Loading
آبنائے ہرمز میں پانچ ماہ سے جاری کشیدگی اور عالمی جہاز رانی کے بحران کے خاتمے کی کوششوں کے دوران ایران اپنے مؤقف میں اہم نرمی پر غور کر رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متعدد سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایران پہلی بار اس امکان کا جائزہ لے رہا ہے کہ یورپی ممالک کو آبنائے ہرمز سے بحری بارودی سرنگیں صاف کرنے کی اجازت دی جائے۔
ایرانی ذرائع نے بتایا کہ پالیسی میں اس نرمی کا مقصد دنیا کی اہم ترین عالمی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی بحالی کو یقینی بنانا ہے تاکہ آئل ٹینکرز کی آمدورفت ممکن ہوسکے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یورپی ممالک کو بارودی سرنگیں صاف کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو اس کے لیے کئی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
ان شرائط میں ایران کی جانب سے یورپی بحری جہازوں کی سلامتی کی ضمانت، جنگ بندی یا کشیدگی میں خاطر خواہ کمی، ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کی منظوری اور آپریشن کا صرف انسانی اور تجارتی جہاز رانی کی بحالی تک محدود رہنا شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان شرائط پر ابھی حتمی اتفاق نہیں ہوا لیکن مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
یہ پیش رفت اس لیے غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ ایران اب تک سرکاری طور پر یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی فوج یا بحری قوت کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے یا سکیورٹی کارروائیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ہونے والے بند کمرہ مذاکرات میں ایرانی حکام نے اس مؤقف میں لچک دکھائی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران، عمان اور مغربی ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں بھی آبنائے ہرمز کی محفوظ بحالی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ عمان کے ساتھ بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر سمندری راستے سے برآمد ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے جاری جنگ اور بارودی سرنگوں کے خدشات کے باعث جہاز رانی، انشورنس اور تیل کی ترسیل شدید متاثر رہی ہے۔
اگر یورپی ممالک کی نگرانی میں بارودی سرنگیں صاف کر دی جاتی ہیں تو عالمی تجارتی جہاز رانی بحال ہونے میں مدد ملے گی۔ بحری انشورنس کی لاگت کم ہو سکتی ہے اور خام تیل کی عالمی سپلائی مزید مستحکم ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل