Loading
ایران کی پارلیمنٹ کے رکن حسن قشقاوی نے کہا ہے کہ ثالث ایسے معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے باعث جون میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ عارضی طور پر رک گئی تھی۔
غیرملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے انٹرویو میں کہا کہ 14 نکاتی اسلام آباد معاہدے کی بحالی کے لیے خاص طور پر ثالثوں کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ اس وقت اصل مسئلہ بلکہ پورے معاملے کی کنجی آبنائے ہرمز کا معاملہ ہے، تو ایسے میں جی ہاں اس حوالے سے تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔
حسن قشقاوی نے مزید کہا کہ تجاویز پر مسلسل تبادلہ خیال اور گفتگو جاری ہے جبکہ انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے صدور نے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں 17 جون کو اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیے گئے تھے، جس میں 14 نکات طے کیے گئے تھے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا شیڈول دیا گیا تھا۔
مفاہمتی یاد داشت میں آبنائے ہرمز کو کھولنے، ایران کے منجمد اثاثے، ایرانی جوہری پروگرام اور دیگر پابندیوں سمیت مختلف امور شامل ہیں۔
ایران اور امریکا نے پاکستان اور قطر کی میزبانی میں سوئٹزرلینڈ میں 40 سال بعد براہ راست مذاکرات کیے، بعد ازاں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تیکنیکی سطح پر مذاکرات ہوئے جبکہ اسلام آباد میں شیڈول تیسرے دور سے قبل ہی دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر مفاہمتی یاد داشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دوبارہ حملے شروع کردیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل