Loading
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ دشمن کو اپنے دستخط کیے ہوئے معاہدے پر پابندی کے لیے مجبور ہو جائے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ جس معاہدے پر دستخط کیا گیا تھا وہ شوریٰ کونسل کے اراکین کی مشترکہ دانش کا نتیجہ ہے اور تمام اراکین نے اس پر اتفاق کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت مستقبل میں ہماری خارجہ پالیسی کا مرکزی محور رہے گا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ دشمن کو مجبور کریں کہ وہ اس معاہدے کی پابندی پر قائم رہے، جس پر اس نے دستخط کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک، خطے اور ہمارے اتحادیوں کی سلامتی اس مفاہمتی یاد داشت سے مزید مضبوط ہوگی۔
تفاهمنامهای که امضا شد حاصل خرد جمعی اعضای شعام بود و همه اعضا با آن همدلاند. باور دارم این تفاهمنامه مرکز ثقل روابط خارجی ما در آینده خواهد بود. باید بکوشیم دشمن را وادار کنیم به آنچه امضا کرده پایبند بماند. امنیت کشور، منطقه و همپیمانان ما با این تفاهمنامه ارتقا مییابد.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) August 2, 2026
قبل ازیں ایران کی پارلیمنٹ کے رکن حسن قشقاوی نے کہا تھا کہ 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور خاص طور پر ثالثوں کی جانب سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت اصل مسئلہ بلکہ پورے معاملے کی کنجی آبنائے ہرمز کا معاملہ ہے اور اس حوالے سے تبادلہ خیال ہو رہا ہے، تجاویز پر مسلسل تبادلہ خیال اور گفتگو جاری ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل