Loading
’’شخصیات پختونخوا‘‘ یہ روخان یوسفزئی کی تازہ ترین تالیف ہے جو اردو میں چھپی ہے اور اس وقت میرے سامنے پڑی ہے۔روخان یوسفزئی کے بارے میں جب بھی کچھ کہنے یا لکھنے کا موقع آتا ہے تو یہی کہتا ہوں کہ میں اس میں ہمیشہ خود کو دیکھتا ہوں۔
جن دشوار گزار راستوں،جان لیوا اونچ نیچ اور بے پناہ کٹھنائیوں سے میں گذر کر آیا ہوں، ویسے ہی راستوں سے روخان یوسفزئی بھی گزر کر آیا ہے۔ بقول منیر نیازی:
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں اک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
اور یہ دریا پانی کے نہیں تھے اور نہ ہی ہمیں کوئی کشتی یا سفینہ میسر تھا بلکہ یہ جگر مرادآبادی کے دریا تھے یا قرۃ العین حیدر کے۔
یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
لیکن یہ’’عشق‘‘ کے دریا بھی نہیں تھے، ظالم زندگی کے ظالم دریا تھے۔طرح طرح کی محرومیوں، مجبوریوں اور مزدورویوں کا ایک طویل سفر تھا۔ہم دونوں کا تعلق اس طبقے سے ہے،جسے ’’ہینڈ ٹو ماؤتھِِ‘‘کہتے ہیں۔ پشتو میں اس کے لیے کہا جاتا ہے،کہ
کتہ باندے کٹوئی باندے
کتہ کوزہ کٹوئی لاندے
ترجمہ(بوجھ سر پر تو ہانڈی بھی چولہے سر۔بوجھ اتارا تو ہانڈی بھی چولہے سے اتری۔روزانہ بونا، روزانہ کاٹنا اور روزانہ کھانا) دونوں کا اس طبقے سے تعلق نہیں جو اجداد کی کمائیوں پر عیش کرتے ہیں اور ہاتھ پیر ہلائے بغیر سب کچھ پا لیتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ ہر اچھائی میں بُرائی اور ہر بُرائی میں اچھائی کا کوئی نہ کوئی پہلو بھی ہوتا ہے، اگر کوئی اسے ڈھونڈ پائے تو۔
اس پُر مشقت،پُر صعوبت اور پُر مجبوری جدوجہد کا اچھا پہلو یہ ہے کہ انسان زندگی کو،انسانوں کو اور دنیا کو بہت قریب سے دیکھ لیتا ہے، بھوگ لیتا ہے اور پوری طرح پہچان لیتا ہے کہ کس کس پردے کے پیچھے کیا بلکہ کیا کیا ہے۔
کس کس نیکی کے پیچھے کیا کیا بُرائیاں ہیں اور کس بُرائی کے پیچھے کیا اچھائیاں ہوتی ہیں اور کتنے چھوٹے چھوٹے لوگوں کے اندار کتنے بڑے بڑے لوگ ہوتے ہیں اور کتنے بڑے بڑے لوگ کتنے چھوٹے ہوتے ہیں۔ جھونپڑوں اور کھنڈروں میں کتنے بڑے بڑے ہیرے مل جاتے ہیں اور کن کن عالیشان محلات میں کتنے بدرنگ، بدبودار کنگھجورے ہوتے ہیں۔
اب مثال کے طور زیادہ تر لوگ توجب کوئی بولتا ہے تو سچ اور جھوٹ کو پہچان لیتے ہیں لیکن ہم کسی کے بولنے سے پہلے جان لیتے ہیں کہ اب یہ کونسا جھوٹ یا سچ بولے گا۔اور روخان یوسفزئی نے تو بہت ساری’’شخصیات‘‘ کو ’’کتابوں‘‘ کی طرح’’پڑھا‘‘ ہے ، جانتا ہے کہ خوبصورت مجلد منقش’’جلدوں‘‘ کے اندر’’کیا‘‘ ہے اور سستی ،کم قیمت قسم کی غیر مجلد اور پٹھی پرانی نظر آنے والی کتابوں میں کیا کیا کچھ ہے اور آج کا معاشرہ تو یوں بن چکا ہے کہ اسے اگر’’شوکیسوں‘‘ کا زمانہ کہیے تو بجا ہوگا کہ تقریبا پچاس فیصد لوگ گھر سے نکلتے ہوئے ایک شوکیس بن کر یا ایک شوکیس پہن کر نکلتے ہیں۔ مرشد نے بھی کہا ہے کہ
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا
اور یہ پتہ تب چلتا ہے جب انسان چہروں کو پڑھنے کا علم حاصل کرتا ہے۔اور روخان یوسفزئی نے یہ علم بھرپور طریقے پر حاصل کیا ہے کہ اس کی عمر ہی چہروں کو پڑھنے میں گزری ہے۔ چہروں کا سلسلہ بھی آج کل کچھ عجیب سا بن گیا ہے۔ بازار میں مصنوعی چہروں کی اتنی بھرمار ہوگئی ہے کہ اصل چہرہ صرف وہی پہچان سکتے ہیں جن کی عمر ، روخان کی طرح چہرے پڑھنے میں گزری ہے ورنہ حالت یہ ہوگئی ہے کہ بڑے روشن چہروں کے پیچھے انتہائی بھیانک چہرے چھپے ہوتے ہیں۔
دوسری طرف ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے کہ فرقہ’’ملامتیہ‘‘ کے صوفی ہوتے ہیں جو دکھاتے کم اور کرتے زیادہ ہیں، بظاہر معمولی لیکن حقیقت میں خاص، بہت ہی خاص ہوتے ہیں۔ کام کرتے ہیں، نام کی پروا نہیں کرتے، نہ ستائیش کی تمنا رکھتے ہیں نہ صلے کی پروا اور روخان یوسفزئی کی اس کتاب میں بھی ایسی شخصیات کی کمی نہیں جو بظاہر ملنگ اور درویش لگتے ہیں لیکن حقیقت میں شاہ و شہنشاہ ہوتے ہیں، ایسے ہی لوگوں کے لیے احمد فرزا نے کہا ہے کہ
ڈھونڈ اُجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل