Thursday, July 30, 2026
 

’ڈرنے والے نہیں‘ : ہنگو حملے میں شہید ڈی ایس پی کے شہید اہلکار کے لواحقین سے آخری گفتگو

 



خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں شہید ہونے والے ڈی ایس پی نے چوبیس گھنٹے قبل شہید اہلکار کی قبر پر حاضری دی تھی جبکہ لواحقین کیساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ڈرنے والے نہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق دھرتی پر جان نچھاور کرنے والوں کی لازوال داستان ایک بار پھر خیبرپختونخوا پولیس کی تاریخ کا حصہ بن گئی، جہاں ہنگو کے ڈی ایس پی سٹی دیار خان نے شہادت سے صرف 24 گھنٹے قبل یومِ شہدا کے موقع پر ایک شہید اہلکار کی قبر پر حاضری دی فاتحہ خوانی کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے پھول چڑھائے اور شہید کے اہلِ خانہ سے ملاقات کرکے انہیں یقین دلایا کہ پوری پولیس فورس اپنے شہدا کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس موقع پر ڈی ایس پی دیار خان نے شہدا کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم شہیدوں کے ساتھ ہیں، ڈرنے والے نہیں۔" یہ الفاظ ان کا آخری عوامی پیغام ثابت ہوئے۔ قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا، اور صرف ایک دن بعد وہ خود بھی وطن پر قربان ہونے والوں کی صف میں شامل ہوگئے۔گزشتہ روز ہنگو کے خزینہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی دیار خان فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے۔ انہوں نے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور دورانِ لڑائی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ان کی قربانی نے خیبرپختونخوا پولیس کی جرات، فرض شناسی اور دہشت گردی کے خلاف عزم کی ایک اور روشن مثال قائم کردی۔ شہادت کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہے جس میں ڈی ایس پی دیار خان یومِ شہدا کی تقریب کے دوران شہید اہلکار کو سلامی پیش کررہے ہیں۔ یہ منظر دیکھنے والوں کی آنکھیں نم کر رہا ہے، کیونکہ جس افسر نے ایک دن پہلے شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، اگلے ہی دن اسے خود پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ ڈی ایس پی دیار خان کی شہادت نے یہ ثابت کردیا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے افسر اور جوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر لمحہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ڈی ایس پی سمیت تمام جوانوں کی قربانی اس عزم کی علامت ہے کہ امن کی خاطر دی جانے والی یہ قربانیاں ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل