Saturday, July 25, 2026
 

اعتبارؔ ساجد کی غزل پر مکالمہ

 



ہر انسان اپنی روز مرہ زندگی میں اذیت اور راحت جیسی کیفیات سے دوچار ہوتا ہے۔ جب مشکل وقت میں انسان مسکرانا چاہتا ہے تو اُس وقت وہ کسی ایسے درد سے گزر رہا ہوتا ہے کہ وہیں لمحہ اُس کی اذیت کا ہوتا ہے ،جب کہ انسان اپنے درد سے رہائی پاکر خوشی میں طمنانیت محسوس کرتا ہے تو وہ لمحہ اُس کے لیے راحت کا ہوتا ہے۔ ایسے میں انسان اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کسی نہ کسی سے کچھ ایسا مانگتا ہے جو ’’اُدھار‘‘ کی مد میں آتا ہو، لیکن ایسا فرد جو اپنی روزمرہ زندگی میں اپنی خواہشوں کو رد کر کے ، اپنے درد کو سینے میں قید کر کے، اپنی خوشیوں کو دوسروں پر نچھاور کر کے، دوسروں کے آنسوؤں کو اپنی ہتھیلی پہ رکھ کر، اس وحشت زدہ ماحول میں بھی اپنی وفائیں تقسیم کرنے اور اپنے دل سے بوجھ اُتارنے اور اپنے اُداس دنوں کی اُداسیوں کو ختم کرنے کے لیے صرف ایک شام اُدھار کا منتظر ٹھہرتا ہو۔ ایسے انسان سے میری مراد دورِ حاضر کے معروف شاعر،نقاد، کالم نگاراور ماہر تعلیم اعتبار ساجد سے ہیں۔ ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’مجھے کوئی شام دو‘‘ کے بیسویں ایڈیشن کی مشہورِ زمانہ غزل دیکھے جو ہر عہد میں نوجوان نسل کی پسندیدہ اور مقبول غزل رہی ہے۔ تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں، مرے دل سے بوجھ اُتار دو میں بہت دنوں سے اُداس ہوں مجھے کوئی شام اُدھار دو تخلیق کار ایک ایسی دنیا کے خواب دیکھتا ہے جو اس کی امنگوں اور آرزؤں کے مطابق ہو، مگر جب خواب ٹوٹنے لگتے ہیں تو شدید کرب کی کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے۔اعتبار ساجد بھی بہت سے خواب ٹوٹنے پر ایسے شدید کرب کی کیفیت سے گزرے ہیں، مگر وہ اپنے خوابوں کا حال کسی اور سے نہیں بیان کرتے بلکہ اپنے لفظوں کی صورت میں اپنے اشعار میں کہہ دیتے ہیں۔ وہ اپنے اس شعر میں اپنے محبوب کے حسن وجمال کے روپ کی بات کر رہے ہیں ایسا روپ جو دھوپ کی ٹھنڈی چھاؤں کی طرح ہے جیسے موسم گرما کی دھوپ میں کسی برگد کی چھاؤں میں بیٹھا ہُوا محبت کا کوئی مسافر کہہ رہا ہوں کہ: مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال و خد مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو، مرے سارے زنگ اُتار دو اعتبار ساجد کی غزل میں ضعف بیان نہیں ہے بلکہ ان کے ہاں الفاظ کا چناؤ اور ان کا استعمال برمحل ہے جو ان کی علمی دسترس کا ثبوت بھی ہے اور فنی پختگی کی دلیل بھی۔ ان ہاں بکھر کر سمیٹ لینے کا تاثر ایسے ہی ہے جیسے موسم خزاں میں پیڑوں سے پتوں کا جھڑ جانا اور موسمِ بہار کی آمد پر اُن کا لوٹ آنا۔ مگر وہ ایسے حالات میں بھی کسی سے کوئی واسطہ نہیں رکھتے۔ بقول اس شعر کہ: کسی اور کو مرے حال سے نہ غرض ہے کوئی نہ واسطہ میں بکھر گیا ہوں سمیٹ لو، میں بگڑ گیا ہوں سنوار دو بعض اوقات اعتبار ساجد کا قاری محسوس کرتا ہے کہ ایک شخص اپنی خیالی داستان بیان کر رہا ے اور ایسا ممکن بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات شاعر خود بیتی کی بجائے جگ بیتی بیان کر رہا ہو، لیکن اعتبار ساجد کی غزل کے اس شعر سے ہم ایسا گمان نہیں کر سکتے۔ یہ خالص اُن کے اپنے دل پر گزرنے والی داستانِ الم ہے جس کو انھوں نے اپنے اس شعر کے بقول کہی ہے۔ مری وحشتوں کو بڑھا دیا ہے جدائیوں کے عذاب نے مرے دل پہ ہاتھ رکھو ذرا، مری دھڑکنوں کو قرار دو کہا جاتا ہے کہ ’’لمحاتِ ہجر ہو یا لمحاتِ وصل یعنی کامرانی وناکامی دونوں صورتوں میں تجربات کا بیان جہاں ادیب و شاعر کی جرات مندی کا امتحان ہوتا ہے ،وہاں یہ تجربات لمحاتی ہونے کے باوجود اُس کی تمام حیات پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔‘‘ ان تمام تر باتوں کے بر عکس میرے نزدیک شاعر دل کی واردات، کو نہایت نفاست اور درویشی سے الفاظ،تشبیہہ اور استعاروں کی لڑیوں میں پرو دیتا ہے، کیونکہ تجربے کی وسیع دنیا کو اشعار کے کوزے میں بند کر دینا ایک شاعر ہی کا حسن کمال ہے۔یہی حسن کمال اعتبار ساجد کی اس غزل کے ہر ایک شعر میں دکھائی دیتا ہے۔ تمہیں صبح کیسی لگی، کہو، مری خواہشوں کے دیار کی جو بھلی لگی تو یہیں رہو، اسے چاہتوں سے نکھار دو اپنی خواہشوں کے دیار کی خبر لینے کے بعد وہ جب اپنی چاہتوں کو نکھارنے کے لیے زندگی کی گمنام گلیوں سے گزرتے ہوئے جب اپنے گھر کی طرف لوٹتا ہے تو اُسے ایک فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ یہ فکر اُس کی اپنے گمنام ہونے کی نہیں بلکہ اپنے اہلِ خانہ کی ہے۔ جس کے لیے وہ رات دن کی مشقت کی چاندنی میں اپنا سفر جار ی رکھے ہوئے اُن کی خواہشوں کا منتظر ہے۔ وہاں گھر میں کون ہے منتظر کہ ہو فکر دیر سویر کی بڑی مختصر سی یہ رات ہے اسی چاندنی میں گذار دو اعتبار ساجد اُردو ادب کا وہ ماہتاب ہے جس کے گرد بہت سے ستارے گردش کر رہے ہیں۔ایک طویل عرصے سے اُس کی تقلید بھی جاری ہے۔ یہ چاند جب اُردو ادب کے آسمان پر نہیں جگمگاتا تو بہت سے ستارے اپنی اُداس چاندنی میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں اور رات کا اندھیرا در بدر ہوتا ہُوا کبھی کسی دیوار پر جلتے دیے کی پنا ہ مانگتا ہے تو کہیں رستے میں بھٹکتے ہوئے جگنو کی ٹمٹماتی روشنی کا۔ مگر جب یہ چاند ادب کے آسمان پر جلوہ گر ہوتا ہے تو اُداس شامیں بھی خوشی سے جھوم اُٹھتی ہے اور ستاروں کی چمک میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اُسے اپنے چاہنوں والوں کے درمیان قیام کرنا اچھا لگتا ہے۔ کوئی بات کرنی ہے چاند سے کسی شاخسار کی اوٹ میں مجھے راستے میں یہیں کہیں کسی کنج گل میں اُتار دو در اصل ایسے غزلیں اور ایسا کلام جو برسوں تک ذہنوں پر اپنا اثر برقرار رکھتا ہو اُردو ادب میں ایسا بہت کم نظر آتا ہے، لیکن مقامِ مسرت ہے کہ پاکستان کو ایک ایسا شاعر دستیاب ہے جس کی گونج صفحہ ِ اول کے شعراء کے ناموں کے ساتھ سنائی دیتی ہے،مگر افسوس دل کی دھڑکنوں اور روح کی تازگی میں بسنے والا یہ محبتوں اور صداقتوں کا شاعر اعتبار ساجد ہم میں نہیں رہے ۔ ان کی یادوں اور باتوں کی خوشبو ہمارے ساتھ ہمیشہ رہے گی۔ یاد رہے یہ کالم ان کی زندگی میں لکھا گیا جسے ان کی وفات کے بعد شائع کیا جا رہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل