Loading
سفر انسان کو صرف نئی دنیا سے متعارف نہیں کراتا بلکہ اپنے وطن کو ایک نئے زاویہ نگاہ سے دیکھنے کا موقع بھی بھی فراہم کرتا ہے۔ میں برطانیہ اور یورپ کے مطالعاتی دورے پر ہوں، یورپ کے دل میں واقع ہنگری کا دارالحکومت بودا پیسٹ ان چند شہروں میں شامل ہے جو اپنے حسن سے زیادہ اپنی تہذیب، اپنے نظم اور اپنی اجتماعی دانش سے متاثر کرتے ہیں۔
یہ شہر دیکھنے والے کو محض خوبصورت عمارتوں، تاریخی قلعوں اور دلکش مناظر کا تحفہ نہیں دیتا بلکہ ایک خاموش پیغام بھی دیتا ہے کہ قومیں وسائل سے نہیں، رویوں سے عظیم بنتی ہیں۔ دریائے ڈینیوب کا نیلگوں پانی صدیوں سے اس شہر کی رگوں میں زندگی دوڑا رہا ہے۔ ایک کنارے پر پہاڑیوں میں آباد ’’بودا‘‘ ہے اور دوسرے کنارے پر جدید شہری زندگی کا مرکز ’’پیسٹ‘‘۔ ان دونوں کو ملانے والے پل صرف دو کناروں کو نہیں بلکہ ماضی اور حال کو بھی جوڑتے ہیں۔
بوداپیسٹ کی گلیوں میں چلتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ ترقی کا راز صرف بلند وبالا عمارتوں یا جدید انفراسٹرکچر میں نہیں بلکہ شہری شعور میں پوشیدہ ہے۔ یہاں ٹریفک کا شور کم اور قانون کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے۔
سڑکیں صاف ہیں، عوامی نقل وحمل منظم ہے، تاریخی ورثہ محفوظ ہے اور شہری اپنی ذمے داری کو ریاست پر احسان نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ یہی وہ چھوٹی چھوٹی اقدار ہیں جو کسی بھی قوم کی بڑی کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہیں۔
ہنگری کی تاریخ میں بڑے اتار چڑھاؤ ہو رہے ہیں۔ سلطنتوں کے عروج وزوال، دو عالمی جنگوں کی تباہ کاریوں، کمیونسٹ نظام اور سیاسی تبدیلیوں کے طویل ادوار کے باوجود اس قوم نے مایوسی کو اپنی شناخت نہیں بننے دیا۔ انھوں نے ماضی کو محفوظ رکھا مگر مستقبل کو اسیر نہیں ہونے دیا۔ یہی وہ سوچ ہے جس نے بوداپیسٹ کو یورپ کے خوبصورت ترین اور باوقار دارالحکومتوں میں شامل کر دیا۔
ایک پاکستانی کی حیثیت سے جب میں اس شہر کو دیکھتا ہوں تو میرے ذہن میں مسلسل اپنے وطن کا نقشہ ابھرتا ہے۔ پاکستان بھی قدرتی حسن، نوجوان آبادی، تاریخی ورثے اور بے شمار امکانات سے مالامال ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ترقی یافتہ قومیں قانون کو طاقتور بناتی ہیں جب کہ ترقی پذیر معاشروں میں اکثر طاقتور قانون سے بالاتر دکھائی دیتے ہیں۔ یہی فرق قوموں کی رفتار کا تعین کرتا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ یورپ کے پاس صرف وسائل زیادہ ہیں۔ اصل سرمایہ ان کا ادارہ جاتی استحکام، تعلیم، تحقیق، شفاف حکمرانی اور اجتماعی نظم ہے۔ جب معاشرہ قانون کی بالادستی کو اپنی اجتماعی ثقافت بنا لیتا ہے تو پھر دریا بھی خوشحالی لاتے ہیں، پل بھی ترقی کی علامت بنتے ہیں اور شہر بھی دنیا کے لیے کشش کا مرکز بن جاتے ہیں۔
ڈینیوب کے کنارے کھڑے ہو کر مجھے بارہا دریائے سندھ یاد آیا۔ دریا تو دونوں عظیم ہیں، پانی بھی دونوں کا زندگی بخشتا ہے لیکن اصل فرق ان معاشروں کی ترجیحات میں ہے جو ان دریاؤں کے کنارے آباد ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، کیا ہم اسے دیانت، نظم اور وژن کے ساتھ بروئے کار لا رہے ہیں؟
بوداپیسٹ میرے لیے صرف ایک سیاحتی منزل نہیں بلکہ ایک فکری تجربہ ہے۔ اس شہر نے مجھے یہ احساس دلایا کہ تہذیب صرف عجائب گھروں میں محفوظ نوادرات کا نام نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں قانون کی پاسداری، صفائی، برداشت، وقت کی قدر اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کا نام ہے۔
سفر ختم ہو جائے گا، تصاویر محفوظ ہو جائیں گی، یادیں بھی وقت کے ساتھ دھندلا جائیں گی مگر بوداپیسٹ کا ایک سوال شاید ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا: اگر ایک قوم جنگوں، بحرانوں اور سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود اپنے شہروں کو دنیا کے لیے مثال بنا سکتی ہے تو کیا پاکستان اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود ایسا نہیں کر سکتا؟
شاید اس سوال کا جواب ہم سب کو مل کر تلاش کرنا ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل