Loading
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کچھ یہودیوں کے پاس سے گزرے، انھوں نے آپ کو برا کہا، آپ نے ان کے حق میں کلمات خیر کہے، لوگوں نے عرض کیا وہ تو آپ کو برا کہہ رہے ہیں اور آپ ان کے حق میں کلمہ خیر کہتے ہیں؟ فرمایا، ہر شخص وہ خرچ کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے۔
یہ بہت سوچنے کی بات ہے اور اس میں دانائی چھپی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عقل و فراست، علم اور بے پناہ وہ خصوصیات جو رب العزت نے ایک پیغمبر میں رکھی تھیں اور جن کا مظاہرہ وہ کرتے رہتے تھے ان میں ایک خوبی حلم بھی ہے۔
حلم کے معنی بردباری، دور اندیشی، ضبط و تحمل کے ہیں۔ ایک ایسی برداشت جسے ضبط کرنا مشکل ہو لیکن اسے اپنی عقل مندی، دور اندیشی اور اپنے دل کی نرمی سے کام لیتے گزار دینا ہے۔ غصہ پینا آسان نہیں ہے ،یہ ایک بہت مشکل امر ہے لیکن یہ حلم کی ابتدائی اسٹیج ہے گویا اس کے بعد غصہ قابو کرنے کی عادت کے بعد حلم کے دیگر مدارج آتے ہیں جس میں علم و عمل بھی ایک اہم درجہ ہے۔
جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال سے ظاہر ہے کہ آپ غصہ برداشت کرنے کے عادی تھے لیکن علم و فراست سے مسائل کو سمجھتے تھے۔ ایک سمجھ دار عالم، استاد ایسا ہی کرتا ہے اور اپنے شاگردوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتا ہے۔ وہ اپنے نفس کے شر کو قابو میں رکھنے کا ہنر جانتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تاریخ ایسے بے مثال علما کے کارناموں اور دانائیوں کے قصوں سے بھری پڑی ہے جو استاد شاگرد کے رشتے کو روحانی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔
اتنے لمبے چوڑے بیان کا مقصد آج کل ہونے والے ان دل دہلا دینے والے حالات و واقعات سے ہے جہاں استاد اپنے شاگردوں کے ساتھ ایسے ایسے بدنما کارنامے کرتے نظر آتے ہیں کہ جن سے انسان شرم سے نظریں چرا لے لیکن ایک کے بعد ایک واقعات نظر آتے ہی رہتے ہیں۔
بچپن میں ہم بھی روحانی باپ کے زیر تعلیم حاصل کرتے رہے اور یہ ایک یادگار سفر بھی تھا جہاں مولوی صاحب بچوں کو قرآنی تعلیم کے ساتھ کلمے، نماز اور احادیث بھی یاد کروایا کرتے تھے۔ بچے بڑے مزے سے ہل ہل کر ہم آواز کلمے پڑھتے، احادیث دہراتے اور نماز کے فضائل سناتے مزہ محسوس کرتے تھے۔ یہ بچے، بچیاں مختلف عمر اور طبقات کے تھے عموماً محلے کے ہی بچے ہوا کرتے تھے جب کہ دور سے بھی کہیں سے آیا کرتے تھے۔
مولوی صاحب عمر میں خاصے جوان اور نورانی صورت کے مالک تھے۔ انتہائی سمجھ دار اور بچوں کو ڈیل کرنے میں ماہر لگتے تھے۔ بچوں کو ہنسی مذاق میں سمجھایا بھی کرتے ان کے درمیان لڑائی جھگڑے بھی نمٹایا کرتے تھے اور چھٹی کرنے والے خاص کر لڑکوں کو جو اپنا سبق اچھی طرح سے یاد نہ کرتے تھے۔
دن بھر کھیل کود میں گزارتے تھے کیونکہ مولوی صاحب قریب ہی کہیں رہتے تھے، لہٰذا محلے کے بچوں کی خبر رکھتے تھے۔ ان کی سزا کا انداز دلچسپ تھا جو اس وقت ہماری نظر میں ظالمانہ تھا، یہ الگ بات کہ بچیوں پر کبھی آزمایا نہ گیا تھا۔
وہ ایک لکڑی کی چھوٹی سی ڈنڈی جسے موٹی مسواک کہہ سکتے ہیں لڑکوں کی پیٹھوں پر ہلکے سے مارتے تھے اور بس وہی کافی ہوتا تھا۔ انھوں نے کبھی بھی اٹھ کر ایک تھپڑ کسی بچے یا بچی کے رسید نہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو باقاعدگی سے پڑھنے آنا چاہیے اور گھر جا کر کچھ وقت کے لیے اپنا سبق ضرور دہرانا چاہیے تاکہ ذہن میں بیٹھ جائے۔
محلے کے لوگ اپنے بچوں کی شکایات بھی ان سے کر دیتے تھے اور وہ جوان سے مسکراتے ہوئے کہتے تھے کہ آپ فکر نہ کریں وہ آئے تو میں اس کی خبر لوں گا۔ آج ماشا اللہ زمانے نے بڑی ترقی کر لی ہے، بڑے بڑے مدرسے کھل گئے ہیں، ان کے ساتھ بچوں کے رہنے کے لیے ہاسٹلز بھی میسر ہیں، پیسوں کی تنگی بھی نہیں ہے، پھر ایسا کیا ہے جو المناک صورت میں ابھر کر سامنے آتا ہے اور دل پکار اٹھتا ہے کہ یہ ہمارے اسلامی شعائر کے خلاف ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
کہیں مدرسے کے نام پر چندہ اکٹھا ہو رہا ہے، کوئی بات نہیں لیکن اس کا کیا مصرف ہے۔ پھر بچوں کو اسکول کی طرح ایک ہی وقت پر مدرسے جانا اور چھٹی کے وقت نکل جانا چاہیے۔ ایسا کیوں کہ ایک استاد کے ہمراہ ایک بارہ گیارہ سال کی بچی اکیلے علم حاصل کر رہی ہے، اکیلا تنہا اتنا بڑا کمرہ ۔۔۔۔ کیا یہ دانش مندی ہے؟
سوال تو اٹھتے ہیں، جب ایسے ہی استاد حضرات بے دریغ اپنے معصوم شاگردوں کو ڈنڈوں اور بیلٹوں سے پیٹتے نظر آتے ہیں، آخر ان کا علم کہاں گیا؟ ان کا وقار کہاں کھو گیا؟ وہ بچے بچیاں جو روحانی بچے بھی، شیطانی آلہ کار بن کر کیسے نفس پر سوار ہو گئے؟
حضرت علیؓ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا۔
’’بہترین حلم غصہ پی جانا ہے۔‘‘
غیظ و غضب کا ہیجان یقینا انسان کو دیوانہ کر دیتا ہے، پر ایسی حالت میں ہی خود کو کنٹرول حالت میں رکھنا حلم ہے۔ اپنے بچپن کی بات یاد ہے کہ ایک بچہ جو سامنے گلی میں ہی رہتا تھا، گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کے باعث گھر بھر کا لاڈلا تھا، اچھا خاصا بڑا بچہ الف ، بے کے قاعدے سے بڑھ نہ پایا تھا، والدین بوڑھے اور بڑے بھائی بہن والدین کی مانند۔
لہٰذا بچے کی تو چھوٹ ہی تھی۔ بقول مولوی صاحب کے اسے انھوں نے سارے محلے میں آتے جاتے، مٹرگشتی کرتے اور کھیلتے کودتے دیکھا تھا لیکن نامعلوم وجوہ کی بنا پر صاحب زادے غیر حاضر۔ اسے اور اس کے بڑے بھائی کو (جو خود بھی پڑھنے سے بھاگتے تھے) بہانے کرکے پیار محبت سے بلایا گیا کہ مولوی صاحب کچھ نہیں کہیں گے۔
وہ دونوں آئے تو پہلے تو مولوی صاحب نے ان سے غیر حاضری کی وجہ پوچھی، وہ اِدھر اُدھر کی ہانکنے لگے (غالباً ان کے والد صاحب نے ہی شکایت کی تھی) مولوی صاحب زیر لب مسکراتے رہے، پھر ایک ایک جھوٹ کی وجہ پوچھتے ان کے ہاتھوں پر ڈنڈی مارتے، اس دن پہلی بار انھوں نے اتنی ڈنڈیاں کسی بچے کو ماری تھیں۔
بہرحال دونوں بھائی اس کے بعد باقاعدگی سے آنے لگے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اسکول جانے کے بھی چور تھے اور آنے والے وقتوں نے دکھایا کہ ان دونوں نے بہ مشکل کسی نہ کسی طرح تعلیمی مدارج مکمل کیے یا نہ کیے پر ایک اچھے گھر سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر کچھ تو بن گئے اور آج دونوں حضرات انھی مولوی صاحب کے نقش قدم پر چلتے نظر آتے ہیں۔
ہم کسی کو رول ماڈل کے طور پر اپنا نہیں سکتے لیکن اس کی تقلید تو کر سکتے ہیں۔ ہمارے بچوں کو بہت اچھا پڑھایا جاتا ہے لیکن اساتذہ کو اس تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے جس کے وہ متقاضی ہیں۔
ان کی ’’ذہنی تربیت‘‘ ہمارا مذہب ہمیں قرآن کی تعلیم، احادیث اور نماز کے ذریعے نظم و ضبط، حلم سکھانے کی تلقین کرتا ہے، ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں، پر ہماری نئی نسل کے اساتذہ کی تربیت میں کہیں نہ کہیں چوک ضرور ہو رہی ہے۔ ہمیں اس پر ضرور توجہ کرنا ہوگی۔ غصہ پیتے اپنی عقل و شعور کو چوکس رکھتے اپنے بچوں کو اپنے جگر کے ٹکڑے سمجھتے ہی عمل کریں تو اٹھتے ہاتھ ضرور کانپیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل