Loading
کبھی ایک ہی گولی چار مرتبہ چلتی ہے۔ پہلی بار میدانِ جنگ میں، دوسری بار تاریخ کی کتاب میں، تیسری بار اخبار کی سرخی میں، اور چوتھی بار کسی ادیب کے دل میں۔ پہلی گولی جسم کو زخمی کرتی ہے، دوسری سلطنتوں کی سرحدیں بدلتی ہے، تیسری چند گھنٹوں بعد پرانی خبر بن جاتی ہے؛ مگر چوتھی گولی نسلوں تک زبان، حافظے اور ضمیر میں پیوست رہتی ہے۔ شاید اسی لیے دنیا کی بڑی جنگیں توپوں کے خاموش ہوجانے کے بعد ناولوں، نظموں اور کہانیوں میں اپنی دوسری زندگی شروع کرتی ہیں۔
ایک خبر کہتی ہے: اتنے لوگ مارے گئے۔ ایک مورخ لکھتا ہے: فلاں لشکر فتح یاب ہوا اور فلاں شکست کھا گیا۔ ایک سیاست دان کہتا ہے: یہ فتح ہماری تاریخ کا روشن باب ہے۔ مگر ادیب اس ہجوم سے ایک چہرہ الگ کرتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: مرنے والے کا نام کیا تھا؟ اس کے گھر میں کون انتظار کر رہا تھا؟ اس کے بچے نے باپ کے لوٹنے کے لیے دروازہ کب تک کھلا رکھا؟ اور جو زندہ بچ گیا، وہ اپنے اندر سے کتنا زندہ بچا؟
یہیں سے ادب تاریخ سے الگ ہوجاتا ہے۔
پچھلے دنوں جنگ اور ادب کے موضوع پر میری ایک تحریر کے حوالے سے ایک قاری نے نہایت بجا سوال اٹھایا کہ ٹالسٹائی اور ہیمنگ وے کے ساتھ آصف فرخی کو ایک ہی تقابلی سطح پر رکھنا کس حد تک درست ہے؟ سوال میں وزن تھا۔ ٹالسٹائی اور ہیمنگ وے بنیادی طور پر تخلیق کار ہیں؛ آصف فرخی اردو ادب کے غیر معمولی مدیر، مترجم، مرتب اور ادبی واسطہ کار تھے۔ انھیں اسی معنی میں ناول نگاروں کے برابر کھڑا کرنا تقابل کی منطقی بنیاد کو کم زور کرتا ہے۔ لیکن اس اعتراض نے میرے لیے ایک زیادہ اہم سوال پیدا کردیا: اگر جنگ ایک ہے تو ادیب اسے مختلف کیوں لکھتے ہیں؟کیوں ایک ادیب کے ہاں جنگ تاریخ کا وسیع میدان بن جاتی ہے، دوسرے کے ہاں ایک زخمی انسان کا نجی المیہ، تیسرے کے ہاں چھین لیے گئے گھر اور بے وطن انسان کی داستان، اور چوتھے کے ہاں زبان اور حافظے میں محفوظ رہ جانے والا وطن؟
یہ سوال ہمیں جنگ کے موضوع سے اٹھا کر جنگ کی جمالیات تک لے جاتا ہے۔اب یہ نہ کہیے گا جنگ اور جمالیات؟
جنگ صرف ایک واقعہ نہیں؛ ایک ادراک ہے۔ اور ہر بڑا ادیب اپنے عہد، اپنی تہذیب، اپنے تجربے اور اپنے اسلوب کے ذریعے اس ادراک کی ایک نئی زبان ایجاد کرتا ہے۔ ٹالسٹائی جنگ کو تاریخ کے وسیع کینوس پر دیکھتے ہیں؛ ہیمنگ وے اسے انسانی باطن کے خاموش زخم میں محسوس کرتے ہیں؛ غسان کنفانی کے ہاں جنگ گھر، شناخت اور بے وطنی کی اجتماعی تقدیر بن جاتی ہے؛ اور محمود درویش کے ہاں وہ زبان، حافظے اور جلاوطنی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
جنگ ایک ہے، مگر اس کی ادبی زبانیں متعدد ہیں۔
ٹالسٹائی سے ابتدا کرتے ہیں۔آپ کی عظمت کا ایک راز یہ ہے کہ وہ جنگ کو صرف میدانِ جنگ میں نہیں دیکھتے۔ جنگ اور امن میں توپیں چل رہی ہوں تو بھی ان کی نظر صرف توپ پر نہیں ہوتی؛ وہ اس پورے انسانی جال کو دیکھتے ہیں جس میں سپاہی، جرنیل، خاندان، عاشق، کسان، بادشاہ، عورتیں، بچے، شہر اور تاریخ ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔ ناول کی وسعت اسی لیے محض منظر نگاری کی وسعت نہیں؛ یہ انسانی تجربے کی وسعت ہے۔
آسترلٹز کے میدان میں زخمی شہزادہ آندرے بولکونسکی کا آسمان کو دیکھنا اس پورے فن کا ایک مختصر مگر بے مثال نمونہ ہے۔ کچھ دیر پہلے تک جس نوجوان کے لیے جنگ شہرت، بہادری اور عظمت حاصل کرنے کا میدان تھی، وہ اچانک زمین پر پڑا ہوا ایک ایسے آسمان کو دیکھتا ہے جو اس کی تمام آرزوؤں سے کہیں بلند ہے۔ نپولین، جسے وہ کبھی عظمت کا مجسمہ سمجھتا تھا، اب ایک محدود انسانی شخصیت محسوس ہوتا ہے۔ آسمان اپنی وسعت میں وہ حقیقت سامنے لے آتا ہے جسے جنگ کا شور چھپا دیتا تھا: انسان اپنے تاریخی کردار سے کہیں زیادہ چھوٹا، اور اپنے اخلاقی امکان سے کہیں زیادہ بڑا ہوسکتا ہے۔
یہاں ٹالسٹائی کا اسلوب محض بیانیہ نہیں رہتا؛ وہ فلسفہ بن جاتا ہے۔ ٹالسٹائی کے لیے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ نپولین نے کیا حکم دیا، کوتوزوف نے کیا فیصلہ کیا یا کس جرنیل نے کون سی جنگ جیتی۔ ان کے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ واقعی چند عظیم افراد کے ارادوں سے بنتی ہے؟یہی وجہ ہے کہ ٹالسٹائی نپولین کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں جو اپنے ارادے کو تاریخ سمجھنے کی غلطی کرتا ہے۔ ان کے نزدیک تاریخ کسی ایک عظیم آدمی کی مرضی کا نتیجہ نہیں بل کہ بے شمار انسانی ارادوں، حالات، اتفاقات اور اجتماعی حرکات کا پیچیدہ حاصل ہے۔ اسی لیے ان کا ناول ’’عظیم آدمی‘‘ کے تصور کو اندر سے توڑتا ہے۔
یہاں ٹالسٹائی کی جنگ رزمیہ ہے، مگر رزمیہ ہونے کے باوجود جنگی رومان نہیں۔ ان کا کینوس وسیع ہے، لیکن اس وسعت میں فرد گم نہیں ہوتا۔ آندرے، پیئر، نتاشا اور نکولائی تاریخ کے بڑے پہیے کے نیچے کچلے جانے والے بے نام پرزے نہیں؛ وہ اپنے خوف، محبت، غرور، غلطیوں اور روحانی تبدیلیوں کے ساتھ مکمل انسان ہیں۔اسی لیے ٹالسٹائی کے ہاں جنگ کا سب سے بڑا منظر شاید وہ نہیں جہاں توپیں گرجتی ہیں، بل کہ وہ ہے جہاں انسان اپنے بارے میں اپنے ہی بنائے ہوئے تصور سے دست بردار ہوتا ہے۔
آندرے کے لیے جنگ ابتدا میں عظمت کی تلاش ہے؛ پھر وہ عظمت کی بے معنویت بن جاتی ہے۔ پیئر کے لیے تاریخ کو سمجھنے کی کوشش بالآخر انسانی سادگی اور زندگی کی ایک زیادہ گہری اخلاقی معنویت تک پہنچتی ہے۔ ٹالسٹائی کے بڑے کردار بیرونی واقعات سے زیادہ اپنے اندر سفر کرتے ہیں۔ جنگ ان کے لیے صرف قومی بحران نہیں؛ خودی کے انہدام اور ازسرِنو تشکیل کا تجربہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹالسٹائی کے ہاں جنگ اور امن ایک دوسرے کی ضد نہیں رہتے۔ جنگ کے اندر بھی انسان امن تلاش کرسکتا ہے، اور امن کے اندر بھی اقتدار، حسد، رقابت اور خود فریبی کی جنگ جاری رہ سکتی ہے۔ خود ناول کا عنوان اسی دو معنویت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ٹالسٹائی کی جنگ اس لیے وسیع ہے کہ ان کا سوال بھی وسیع ہے:
تاریخ کون بناتا ہے؟ انسان کیا سمجھتا ہے کہ وہ کر رہا ہے، اور حقیقت میں کیا ہورہا ہوتا ہے؟ اور طاقت کے شور میں انسانی اخلاق کی آواز کہاں باقی رہتی ہے؟یہاں جنگ ایک واقعہ نہیں رہتی؛ انسانی تاریخ کے فلسفے کا استعارہ بن جاتی ہے۔اور پھر تقریباً نصف صدی بعد ایک دوسرا ادیب آتا ہے جو جنگ کو اسی طرح دیکھنے سے انکار کردیتا ہے۔
وہ تاریخ کے وسیع کینوس کو سمیٹتا ہے، جرنیلوں کو پیچھے کرتا ہے، فلسفیانہ توضیحات کم کرتا ہے، اور انسان کو ایک ایسے کمرے میں لے آتا ہے جہاں دو لوگ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، باہر جنگ ہورہی ہے، اور کسی کو معلوم نہیں کہ اگلی صبح کون زندہ ہوگا۔وہ ہے ہیمنگ وے۔اگر ٹالسٹائی جنگ کا سمندر ہیں تو ہیمنگ وے اس سمندر کا وہ قطرہ ہیں جس میں پوری تباہی کا ذائقہ محسوس کیا جاسکتا ہے۔
یہاں جنگ تاریخ سے اتر کر زخم بن جاتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل