Saturday, July 25, 2026
 

قومی سلامتی، دہشتگردی، چیلنجز اور مستقبل کی حکمت ِ عملی

 



پاکستانی وزارت داخلہ کی جانب سے 10 جولائی 2026 سے بغیر قانونی ویزا یا دستاویزات کے مقیم افغان شہریوں کے خلاف ملک گیر کارروائی کا اعلان محض ایک انتظامی حکم نہیں بلکہ پاکستان کی داخلی سلامتی، امیگریشن پالیسی اور ریاستی رٹ سے جڑا ایک اہم فیصلہ ہے۔ وزارتِ داخلہ نے چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی انتظامیہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو Illegal Foreigners Repatriation Plan (IFRP) کے تحت فوری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 11 جولائی سے روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کی رپورٹ وزارت کو ارسال کی جائے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس مرتبہ اس معاملے کو محض ایک وقتی مہم نہیں بلکہ ایک منظم قومی پالیسی کے طور پر دیکھ رہی ہے جس کا مقصد غیر قانونی امیگریشن پر قابو پانا، قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ریاستی اداروں کی عملداری کو بحال کرنا اور ان داخلی خطرات کا سدباب کرنا ہے جو برسوں سے پاکستان کی سلامتی کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات جغرافیہ، تاریخ، ثقافت اور مذہبی رشتوں کے باعث ہمیشہ منفرد رہے ہیں۔ 1979 میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد لاکھوں افغان شہری جان بچانے کے لیے پاکستان آئے۔ اس وقت پاکستان نے عالمی برادری کے تعاون سے ان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔ اس کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی، مختلف حکومتوں کی تبدیلی، طالبان کا پہلا دور، امریکی مداخلت، بیس سالہ جنگ اور پھر 2021 کے بعد کی سیاسی تبدیلیوں نے مہاجرین کی نئی لہروں کو جنم دیا، یوں تقریباً چار دہائیوں کے دوران لاکھوں افغان شہری پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہوئے۔  جن میں سے ایک بڑی تعداد قانونی طور پر رجسٹرڈ تھی جب کہ متعدد افراد مختلف وجوہات کی بنا پر رجسٹریشن سے محروم رہے یا ان کے سفری دستاویزات کی مدت ختم ہو گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مسئلہ صرف مہاجرین تک محدود نہ رہا بلکہ ایک پیچیدہ سماجی، انتظامی اور سیکیورٹی مسئلہ بن گیا۔ خیبر پختونخوا، سابق قبائلی اضلاع، بلوچستان، کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں کئی افغان خاندان نسلوں سے مقیم ہیں۔ ان میں سے بے شمار افراد مقامی زبانیں خصوصاً پشتو روانی سے بولتے ہیں، مقامی رسم و رواج اپنا چکے ہیں، مقامی خاندانوں میں شادیاں کر چکے ہیں، کاروبار قائم کر چکے ہیں اور ان کی نئی نسل پاکستان ہی میں پروان چڑھی ہے۔ اسی طویل قیام کے باعث بعض افراد کے بارے میں مختلف اوقات میں یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ انھوں نے غیر قانونی ذرائع سے پاکستانی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر سرکاری دستاویزات حاصل کیں، جن کے خلاف نادرا، ایف آئی اے اور دیگر ادارے وقتاً فوقتاً کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ یہی صورتحال آج حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ اب صرف زبان، لباس، رہائش یا خاندانی تعلقات کی بنیاد پر کسی شخص کی شہریت یا قانونی حیثیت کا تعین ممکن نہیں رہا۔حکومت کی جانب سے نافذ کیے جانے والے Illegal Foreigners Repatriation Plan کا بنیادی مقصد صرف غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو واپس بھیجنا نہیں بلکہ ملک میں موجود ہر غیر ملکی کی قانونی حیثیت کو واضح کرنا، امیگریشن نظام کو موثر بنانا اور مستقبل میں غیر قانونی آمدورفت کو روکنا بھی ہے۔ اس پالیسی کے تحت وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مربوط تعاون، روزانہ کی رپورٹنگ، بائیومیٹرک تصدیق، سفری دستاویزات کی جانچ اور ڈیٹا بیس کی ہم آہنگی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے تاکہ کسی بھی کارروائی میں غلطی کے امکانات کم سے کم رہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان، دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ خودکش حملے، سیکیورٹی فورسز پر حملے، سرحدی چوکیوں پر یلغار، پولیس اور دیگر ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات نے حکومت کو اپنی داخلی سلامتی کی حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کیا ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے مختلف کارروائیوں اور تحقیقات کے بعد متعدد مواقع پر یہ موقف اختیار کیا کہ بعض حملہ آوروں یا ان کے سہولت کاروں کے روابط سرحد پار موجود دہشت گرد نیٹ ورکس سے تھے۔ اسی تناظر میں حکومت یہ موقف اختیار کرتی ہے کہ جب تک ملک میں موجود ہر غیر ملکی کی شناخت، قانونی حیثیت اور نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں ہوگا، اس وقت تک داخلی سلامتی کے خطرات کو مؤثر انداز میں کم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ دہشت گردی کا تعلق کسی ایک قومیت سے نہیں بلکہ مخصوص شدت پسند گروہوں اور مجرمانہ نیٹ ورکس سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں برسوں سے رہنے والے لاکھوں افغان شہری قانون کی پاسداری کرتے ہوئے پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی لیے ریاست کے لیے ضروری ہے کہ کارروائی شواہد، انٹیلی جنس معلومات اور قانونی تقاضوں کی بنیاد پر کی جائے تاکہ ایک طرف قومی سلامتی کے مقاصد حاصل ہوں اور دوسری طرف بے گناہ اور قانونی حیثیت رکھنے والے افراد کسی غیر ضروری پریشانی کا شکار نہ ہوں۔ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف اس وسیع پیمانے کی کارروائی کا سب سے پیچیدہ پہلو شناختی دستاویزات کی تصدیق ہوگا۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مختلف تحقیقات میں جعلی یا غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے قومی شناختی کارڈز اور پاسپورٹس کے نیٹ ورکس سامنے آتے رہے ہیں، جن کے خلاف نادرا، ایف آئی اے اور دیگر ادارے کارروائیاں بھی کرتے رہے ہیں۔  اگر کسی غیر ملکی نے غیر قانونی طریقے سے پاکستانی شناخت حاصل کر لی ہو تو محض گرفتاری کافی نہیں ہوگی بلکہ یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ اس شناختی دستاویز کے اجرا میں کن افراد یا اداروں نے سہولت فراہم کی، کس سطح پر بدعنوانی ہوئی، اور اس نیٹ ورک سے مزید کتنے افراد مستفید ہوئے، اگر ان بنیادی مسائل کو نظر انداز کر دیا گیا تو غیر قانونی امیگریشن کا سلسلہ وقتی طور پر تو کم ہو سکتا ہے لیکن اس کی جڑیں برقرار رہیں گی۔ اسی طرح سرحد پار منظم جرائم بھی ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد کئی برسوں سے منشیات، غیر قانونی اسلحے، انسانی اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی جیسے جرائم کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف مواقعے پر ایسے گروہوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں جو منشیات کی ترسیل، غیر قانونی مالیاتی لین دین اور سرحد پار اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ حکومت کا موقف ہے کہ جب ملک میں موجود ہر غیر ملکی کی قانونی حیثیت واضح ہوگی تو ایسے نیٹ ورکس کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی بھی زیادہ مؤثر انداز میں کی جا سکے گی۔ تاہم اس کے لیے صرف امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کافی نہیں بلکہ بارڈر مینجمنٹ، کسٹمز، اینٹی نارکوٹکس فورس، ایف آئی اے، اسٹیٹ بینک، مالیاتی نگرانی کے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان مستقل تعاون بھی ناگزیر ہوگا۔ اس پالیسی کے معاشی اثرات بھی نمایاں ہوں گے۔ ایک طرف حکومت کا خیال ہے کہ غیر قانونی امیگریشن میں کمی سے صحت، تعلیم، پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ اور دیگر سرکاری وسائل پر دباؤ کم ہوگا اور ریاست کے لیے وسائل کی بہتر منصوبہ بندی ممکن ہوگی، جب کہ دوسری جانب حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سے افغان شہری گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی معیشت کا حصہ بن چکے ہیں۔ وہ تجارت، ٹرانسپورٹ، تعمیرات، قالین بافی، خشک میوہ جات، چھوٹے کاروبار اور مزدوری سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ ہیں۔ اس لیے بڑے پیمانے پر ان کی واپسی سے بعض مقامی کاروباروں، منڈیوں اور مزدور منڈی پر بھی عارضی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو ان ممکنہ معاشی اثرات کا بھی پیشگی جائزہ لینا ہوگا تاکہ کسی شعبے میں غیر ضروری خلل پیدا نہ ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نادرا کے ریکارڈ کا جامع آڈٹ کیا جائے، جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنانے والے نیٹ ورکس کو جڑ سے ختم کیا جائے، بارڈر مینجمنٹ کو جدید ٹیکنالوجی سے مزید مضبوط بنایا جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل