Saturday, July 25, 2026
 

فکری و تحقیقی کاوش ’’ 999 ٹریلین ڈالرکی کتاب‘‘

 



علامہ عبدالستار عاصم کی علم و آگہی کے نگینوں سے مرصع کتاب حال ہی میں مجھے موصول ہوئی ہے۔ یہ کتاب ان کے شب و روز محنت کا صلہ ہے، علم کے سمندر سے موتی رولنے اور عالمی علوم سے وابستہ شخصیات کا تعارف اور ان کے کارناموں سے متعارف کرانے کا ثمر ہے۔ ایک خوبصورت، دلکش اور علم کی کرنوں سے مزین، ایک ایسا گلدستہ ہے جو طالب علموں کو روشنی پہنچانے کا پیش خیمہ ہے۔ کتاب کا نام ہی انھوں نے ’’999 ٹریلن ڈالرکی کتاب‘‘ تجویزکر کے اہل بصیرت سے اپنی علمیت و قابلیت کا لوہا منوا لیا ہے اور ایسی ایسی نابغہ روزگار ہستیوں کے چراغ فکر سے 248 صفحات کو منورکردیا ہے۔ یہ کتاب علوم و معارف کا وہ مجموعہ ہے جوکسی قوم یا تہذیب و ثقافت تک ہرگز محدود نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے مندرجات انسانی تاریخ اور تحقیق کا مشترکہ اثاثہ یا پھر وہ دولت ہوتی ہے جس سے ہر شخص پورا پورا فایدہ اٹھانے کا حق دار ہوتا ہے۔ اپنے اپنے شعبوں میں مہارت حاصل کرنے والوں کی تحقیق و جستجو کا منظر نامہ علامہ صاحب نے کتاب کی شکل میں اپنے قارئین کے لیے انسائیکلو پیڈیا کی طرح پیش کردیا ہے۔ محققین و دنیا بھرکے علوم پر دسترس رکھنے والوں نے اپنے اعلیٰ افکار اور اپنی ذہنی صلاحیتوں اورکچھ اہم کرنے کی لگن کو سائنس، علم و ادب، فلسفہ، منطق اور ادبی دنیا کے خزانوں کو مخلوق خدا کی آسانیوں اور ان سے استفادہ کرنے کے لیے انسانی ضرورت کی اہم چیزوں سے متعارف کرایا ہے، ان میں وہ علوم شامل ہیں جو کائنات کے قوانین اور مادی حقیقتوں کو سمجھنے کے لیے سائنس اور منطق کا سہارا لیتے ہیں۔ طبیعات،کیمیا، حیاتیات، ریاضی، سیاسیات، ادب، شاعری، بین الاقوامی تعلقات، عمرانیات، تاریخ، ماحولیاتی علوم وغیرہ۔غرض علامہ عبدالستار عاصم نے قابل قدر اور دائمی شہرت حاصل کرنے والوں کی تخلیقات، تجربات اور ان کی ایجاد کردہ اشیا اور خاص بات یہ بھی ہے کہ ان موجدوں، تخلیق کاروں اور اہل علم کا تعارف بھی کرایا ہے جسے پڑھ کر قاری کو تشنگی محسوس نہیں ہوتی ہے بلکہ یک گونہ تسکین کا باعث یہ پوری کتاب ثابت ہوتی ہے۔ 101 ممتاز شخصیات کی زندگی اور کاموں سے قاری کو آگاہی پہنچانا آسان کام نہیں تھا، لیکن علامہ صاحب اس مشکل راستے سے کامیاب و کامران ہوکرگزرے ہیں اور انھوں نے اس بات کی طرف بھی رغبت دلائی ہے کہ مادی چیزیں سونا، چاندی، محلات و باغات، زر زمین سب ختم ہو جاتا ہے لیکن علم وہ دریا ہے جس سے جتنا سیراب ہوا جائے وہ اتنا ہی بڑھتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق جن مسلم مدبرین و مفکرین نے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جو انسانیت کی بقا کے ضامن ہیں اور اللہ کی مخلوق کے لیے نفع بخش ہوں تو یہ امور صدقہ جاریہ کی مد میں شامل ہوں گے اور علامہ صاحب کی یہ تحریریں جو لوگوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں اور نئی نسل کے لیے تحریک پیدا کریں ان میں یہ شوق و جنون پیدا ہو کہ وہ بھی کچھ ایسا کر جائیں کہ جہاں میں نہ کہ نام ہو بلکہ اللہ بھی ان سے راضی ہو جائے اور ان کا نام ان لوگوں میں شامل کر لے جو صدقہ جاریہ کے حق دار ٹھہرائے جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی مرضی ہے جسے چاہے وہ نواز دے۔  اس وقت ہمیں ایک شعر اور ایک آیت کا ترجمہ بیک وقت یاد آ گیا ہے، شاعر ہیں میر تقی میر: بارے دنیا میں رہو، غم زدہ یا شاد رہو ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے ’’جو شخص آخرت کی کھیتی (اجر و ثواب) کا طالب ہوتا ہے، ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کر دیتے ہیں اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے ہم اسے اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں رہتا۔‘‘ (سورۃ شوری آیت نمبر 20) عظیم قائدین، عظیم رہنما، عظیم صحافی اور تاریخ و عمرانیات کے بانی اور ایسی ہی بہت سی اہم شخصیات سے تاریخ سنہرے لفظوں سے روشن ہے۔ آزادی کی تحریک کے حوالے سے پاکستان کے بانی محمد علی جناح (قائد اعظم) کا نام اور وجہ شہرت کو مختصر الفاظ کا جامہ پہنا کر عقیدت و محبت کے رنگ سے نمایاں کیا ہے۔ ہر اہم شخص کے حالات زندگی، تعلیم، ایجادات، نظریہ، انتھک محنت اور ایثار و قربانی کی داستانوں کو لفظوں کا پیکر عطا کیا ہے۔ گیبریل گارشیا مارکیز کا تعلق Aracataca سے ہے، انھوں نے اپنی تخلیقی قوت اور جادوئی حقیقت نگاری (Magical Realisam) کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کی، انھوں نے ناول اور افسانے کو ایک نئی جہت دی اور لاطینی امریکی ادب کو دنیا بھر میں متعارف کروایا۔ انھیں 1982 میں Noble Prize in Litrature سے نواز کر ان کی علمی، تحقیقی و تخلیقی قوتوں کو پوری دنیا کے سامنے سراہا گیا۔ بے شک ’’999 ملین ڈالر کی کتاب‘‘ کی اہمیت اور اس کی حقیقت اس وقت سامنے آتی ہے جب مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ، صلاح الدین ایوبیؒ، یاسر عرفات، ولیم شیکسپیئر، ایڈورڈ جینر، ابو ریحان، محمد بن احمد البیرونی، مرزا غالب اور محمد علی (کلے) کے کارناموں اور دین سے محبت کے تحت وہ رہنما اور اپنی لازوال کامیابیوں کی بنا پر دنیا میں اپنا نام روشن اور طالبان علم کے لیے تحریک پیدا کرگئے کہ اپنی صلاحیتوں پر توجہ اور سونے جیسے قیمتی وقت کی قدرکی جائے تب دنیا آپ کے قدموں میں ہوگی۔ قابل قدر علما دین اور مجاہدین و آفاقی شعرا کی علمیت، شجاعت نے انھیں تاقیامت تک کے لیے امر کر دیا ہے۔ ابن بطوطہ کو ہم پرائمری سے لے کر سیکنڈری جماعتوں اور اس کے علاوہ بھی عظیم ترین سیاح اور جغرافیہ دان کی حیثیت سے بار بار رسائل و جرائد، اخبارات اور تاریخ کی کتابوں میں پڑھ چکے ہیں، مصنف نے ان کے بارے میں تفصیلی مضمون محبت کے ساتھ لکھا ہے، جسے پڑھ کر اور معلومات میں اضافے سے طبیعت کو قرار آ جاتا ہے۔ ان کے سفرکی ابتدا پہلا حج تھا، جس نے ان کے شوق صحافت کو جلا بخشی اور یہ تیس سال تک حالت سفر میں رہے۔ مشکلات اور آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑا لیکن وہ ہمت مرداں مدد خدا کے تحت آگے بڑھتے رہے۔ انھوں نے ایران، عراق، چین، ترکیہ، افریقہ سمیت بے شمار ممالک کا سفرکیا اور وہاں کی تہذیب و ثقافت، زبان، عادات، اخلاق، مختلف علوم کا جائزہ لیا۔ انھیں جغرافیہ اور سیاحت کے میدان کا ایک عظیم رہنما تسلیم کیا جاتا ہے۔  عبدالستار عاصم کا انداز بیان سادہ اور دل نشین ہے۔ بات دل میں اترتی چلی جاتی ہے، اس کتاب کے مضامین کی اہم خوبی اس کا اختصار ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دریا کو کوزے میں سما دیا ہو۔ مصنف کو حصول علم سے عشق ہے۔ ایسا عشق جو شعورکی ابتدائی منزل سے شروع ہوتا ہے اور دم آخر تک اپنے سحر میں مبتلا رکھتا ہے۔ یہ جنون ہی تو ہے کہ وہ مسلسل علم و آگہی کی روشنی کو دور تک پھیلانے کے لیے ہر لمحہ کوشاں ہیں۔ اللہ انھیں عمر خضری عطا فرمائے تاکہ تشنگان علم اپنی پیاس بجھاتے رہیں۔ میں آخر میں بقول ڈاکٹر سلیم اختر (اللہ ان کے درجات بلند فرمائے آمین) کے بعد مبارکاں ہی کہوں گی، (ہزار بار)۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل