Wednesday, August 05, 2026
 

فیکٹ چیک: کیا ٹرمپ نے مجسموں پر سونا چڑھانے کے لیے 50 لاکھ ڈالر اڑا دیے؟

 



سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے واشنگٹن ڈی سی میں نصب چار کانسی کے گھڑ سوار مجسموں کی مرمت اور ان پر دوبارہ سونے کی تہہ چڑھانے کے لیے تقریباً 50 لاکھ ڈالر کا سرکاری ٹھیکہ دیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق 21 اپریل 2026 کو نیشنل پارک سروس (این پی ایس) نے ’دی گلڈرز اسٹوڈیو‘ نامی کمپنی کو 49 لاکھ 95 ہزار 263 ڈالر کا معاہدہ دیا، جسے بعد ازاں اضافی کام کے باعث بڑھا کر 50 لاکھ 95 ہزار 253 ڈالر کر دیا گیا ہے۔ منصوبے میں مجسموں کی صفائی، مرمت، زنگ سے تحفظ اور ان پر 23.75 قیراط سونے کی پرت چڑھانا شامل ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ مجموعی رقم میں سے کتنی رقم صرف سونے اور اس کے استعمال پر خرچ ہو گی۔ یہ مجسمے اتنے اہم کیوں ہیں؟ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ کیا تھا کہ چاروں مجسموں پر تقریباً 55 پاؤنڈ سونے کی پرت استعمال کی جائے گی۔ یہ مجسمے ’آرٹس آف وار‘ اور ’آرٹس آف پیس‘ کے نام سے واشنگٹن ڈی سی میں نصب ہیں اور امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں ان کی تزئین و آرائش کی جا رہی ہے۔ دستاویزات کے مطابق منصوبے میں درج ذیل کام شامل ہیں:  تاریخی کانسی کے مجسموں کی صفائی اور بحالی زنگ اور دیگر نقائص کی مرمت حفاظتی کوٹنگ اور پرائمر کا استعمال  23.75 قیراط سونے کی تہہ چڑھانا گرینائٹ کے چبوتروں کی صفائی اور مرمت اسکیفولڈنگ اور حفاظتی انتظامات ناقدین کا ٹرمپ پر وار: ناقدین، جن میں سینیٹر برنی سینڈرز بھی شامل ہیں، نے اس منصوبے کو مہنگائی اور معاشی مشکلات کے دوران عوامی پیسے کا غیر ضروری استعمال قرار دیا ہے۔ $5.1 million in taxpayer money to restore 19-foot statues with 23.75-karat gold leaf. Just when you think Trump cannot be more out of touch with the needs of working people, he outdoes himself. pic.twitter.com/HfB7qo78dR — Sen. Bernie Sanders (@SenSanders) August 3, 2026 فیصلہ: یہ دعویٰ کہ ٹرمپ انتظامیہ نے گھوڑوں کے مجسموں کی مرمت اور ان پر سونے کی تہہ چڑھانے کے لیے تقریباً 50 لاکھ ڈالر کے سرکاری فنڈز مختص کیے، بڑی حد تک درست ہے۔ البتہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس رقم کا کتنا حصہ صرف سونے کی خریداری اور اس کے استعمال پر خرچ ہو گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل