Loading
جھوٹ سے مراد کسی بھی شخص یا گروہ کا قصداً حقیقت کیخلاف بات کہنا جس کا مقصد سامنے والے کو دھوکہ دینا ہے، اسے عربی میں کذب اور فارسی میں دروغ بھی کہا جاتا ہے۔ جھوٹ کے معنی قصداً خلاف واقعہ بیانی کسی حقیقت کو جانتے بوجھتے ہوئے غلط انداز میں پیش کرنا دھوکہ دہی ،دوسروں کو گمراہ کرنے یا اپنے ذاتی فائدے کے لیے جھوٹ بولنا ۔
مذہبی روایات کے مطابق تاریخ انسانی کا سب سے پہلا جھوٹ ابلیس کی طرف سے بولا گیا جو بات اس نے حضرت آدم علیہ السلام اوراماں حوا سے کہی تھی، اس کا تذکرہ قرآن مجید میں آیا ہے، جس کا اردو ترجمہ یہ ہے۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں، یہ جھوٹ تھا ،جو شیطان نے قسم کھائی ،انھیں اس درخت کا پھل کھانے کے لیے کہا تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے انھیں منع فرمایا تھا۔
جھوٹ کا یہ سلسلہ بنی نوع انسانیت کے کرہ ارض پر آغاز سے لے کر آج تک پورے زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ پاکستان کا قیام بہت قربانیوں کے بعد پایہ تکمیل تک پہنچا جس میں ہمارے سیاسی اکابرین قائد اعظم، علامہ اقبال، سر سید احمد خان، لیاقت علی خان اور بے شمار رہبروں اور رہنماؤں کی کوششوں اور جدوجہد کے بعد پاکستان کا قیام عمل میں آیا مگر بد قسمتی سے لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد پاکستان کی تب سے لے کر آج تک سیاسی قیادت نے عوام الناس کو شروع دن سے ہی دھوکہ دیا ہے اور جھوٹ بولا ہے۔
معاشی خوشحالی، اچھی تعلیم، روزگار ،امن و امان ،صحت کی سہولیات، یہ وہ تمام جھوٹ تھے جو تب سے لے کر آج تک ہمارے سیاسی رنگ باز ٹولے نے عوام کے آگے راگ الاپ رہے ہیں ۔ہمارے سیاسی ٹولے نے عوام کو جان بوجھ کر بے شعور رکھا ہوا ہے تاکہ وہ اپنے معاشی حقوق کے لیے عملی جدوجہد میں باہر نہ نکلیں۔
عوام الناس میں بے شعوری کی وجہ سے ہم پر مسلط کردہ گروہ درحقیقت اپنے مفادات کے لیے کام کرتا ہے اور عوام سے جھوٹ بولتا ہے کہ وہ عوام کو ان کے بنیادی معاشی حقوق دیں گے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔پاکستانی قوم نے آمریت اور جمہوریت دونوں کے ادوار دیکھے ہیں لیکن ان دونوں نظاموں نے عوام کو کچھ بھی ڈلیور نہیں کیا، بدقسمتی سے عوام کسی کو منتخب کر بھی لیتے ہیں تو ایک خاص سوچ کا نظام منتخب شدہ نمائندوں کو ایوان اقتدار میں آنے نہیں دیتا۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عوام کے جو نمائندے منتخب ہو کر ایوان اقتدار میں آ جاتے ہیں بعد میں وہ بھی عوام کیساتھ جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں، جھوٹ کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ نے یہ بات ثابت کی ہے کہ تمام کے تمام سیاستدان الیکشن سے قبل بہت بڑے بڑے دعوے وعدے کرتے ہیں اور جب منتخب ہو کر ایوان اقتدار میں آ جاتے ہیں تو یہ اپنے وعدوں اور دعووں سے پھر جاتے ہیں اور عوام سے جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں۔
پاکستان کے عوام برائے نام زندہ قوم ہیں، سیاست دانوں نے پاکستانی عوام کو اتنا لاچار بے بس کر دیا ہے کہ وہ سب کچھ جانتے ہوئے ،ان کا جھوٹ سمجھتے ہوئے بھی سڑکوں پر نہیں نکل رہے ہیں ۔انقلاب پلیٹ میں سجا کر کوئی عوام الناس کو نہیں دے گا، اس کے لیے عملی جدوجہد کی ضرورت ہے۔
اہل دانش کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ عوام میں شعور بیدار کرنے کی تحریک کا آغاز کریں جس طرح سر سید احمد خان نے علی گڑھ تحریک کے ذریعے شعوری تحریک کا آغاز کیا تھا ۔اسی طرح کی شعوری تحریک کی پاکستان کو سخت ضرورت ہے ۔
عوام الناس کو مل کر رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر انقلاب کی طرف بڑھنا پڑے گا ،ورنہ حالات مزید ابتر ہوتے جائیں گے ۔ پاکستان میں درحقیقت دو ملک ہیں ایک اشرفیہ کا دوسرا غریبوں کا، غریب دن بدن غریب ہوتا جارہا ہے تو دوسری طرف امیر دن بدن امیر سے امیر ترہو رہا ہے، یقین جانیے حکمران طبقے کو عوام کی زندگی سے کوئی سروکار نہیں، یہ صرف اپنے مفاد کی خاطر ایوان اقتدار میں آتے ہیں اور اپنے مفادات حاصل کر کے چلے جاتے ہیں۔
تمام ہی سیاستدانوں نے جھوٹ کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے بنیادی آئینی و معاشی حقوق کے لیے تحریک معاشی آزادی کی تحریک کا آغاز کریں ۔ عوام الناس کی یہ حالت ہے کہ سب کچھ جاننے کے باوجود کوئی بھی روڈوں پر نکلنے کو تیار نہیں ہے۔
مجھے کہنے دیجیے کہ انقلاب کو خیراتی اداروں نے بھی روکا ہوا ہے جب ایک بھوکے کو روزانہ بکرے یا گائے کا گوشت کھلائیں گے تو وہ کیسے انقلاب کے لیے باہر نکلے گا ؟انقلاب بھوک سے نکلتا ہے، سوچی سمجھی سازش کے تحت عوام کو ان کے محوری معاشی چکر میں لگا کر انقلاب کو روکا جا رہا ہے۔
اس میں عالمی اور اندرونی سیاسی طاقتیں ملوث ہیں ۔ عوام کس معجزے کا انتظار کر رہے ہیں، کب عوام جاگیں گے اور سڑکوں پر انقلاب کے لیے نکلیں گے، خوشحالی ،امن ،روزگار، اعلیٰ تعلیم پر صرف اشرفیہ کا حق ہے، غریب کا بچہ پڑھ لکھ کر بھی روزگار کے لیے روز دھکے کھاتا ہے ،ایسے نظام کا عوام کیا کریں جہاں انھیں ان کا آئینی اور معاشی حق نہیں ملتا۔
پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو بہت سی تلخ حقیقتیں ہم پر عیاں ہوں گی کہ کس طرح سے عوام کے حقوق پر سیاست دانوں نے ملکر ڈاکہ ڈالا ہے، تقریبا تمام ہی سیاسی پارٹیوں کو عوام نے ایوان اقتدار میں پہنچایا مگر بدقسمتی سے تمام سیاستدان اپنی کہی ہوئی باتوں سے پھر گئے اور جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے ۔
آخر جھوٹ کی یہ روایت کب ختم ہوگی اور کب سیاست دان ، عوام کے سامنے سچ بولیں گے ۔حقیقت اور سچ یہ ہے کہ عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ۔متوسط طبقہ اپنی عزت کو بچاتے ہوئے مشکل سے زندگی بسر کر رہا ہے۔ عوام جائیں تو کہاں جائیں؟
قوم اپنے حکمرانوں سے یہ سوال پوچھنے پر حق بجانب ہے کہ ان کا کیا قصور ہے؟ ان کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے۔ کیا پاکستانی عوام کا یہ قصور ہے کہ انھوں نے جھوٹے نااہل، بے ایمان سیاست دانوں کو اپنے اوپر مسلط کیا اور ایوان اقتدار میں لائے ۔
خدارا، عوام کو اتنا بھی نہ تنگ کریں کہ ان کا صبر جواب دے جائے اور وہ تنگ آ کر ایک طوفان کے مانند سارے ایوان اقتدار کو بہا کر لے جائیں۔ عوام کے درد غم کو سمجھیں کچھ تو ڈلیور کریں۔
قبل از انتخابات سیاستدان نئے نئے خواب عوام کو دکھاتے ہیں اور منتخب ہونے کے بعد یہ سب کچھ بھول کر بس جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہتے ہیں۔ راقم الحروف اپنے اس کالم کے ذریعے حکمران طبقے سے یہ پرزور اپیل کرتا ہوں ۔
خدارا ، عوام پر رحم کریں، ان کے بنیادی آئینی و معاشی حقوق دیں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور معاملہ سب کے ہاتھوں سے نکل جائے ۔وقت کا تقاضا یہ ہے کہ عوام کو ان کے بنیادی معاشی حقوق دیے جائیں۔
میں اپنے ہر دل عزیز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی یہ پر زور اپیل کرتا ہوں کہ وہ سیاستدانوں کیساتھ معاشرے کے دوسرے طبقات کے نمائندوں کو بٹھا کر ایک معاشی روڈ میپ تشکیل دیں تاکہ ان تمام مسائل کا حل نکلے۔ عوام اپنے سیاستدانوں سے بھی یہ گزارش کرتے ہیں کہ خدارا ،وہ جھوٹ اور فریب اور منافقت سے باز رہیں۔ اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ (آمین)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل