Loading
بھارت اور چین کے درمیان متنازع ہمالیائی سرحد پر ایک بار پھر دونوں ممالک کی بارڈر فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سے حالات کشیدہ ہوگئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ چین کے ساتھ سرحدی معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔
انھوں نے سیز فائر کی اپیل کرتے ہوئے مزید کہا کہ سرحدی معاملات میں امن اور سکون برقرار رہنا بھارت چین تعلقات کی سمت کا اہم پیمانہ ہے۔
دوسری جانب بھارتی ویب سائٹ دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق اروناچل پردیش کے اپر سوبانسری ضلع کے تیکسن علاقے میں جولائی کے آخر میں بھارتی اور چینی فوج کے گشتی دستے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے تھے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ چینی اہلکار بھارتی کنٹرول والے علاقے میں تقریباً 2.5 کلومیٹر تک اندر آئے، تاہم بعد میں وہاں سے واپس چلے گئے۔ رپورٹ کے مطابق اگست کے آغاز میں چینی اہلکار دوبارہ اس علاقے میں پہنچے اور مبینہ طور پر دو خیمے بھی نصب کیے۔
تاہم بھارتی دفاعی حکام نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غیر مصدقہ اور ناقابلِ توثیق قرار دیا ہے۔ اروناچل پردیش میں بھارتی دفاعی ترجمان نے کہا کہ سامنے آنے والی رپورٹس کی کوئی قابلِ اعتماد تصدیق نہیں ہوئی۔
ادھر اروناچل پردیش کی ایک مقامی سیاسی جماعت سے وابستہ تحقیقاتی کمیٹی نے تیکسن کے علاقے میں چینی فوج کی مبینہ دراندازی کی اطلاعات کو سنجیدہ قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے حالیہ واقعات کو قابلِ تردید نہ ہونے والا معاملہ قرار دیتے ہوئے سرحدی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
چین نے بھارتی بارڈر فورسز کے ساتھ جھڑپوں اور کشیدگی کی اطلاعات کے باوجو موجودہ صورتحال کو مجموعی طور پر مستحکم قرار دیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک نے سفارتی اور فوجی ذرائع کے ذریعے رابطہ برقرار رکھنے اور سرحدی علاقوں میں امن و سکون کے مشترکہ تحفظ پر اتفاق کیا ہے۔
2020 کی خونریز جھڑپیں اب بھی تعلقات پر اثرانداز
بھارت اور چین کے تعلقات میں موجودہ سرحدی تنازع کی جڑیں 2020 کے واقعات میں ہیں، جب مشرقی لداخ میں دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔
جون 2020 کی وادی گلوان کی جھڑپ میں 20 بھارتی فوجی اور 4 چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے متنازع لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر دسیوں ہزار فوجی تعینات کیے اور کئی سال تک فوجی کشیدگی برقرار رہی۔
2024 میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان مذاکرات کے بعد سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی۔ دونوں ملکوں نے گشت کے انتظامات پر اتفاق کیا، جس کے نتیجے میں بعض متنازع مقامات سے فوجی انخلا کا عمل مکمل ہوا۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات کو بتدریج معمول پر لانے کی کوششیں تیز کی ہیں۔ مئی 2026 میں بھی سرحدی امور سے متعلق مذاکرات میں سرحدی انتظام، حد بندی اور دونوں ملکوں کے درمیان رابطے کے طریقہ کار پر بات چیت ہوئی تھی۔
حالیہ برسوں میں بھارت اور چین نے تجارت، سفارتی روابط اور عوامی سطح کے رابطوں کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن سرحدی تنازع اب بھی دونوں ممالک کے تعلقات کی سب سے حساس رکاوٹ ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی جولائی میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کے دوران کہہ چکے ہیں کہ سرحدی علاقوں میں امن اور سکون معمول کے دوطرفہ تعلقات کے لیے بنیادی شرط ہے۔
دوسری جانب بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل اپیندر دویدی نے جون میں کہا تھا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر صورتحال مستحکم ضرور ہے، تاہم یہ علاقہ اب بھی حساس ہے اور دونوں جانب فوجی تعیناتی برقرار ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل