہمیشہ کے لیے انسان کو خاموش نہیں رکھ سکتا۔
بنگلہ دیش کی حالیہ عوامی تحریک نے بھی یہی سبق دیا۔ طلبہ ہوں یا عام شہری، جب معاشی مشکلات، سیاسی جبر اور ناانصافی ناقابلِ برداشت ہو جائے تو لوگ اپنے گھروں سے نکلتے ہیں۔ تحریک کے نتائج پر مختلف آرا ہو سکتی ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عوامی قوت نے ایسے اقتدار کو بھی ہلا کر رکھ دیا جو خود کو مضبوط اور ناقابلِ شکست سمجھتا تھا۔ اقتدار بدل جائے یا نہ بدلے، عوام کی خاموشی ضرور ٹوٹ جاتی ہے اور یہی کسی بھی جمہوریت کا سب سے اہم لمحہ ہوتا ہے۔
سری لنکا کی تصویر ابھی زیادہ پرانی نہیں ہوئی۔ معاشی بحران نے جب عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی، بجلی، ایندھن، خوراک اور دوائیں نایاب ہونے لگیں تو لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دنیا نے دیکھا کہ صدارتی محل جو کبھی طاقت کی علامت سمجھا جاتا تھا، عوام کے قدموں کی آہٹ سے خالی ہو گیا۔ اس سے تمام مسائل حل نہیں ہوئے، نہ ہی بحران ایک دن میں ختم ہوا لیکن یہ منظر تاریخ میں محفوظ ہو گیا کہ عوام کے سامنے اقتدار کی دیواریں ہمیشہ قائم نہیں رہتیں۔
پھر امریکا کی Occupy Wall Street تحریک کو کون بھول سکتا ہے، وہ کوئی انقلاب نہیں تھا، نہ اس نے حکومت گرائی اور نہ سرمایہ داری کا نظام بدل دیا، لیکن اس نے دنیا کو ایک نیا سوال دیا۔ اس نے بتایا کہ اگر دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جائے، اگر معیشت عام انسان کے بجائے صرف طاقتور طبقات کی خدمت کرنے لگے تو احتجاج صرف غریب ملکوں میں نہیں ہوتا، دنیا کی سب سے طاقتور معیشت میں بھی لوگ سڑکوں پر آتے ہیں۔ بعض تحریکیں اقتدار نہیں گراتیں مگر شعور کو بیدار کر دیتی ہیں اور شعور کی بیداری اکثر کسی بھی سیاسی تبدیلی سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتی ہے۔
ان تمام مثالوں میں ایک قدر مشترک ہے۔ نتائج مختلف تھے، راستے مختلف تھے، کامیابیاں اور ناکامیاں بھی مختلف تھیں مگر عوام کی طاقت ہر جگہ ایک حقیقت بن کر سامنے آئی۔ عوام ہمیشہ ہر جنگ نہیں جیتتے مگر ان کے سامنے کوئی اقتدار ہمیشہ کے لیے نہیں ٹھہرتا۔ مزاحمت کبھی فوری فتح نہیں لاتی لیکن وہ حکمرانوں کے اس یقین کو ضرور توڑ دیتی ہے کہ ان کی طاقت ہمیشہ قائم رہے گی۔
ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے۔ اس کی اصل طاقت اس کی آبادی نہیں بلکہ اس کا تنوع ہے۔ مختلف مذاہب، زبانیں، ثقافتیں اور نظریات ایک ہی آئینی چھت کے نیچے جمع ہیں۔ یہی ہندوستان کا حسن بھی ہے اور اس کی آزمائش بھی۔ جب اختلاف کو دشمنی میں بدل دیا جائے، جب سوال کو بغاوت سمجھ لیا جائے اور جب تنقید کو غداری کا نام دیا جائے تو جمہوریت کی روح کمزور ہونے لگتی ہے، چاہے انتخابات باقاعدگی سے ہوتے رہیں۔
مجھے ایمرجنسی کا دور یاد آتا ہے، اس وقت بھی بہت سے لوگوں کو یقین تھا کہ ریاست کی طاقت ہر آواز کو خاموش کر سکتی ہے مگر چند ہی برس بعد عوام نے اپنے ووٹ سے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ جمہوریت کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کی اصلاح خود کر سکتی ہے بشرطیکہ عوام کو بولنے، کہنے اور فیصلہ کرنے کا حق حاصل رہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کی طاقت صرف حکومتیں بدلنے میں نہیں ہوتی۔ اصل طاقت ایک ایسے سماج کی تعمیر میں ہوتی ہے جہاں انصاف ہو، مکالمہ ہو، برداشت ہو اور قانون سب کے لیے برابر ہو، اگر احتجاج نفرت میں بدل جائے، اگر اختلاف تشدد میں تبدیل ہو جائے اور اگر سیاست صرف انتقام کا دوسرا نام بن جائے تو عوامی طاقت بھی اپنا اخلاقی جواز کھو دیتی ہے۔
جمہوریت صرف اکثریت کی حکمرانی نہیں بلکہ اقلیت کے حقوق کی حفاظت کا نام بھی ہے۔ امبیڈکر نے اسی خطرے کی طرف اشارہ کیا تھا کہ آئین کی کامیابی اس کے الفاظ سے زیادہ اس پر عمل کرنے والوں کے کردار پر منحصر ہے۔
ہندوستان کے موجودہ حالات کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، جماعتیں بنتی اور بکھرتی رہتی ہیں، رہنما آتے اور چلے جاتے ہیں مگر قوموں کی اصل طاقت ان کے عوام ہوتے ہیں، اگر عوام کے دل میں اعتماد باقی رہے تو ریاست مضبوط رہتی ہے اور اگر اعتماد ٹوٹ جائے تو مضبوط سے مضبوط اقتدار بھی اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔
یہ سبق صرف ہندوستان کے لیے نہیں، ہمارے لیے بھی ہے۔ ہم نے بھی اپنی تاریخ میں بارہا طاقت کو سرکاری اختیار یا سرمایہ سمجھ لیا لیکن ہر بحران نے ہمیں یہی بتایا کہ حکومتوں کو آخرکار عوام کے اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ طاقت خوف سے قائم ہو سکتی ہے مگر عزت اور دوام صرف اعتماد سے ملتے ہیں۔ فیض احمد فیض نے لکھا تھا:
’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ اس شعر کو صرف سیاسی نعرہ بنا دینا، اس کی معنویت کو محدود کر دیتا ہے۔ فیض کا یقین دراصل انسان کی اجتماعی قوت پر تھا۔ وہ جانتے تھے کہ تاریخ کا سفر کسی ایک تخت کے گرد نہیں گھومتا بلکہ ان لوگوں کے گرد گھومتا ہے جو انصاف، آزادی اور انسانی وقار کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔
شاید اسی لیے تاریخ ہمیشہ فاتحین کے نام محفوظ نہیں رکھتی، مگر ان گمنام لوگوں کو ضرور یاد رکھتی ہے جنھوں نے اپنے عہد میں سوال پوچھنے کی ہمت کی، اختلاف کو زندہ رکھا اور اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔
ہندوستان آج جس موڑ پر کھڑا ہے، اس کا فیصلہ بھی آخرکار عوام ہی کریں گے۔ نہ ٹیلی ویژن کے شور سے تاریخ لکھی جاتی ہے، نہ سوشل میڈیا کے نعروں سے۔ تاریخ کا قلم ہمیشہ دیر سے چلتا ہے مگر چلتا ضرور ہے۔
جمہوریت کی اصل طاقت نہ پارلیمان کی عمارتوں میں پوشیدہ ہے نہ اقتدار کے ایوانوں میں۔ اس کی اصل طاقت عام انسان کے اعتماد، اس کے شعور، اس کے سوال اور اس کی خاموش مزاحمت میں ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جس نے سامراجوں کو شکست دی، آمریتوں کو جھکایا، محلوں کے دروازے کھلوائے اور دنیا کو بار بار یہ یاد دلایا کہ عوام کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں رکھا جا سکتا۔
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ فوری نہیں ہوتا، کبھی ایک نسل احتجاج کرتی ہے اور دوسری نسل اس کا ثمر پاتی ہے۔ کبھی تحریک راستہ بھول جاتی ہے اور کبھی انھیں طاقتور قوتیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر لیتی ہیں لیکن اس سب کے باوجود ایک سچ اپنی جگہ قائم رہتا ہے، جب عوام اپنی خاموشی توڑ دیتے ہیں تو اقتدار کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ عوام ہر معرکہ نہیں جیتتے مگر ان کے سامنے کوئی طاقت ہمیشہ کے لیے فتحیاب بھی نہیں رہتی۔ شاید یہی جمہوریت کی سب سے بڑی امید ہے اور شاید یہی تاریخ کا سب سے سچا سبق بھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل