Loading
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بندوق کے زور پر امن نہیں آتا، غلط پالیسیوں کی وجہ سے صوبہ جل رہا ہے۔
یومِ شہدائے پولیس کی مرکزی تقریب پشاور میں منعقد ہوئی، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، ، آئی جی ایف سی، کمانڈنٹ فرنٹیئر کانسٹبلری، آئی جی خیبرپختونخوا اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پولیس شہدا کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی نے صوبے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس بہادری کے اعتبار سے سب سے آگے ہے ۔ حکومت پولیس کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پولیس کو 35 ارب روپے فراہم کیے ہیں ، پولیس کا بجٹ بڑھا کر 85 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ پولیس کو جدید اسلحہ، انفرا اسٹرکچر، تھانوں کی بہتری اور بلٹ پروف گاڑیاں بھی فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کی نئی لہر خیبرپختونخوا لائی گئی ہے۔ 2018 سے 2022 تک صرف امن رہا۔ پولیس، سکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانیوں سے امن قائم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں انہوں نے اپنے قریبی لوگوں کو بھی کھویا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں کچھ لوگ دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرنے کا فیصلہ کر رہے ہیں ۔ غلط پالیسی کی وجہ سے صوبہ جل رہا ہے۔ پولیس اکیلے دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کر سکتی، بندوق کے زور پر امن نہیں آتا بلکہ بندوق کے ساتھ مصلحت بھی بہت ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اعلان کیا کہ اگر ادارے ان کے ساتھ کھڑے ہوں تو وہ 100 دن میں امن لانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی آئی جی کو کسی انتقامی کارروائی کے لیے کال نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس ذاتی نوکر بنی ہوئی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کو جے یو آئی یا کسی بھی سیاسی جماعت کے خلاف چھاپوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل