Tuesday, August 04, 2026
 

یوکرین پر تین مقامات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ آخری لمحے منسوخ کر دیا گیا، ایران کا دعویٰ

 



تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر کے اعلیٰ فوجی مشیر محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے یوکرین میں تین مقامات پر حملے کی مکمل تیاری کر لی تھی، تاہم کیف کی جانب سے مبینہ معذرت کے بعد یہ کارروائی منسوخ کر دی گئی۔ ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق ایرانی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مجوزہ حملوں کی تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں، لیکن بعد میں آپریشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کی جانب سے معذرت کے بعد ایران نے فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم انہوں نے اس مبینہ معذرت کی نوعیت یا اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ محسن رضائی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی مقررہ بحری گزرگاہ کے علاوہ کسی متبادل راستے کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مخالف بحری جہاز ایران کی نظر میں غیر قانونی راستہ اختیار کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حالیہ 17 روزہ ایران۔امریکا کشیدگی کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے امریکی فوجی منصوبوں کو ناکام بنایا اور امریکی افواج کو بھاری نقصان پہنچایا۔ تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی آزاد شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے 25 جولائی کو یوکرین پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کا ایک عملہ رکن ہلاک ہو گیا تھا۔ دوسری جانب یوکرین نے ان الزامات کے بارے میں باضابطہ طور پر کوئی مؤقف جاری نہیں کیا، جبکہ محسن رضائی کے تازہ دعوؤں کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور یوکرین کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی کشیدگی، خطے میں جاری تنازعات کے تناظر میں سفارتی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی بیانات عالمی بحری تجارت کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل