Loading
نئی دہلی: بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ وہ اپنی جان کو لاحق خطرات کے باوجود رواں سال دسمبر تک اپنے ملک واپس جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ گرفتاری، قید یا حتیٰ کہ قتل کے خدشات سے بھی آگاہ ہیں، لیکن عوام کی آواز پر وطن واپس جانا چاہتی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 78 سالہ شیخ حسینہ نے ایک تحریری جواب میں کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ بنگلہ دیش واپسی پر ان کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے، تاہم وہ اپنے عوام کی پکار پر لبیک کہنا چاہتی ہیں۔
شیخ حسینہ اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے بعد اقتدار سے محروم ہو گئی تھیں۔ اس عوامی احتجاج کے دوران وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت منتقل ہو گئی تھیں، جبکہ مشتعل مظاہرین نے ان کی سرکاری رہائش گاہ کا رخ کیا تھا۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس دوران حکومت مخالف احتجاج کو دبانے کے لیے کی گئی کارروائیوں میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بعد ازاں نومبر 2025 میں ڈھاکا کی ایک عدالت نے شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ سابق وزیراعظم نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’قانون کے لبادے میں سیاسی انتقام‘ قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں ایک خفیہ مقام پر مقیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں ان کے ساتھ احترام اور وقار کا برتاؤ کیا جا رہا ہے اور بھارتی حکام نے ان سے حوالگی کے معاملے پر کوئی بات نہیں کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ بنگلہ دیش واپس جانے کا فیصلہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے اور اس کا دونوں ممالک کے درمیان سفارتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت نے کہا ہے کہ اگر شیخ حسینہ وطن واپس آتی ہیں تو انہیں تمام مقدمات میں قانون کے مطابق منصفانہ عدالتی کارروائی کا حق دیا جائے گا۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں ماضی میں شیخ حسینہ کی حکومت پر سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، انتخابی بے ضابطگیوں اور عدالتی نظام پر اثرانداز ہونے جیسے الزامات عائد کرتی رہی ہیں، تاہم شیخ حسینہ اور ان کی جماعت ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل