Thursday, July 30, 2026
 

بھارت غزہ میں نسل کشی میں اسرائیل کا شراکت دار، ایمنسٹی اعداد وشمار سامنے لے آئی

 



بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے کی برآمدات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سے غزہ میں نسل کشی میں شراکت داری کا خطرہ قرار دے دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ بھارت نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے حالانکہ خطرہ واضح طور پر موجود ہے کہ یہ ہتھیار غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری اس کارروائی میں استعمال ہو سکتے ہیں جس سے نسل کشی قرار دیا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے میڈ ان انڈیا کے عنوان سے جاری رپورٹ میں شپمنٹ کی سطح کے تجارتی اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا ہے، جس کے مطابق بھارت نے 7 اکتوبر 2023 سے 30 نومبر 2025 کے دوران اسرائیل کو ہتھیاروں، گولہ بارود، پرزہ جات اور دیگر اجزا کی کم از کم  دو ہزار 596  کھیپ بھیجی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت کی اسرائیل کو برآمد کیے گئے اسلحے میں چھوٹے ہتھیاروں کے پرزے، توپ خانے کے گولوں کے خول اور لوئٹرنگ میونیشنز کے لیے دھماکا خیز وارہیڈز بھی شامل تھے اور بعض کھیپ اسرائیلی کمپنیوں ایلبٹ سسٹمز، رافیل اور اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کو فراہم کی گئیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ بھارت بین الاقوامی قانون کے مطابق اسلحہ برآمدات کو منظم کرنے میں ناکام رہا ہے کیونکہ اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والی متعدد سپلائر کمپنیاں براہ راست بھارتی ریاست کی ملکیت ہیں یا ان کے کنٹرول میں ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنیس کالامارڈ نے کہا کہ بھارت اپنی ملکیت اور کنٹرول میں موجود اہم سپلائر کمپنیوں کے ذریعے اسرائیل کو منتقل کیے جانے والے ہتھیار تیار اور فراہم کرتا ہے لہٰذا اسلحے کی ایسی تمام منتقلی فوری طور پر روک دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2026 کے وسط میں بھارتی حکومت اور رپورٹ میں نامزد 9 کمپنیوں کو خطوط بھیجے تھے، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل