Saturday, July 25, 2026
 

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی

 



بھارتی حمایت یافتہ گروہ ’’فتنہ الخوارج‘‘ کے دہشت گردوں نے 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب، جنوبی خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں سیکیورٹی اہلکاروں کی مشترکہ مانجھی خیل چیک پوسٹ پر خودکش حملہ کیا جس میں 15 جوان شہید ہوگئے، سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے فرار ہونے والے 12 خوارج مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کے سیکیورٹی حصار کو توڑنے کی کوشش کی تاہم فورسز کے مستعد اور فوری ردعمل نے ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا، سیکیورٹی اہلکاروں نے فرار ہونے والے خوارج کو نشانہ بنایا اور بارہ خوارج ہلاک کر دیے۔ اسی دوران حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، دھماکے کی شدت سے چیک پوسٹ کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں وطن کے 15 بہادر سپوت شہید ہوگئے، جن میں فوج کے 12 جوان، 2 پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری اہلکار شامل ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشت گردوں کی نشانے پر ہیں۔ دہشت گرد تواتر کے ساتھ دونوں صوبوں میں سیکیورٹی فورسز، سویلین سرکاری افسروں اور اہلکاروں اور عام لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں مستونگ میں سیشن جج اور ان کے سیکیورٹی گارڈ کو شہید کیا گیا۔ اس سے قبل بھی بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہوئی ہیں۔ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگلے روز مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے مزید 4 ہشت گرد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے۔ کئی دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں جب کہ بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ کاروائی کے دوران دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث متعدد مشتبہ افرادکو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ ادھر خضدار میں ایک بلوچ شہری کی ڈیزل سے بھری گاڑی نذرِ آتش کردی گئی ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے ڈانڈے افغانستان اور بھارت سے ملتے ہیں۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد کہاں ٹریننگ حاصل کرتے ہیں، کہاں پناہ حاصل کرتے ہیں اور انھیں پیسہ کہاں سے ملتا ہے، یہ کوئی ڈھکے چھپے حقائق نہیں رہے ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے اگلے روز اسلام آباد میں ’’بلوچستان نیشنل ورکشاپ‘‘ کے شرکا سے خطاب کیا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے افغانستان کی طالبان رجیم پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے ۔ وزیراعظم پاکستان کے ان الفاظ سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعما ل کیا جا رہا ہے اور دہشت گرد گروپوں کو افغانستان اور بھارت کی پوری حمایت حاصل ہے۔ افغانستان کی طالبان رجیم کے وزراء بھارت جاتے رہتے ہیں اور وہاں جا کر وہ جس قسم کے بیانات دیتے ہیں، اس سے بھی یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے افغانستان اور بھارت یکساں اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بھارت افغانستان کی طالبان حکومت کو تکنیکی اور مالیاتی مدد فراہم کر رہا ہے جب کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے اپنی سرزمین دہشت گرد گروپوں کے لیے بطور پناہ گاہ کھول رکھی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے اسی ورکشاپ سے خطاب کے دوران مزیدکہا کہ 2017-18 میں دہشت گردی کا بڑی حد تک خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت یہ دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، دشمن دہشت گردوں کو وسائل فراہم کر رہا ہے، جس کا مقابلہ قومی اتحاد سے کرنا ہوگا۔ انھوں نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف موثر کارروائی کرے۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے افغان عبوری حکومت کو اس حوالے سے بارہا آگاہ کیا، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم کو پوری طرح پتہ ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ افغانستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان تنظیموں کی سسٹرز آرگنائزیشنز کے لیڈر ورہنما غیرقانونی تجارت کرتے ہیں۔ ان میں منشیات کا کاروبار سرفہرست ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لوگ افغانستان میں بلاخوف نقل وحرکت کر رہے ہیں۔ یعنی ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ چھپے ہوئے ہیں۔ طالبان کے مختلف ریجنل جتھے داروں کے ساتھ ان کی ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ یہ صورت حال انتہائی خطرناک ہے۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ بھی اس حوالے سے متعدد بار کہہ چکی ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد موجود ہیں جو دوسرے ملکوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ یورپی ممالک بھی متعدد بار ایسا کہہ چکے ہیں۔ ان حقائق کے باوجود افغان طالبان کی حکومت اپنی روش پر قائم ہے جب کہ بھارت کی بی جے پی حکومت کھل کر طالبان حکومت کی حمایت کر رہی ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا براہ راست شکار ملک ہے۔ یہ ایک دو برس کا قصہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں کی کہانی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں نے پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں خودکش حملے اور بم دھماکے کیے ہیں۔ افغانستان سے متصل پاکستان کے سرحدی علاقوں میں افغانستان سے دراندازی کرنا بھی ایک معمول ہے۔ پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا بھی سب کو پتہ ہے۔ دہشت گردی نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں پاکستانیوں نے جانوں کا نذرانہ پیشکیا ہے جب کہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ اس صورت حال کے باوجود فیڈریشن آف پاکستان بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں تعمیر وترقی کے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ وفاق پاکستان صوبائی حکومتوں کو بھی بھرپور تعاون اور امداد دے رہا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کراچی سے چمن تک این-25 شاہراہ کو دو رویہ بنانے کا 300 ارب روپے کا منصوبہ آئندہ ڈیڑھ سے دو سال میں مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد ’’خونی سڑک‘‘ کو ’’امن کی سڑک‘‘ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ انھوں نے تسلیم کیاکہ بلوچستان کی جغرافیائی وسعت اور پسماندگی کے باعث اس صوبے کو دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ وسائل درکار ہیں۔ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب سمیت دیگر صوبوں نے بلوچستان کے مالی حصے میں اضافے کے لیے بھرپور تعاون کیا، جب کہ پنجاب اب تک 150 ارب روپے بلوچستان کو منتقل کر چکا ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ بلوچستان میں 27 ہزار زرعی ٹیوب ویل شمسی توانائی پر منتقل کیے جا رہے ہیں، جس پر 75 ارب روپے لاگت آئے گی، جن میں سے 50 ارب روپے وفاق فراہم کر رہا ہے۔ کچھی کینال منصوبے کو بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا اور آبی منصوبوں کے لیے رواں مالی سال میں 368 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا کہ بلوچستان کے طلبہ کو لیپ ٹاپ اور وظائف کی تقسیم میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں 10 فیصد اضافی کوٹہ دیا جا رہا ہے، جب کہ صوبے میں 9 دانش اسکول قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ غریب اور یتیم بچوں کو معیاری اور مفت تعلیم فراہم کی جا سکے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان معاشی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھے اور چاروں صوبوں کی یکساں ترقی کو یقینی بنایا جائے۔علاوہ ازیںوزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اور اے آئی کلاڈ پلیٹ فارم سکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ منصوبہ ملک کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔سکائی 47 متحرک، ترقی پسند اور شاندار مستقبل کی جانب ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا جس طرح مقابلہ کر رہا ہے، دنیا کے شاید ہی کسی اور ملک نے اتنی طویل اور صبرآزما جنگ لڑی ہو۔ مالی ومعاشی مشکلات کے باوجود پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی میں مصروف ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی کا سفر بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فیڈریشن جس انداز میں کام کر رہی ہے، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو اس سے شدید خوف محسوس ہو رہا ہے۔ ان صوبوں میں دہشت گردوں کے جو سہولت کار موجود ہیں، ان کو بھی اپنا انجام نظر آ رہا ہے۔ بلوچستان میں زرعی معیشت کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ صنعتی ترقی پر بھی کام جاری ہے۔ گوادر جیسا بین الاقوامی شہر ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ یہ ساحلی شہر آنے والے وقت میں پاکستان کا جدید ترین اور امیر ترین شہر ہو گا۔ اس کے علاوہ بھی بلوچستان میں نئے شہر آباد کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں مڈل کلاس جس طرح بڑھتی جائے گی، پرانا نظام خودبخود ٹوٹتا جائے گا اور دہشت گردوں کو سہولت کاری کا خاتمہ ہو جائے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل