Tuesday, August 04, 2026
 

پاکستان نے چین سے 1.3 ارب ڈالر کی جلد ری فنانسنگ کیلیے باضابطہ درخواست کر دی

 



پاکستان نے چین سے 1.3 ارب ڈالر کی ری فنانسنگ جلد مکمل کرنے کی باضابطہ درخواست کردی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ جولائی میں 2.2 ارب ڈالر ادائیگیاں کیں جس میں 1.3 ارب ڈالر چینی کمرشل قرض بھی واپس کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے  کہ پاکستانی حکام کی چینی حکام سے ری فنانسنگ پراسس جلد مکمل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے اور قواعد و ضوابط اور شرائط جلد فائنل ہونے پر رقم رواں ماہ کے دوران ہی پاکستان کو موصول ہو جائے گی۔ ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو امید ہے کہ رقم جلد موصول ہونے سے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا ملے گا۔  ذرائع کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ماہ جولائی میں 2.2 ارب ڈالر ادائیگیاں کی ہیں جس میں 1.3 ارب ڈالر چینی کمرشل قرض بھی واپس کیا گیا تھا۔ پاکستان نے چین کا 1.4 ارب ڈالر قرض واپس کردیا جس کی چند ہفتوں میں دوبارہ فنانسنگ متوقع ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہرمیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بھی بتایاتھا کہ جولائی میں 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کیے، بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا حجم 26.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 21.5ارب ڈالر رہ گیا۔ 3.5 ارب ڈالر صرف سود ادا کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ رواں سال قرض ادائیگی کا دباو کم کرنے اور زرمبادلہ بڑھانے کی حکمت عملی جاری ہے۔ علاوہ ازیں سعودی عرب و چین کے 12 ارب ڈالر کا رول اوور درکار ہوگا۔ پاکستان نے چین کو 1.4 ارب ڈالر کا کمرشل قرض واپس کر دیا ہے تاہم چینی بینکوں کی جانب سے اس قرض کی ابھی تک دوبارہ فنانسنگ نہیں کی گئی البتہ یہ رقم چند ہفتوں کی تاخیر سے اسلام آباد کو دوبارہ فراہم کر دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب حکومت نے چین سے ری فنانسنگ جلد مکمل کرنے کی درخواست کردی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل