Loading
اتحاد تنظیمات مدارس خیبرپختونخوا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن زدہ علاقوں میں مدارس اور مساجد کو تحفظ فراہم کیا جائے اور خیبرپختونخوا حکومت مدارس رجسٹریشن کے لیے قانون سازی کے لیے اقدامات کرے۔
اتحادِ تنظیماتِ مدارس خیبر پختونخوا کا اجلاس گزشتہ روز پشاور میں مولانا حسین احمد کی صدارت میں ہوا، جس میں دینی مدارس کے پانچوں بڑے بورڈز، وفاق المدارس العربیہ پاکستان، وفاق المدارس السلفیہ پاکستان، رابطۃ المدارس الاسلامیہ پاکستان، تنظیم المدارس اہلِ سنت پاکستان اور وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے ذمہ داران نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے مولانا حسین احمد نے کہا کہ دینی مدارس امن و سلامتی کے مراکز ہیں، انہیں شدت پسندی اور دہشت گردی سے جوڑنا انتہائی افسوس ناک اور بیمار ذہنیت کی عکاسی ہے، دہشت گردی کے خلاف مدارس اور علماء کا موقف بالکل واضح ہے۔ ہم بلا تفریق ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں، ہمارے متعدد جید علماء دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کے آپریشن زدہ علاقوں میں مساجد و مدارس کی عمارتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، جن مساجد اور مدارس کو نقصان پہنچا ہے ان کی ازسرِنو تعمیر و بحالی کا مؤثر انتظام کیا جائے، 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد رجسٹریشن کے حوالے سے مدارس کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ وفاقی وزارتِ تعلیم کے ساتھ رجسٹر یا سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کرائیں، تاہم سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے راستے میں رکاوٹیں موجود ہیں اور تاحال ضروری قانون سازی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر قانون سازی کرکے مدارس کی رجسٹریشن کا مسئلہ حل کرے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے وعدے کے مطابق رجسٹریشن کے حوالے سے خیبر پختونخوا میں فوری طور پر قانون سازی کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل