Sunday, August 09, 2026
 

معاہدہ مکہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، کسی بھی ملک کے خلاف نہیں، اسحاق ڈار کی وضاحت

 



نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ معاہدہ مکہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، معاہدے کا واحد مقصد علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی کی کوششوں کو مزید تقویت دینا ہے۔ سماجی رابطے کی سائٹ ’’ایکس‘‘ پر اپنی پوسٹ میں نائب وزیراعظم نے وضاحت کی کہ معاہدہ علاقے کے دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جو اختلافات کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کے خواہاں ہیں، معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستونوں کے مطابق ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی قیادت اور عوام کے برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کئی سال کی بات چیت اور ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مقصد امن اور سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنا اور علاقائی استحکام و خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے سے کسی بھی موجودہ دو طرفہ یا کثیرالجہتی معاہدوں کو منسوخ یا تبدیل نہیں کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ معاہدے کی رو سے کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق کے مطابق ہے۔ نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقے کے تمام برادر ممالک کے ساتھ دیرپا امن اور استحکام کے لیے تعاون جاری رکھے گا، تمام تنازعات کے پرامن حل اور عوام کے لیے زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل