Wednesday, August 12, 2026
 

بحران کا حقیقی حل

 



وزیر داخلہ محسن نقوی کی موجودہ نظام کے ناکام ہونے اور نئے صوبے بنانے کی ضرورت کے بارے میں تقریر کے بعد ملک میں بحث و مباحث کا ایک سلسلہ شروع ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اﷲ خان کہتے ہیں کہ اگر واقعی نظام ناکام ہے تو محسن نقوی کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ بلاول بھٹو زرداری نے پیش گوئی کی ہے کہ وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ بہت سے دانشور اچانک نئے صوبوں کی اہمیت پر زوردار دلائل دے رہے ہیں مگر کچھ دانا لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کے دو صوبے بلوچستان اور خیبر پختون خوا دہشت گردی کی زد میں ہیں جب کہ سندھ میں نئے صوبے کے قیام سے حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ اس صورتحال میں راقم کو معروف مارکسٹ دانشور پروفیسر حمزہ علوی کی کتاب ’’ریاست، پاکستان، مقتدرہ کا کردار‘‘ کا اردو ترجمہ پڑھنے کا موقع ملا۔ زیبسٹ کے سوشل سائنسز فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر ریاض شیخ نے اس کتاب کا آسان اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ پروفیسر حمزہ علوی نے پاکستان کے مسائل کے اسباب کے بارے میں دقیق تبصرہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’یورپ اور مغرب میں جمہوریت اور جمہوری عمل کیونکہ ایک فطری طریقہ سے سامنے آیا تھا، اس لیے جمہوری ادارے یعنی پارلیمنٹ کی بالادستی برقرار رہی اور انھوں نے وقت کے ساتھ ساتھ مختلف انتظامی اور حکومتی ادارے بھی تشکیل دیے ۔ نوآبادیات میں صورتحال اس کے بالکل الٹ اور مختلف تھی۔ پوری نوآبادیاتی قوتوں نے ان ممالک اور علاقوں پر زبردستی قبضہ کیا جہاں پہلے کبھی قبائلی سماج تھے یا بادشاہتیں تھیں۔ ان کو مختلف طریقوں اور حربوں سے شکست دینے کے لیے ایک منظم فوج کی مدد لی گئی۔ حمزہ علوی مزید لکھتے ہیں کہ 1757سے 1857 کے دورانیہ میں انگریز نے تعلیم، صحت، عدلیہ اور انتظامیہ کے مختلف ادارے اپنی ضرورت اور پالیسی کے تحت تشکیل دیے۔ یہاں کی زرعی اور مقامی صنعتی سماج میں بڑی بنیادی تبدیلیاں کیں جن کا مقصد اپنی حکومت کو برقرار رکھنا اور استحصالی طریقوں سے زیادہ سے زیادہ منافع کمانا تھا۔ اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر اپنے علاقوں کے انتظامی سربراہ تھے جو وسیع اختیارات کے حامل تھے اور وہ بعض اوقات عدالتی اختیارات اور زرعی ٹیکس آبیانہ وصول کرنے کے اختیارات بھی رکھتے تھے۔ ان کی مدد کے لیے پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر سول افسروں کا ڈھانچہ موجود تھا۔ برطانوی نسل کے افسران نے یہاں پر برطانوی راج کے مقاصد کے حصول کے لیے ہر ممکن حد تک عوامی تحریکوں کو دبانے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ حمزہ علوی نے اپنے اس آرٹیکل میں لکھا ہے کہ حیرت انگریز مرحلہ اس وقت آیا جب ہندوستان کی اشرافیہ نے ہندوستانی شہریوں کو انڈین سول سروس میں ملازمتیں فراہم کرنے کی مخالفت کی جس کی سب سے نمایاں مثال یوپی اور علیگڑھ کی اشرافیہ کے نمائندے سرسید احمد خان تھے۔ ان کا خیال تھا کہ صرف برطانوی نسل کے افسران کو ہی ایسی ملازمتیں ملنی چاہئیں۔ حمزہ علوی لکھتے ہیں کہ پاکستان کے پہلے کمانڈر جنرل فرینک والٹر میسوری نے گورنر جنرل بیرسٹرمحمد علی جناح سے ملاقات میں حکومت کی پالیسی کے متعلق ہدایات کی بات کی تو جناح صاحب نے واضح طور پر کہا کہ وہ وزیر اعظم جو وزیر دفاع بھی تھے، ان کے ساتھ اپنے معاملات طے کرسکتے ہیں۔ حمزہ علوی نے اس وقت کے سیکریٹری دفاع اسکندر مرزا کے بارے میں لکھا کہ وہ انڈین پولیٹیکل سروسز میں تعینات ہوئے تھے۔ انڈین سول سروسز میں تو ہندوستانی افسران بھرتی ہوسکتے تھے لیکن انڈین پولیٹیکل سروسز میں صرف انگریز افسر ہی بھرتی ہوسکتے ہیں لیکن انڈین پولیٹیکل سروسز میں صرف انگریز افسر ہی تعینات کیے جاتے تھے کیونکہ یہاں حساس نوعیت کے معاملات سے واسطہ پڑتا تھا اور افسران حساس نوعیت کے قبائلی علاقوں میں تعینات کیے جاتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 1919 کے انڈیا ایکٹ متعارف کرانے کے بعد ہندوستانی سیاست دانوں کو صوبائی سطح پر وزارتیں سونپنے کا فیصلہ ہوا تو ICS افسروں کو یہ پتہ چلا کہ اب مقامی ہندوستانی ان کے وزیر بن گئے ہیںاور ان کے ماتحت کام کرنا ہوگا تو یہ بیوروکریٹس سیاست دانوں کو حقارت سے دیکھتے تھے بلکہ ان کے احکامات کو نظرانداز کرتے تھے۔ بیوروکریٹس کی وزراء اور کابینہ پر حاوی ہونے کی بنیادی وجہ وہ قانون تھا جس کے تحت سیکریٹری کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنے تمام معاملات براہِ راست گورنر کو بھیج کر ان کی منظوری حاصل کرسکتا تھا جس پر اس کا اپنے متعلقہ وزیر سے اختلاف تھا۔ یہ روایت آزادی سے قبل نوآبادیاتی طریقہ میں رائج کی گئی تھی۔ اس قانون پر آزادی کے بعد بھی عملدرآمد ہوتا رہا۔ گورنر جنرل کو 1935کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت اور انڈین آزادی ایکٹ 1947ء کی ترمیم شدہ سیکشن 9کے تحت خصوصی اختیارات حاصل ہوئے۔ اس کی ایک واضح مثال آزادی کے عبوری آئین 1935میں سیکشن A92 کو قرار دیا جاسکتا ہے جس کے تحت گورنر جنرل یا پھر اس کے نام پر کسی بھی بیوروکریٹ کو یہ اختیار حاصل ہوگیا تھا کہ وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی صوبہ میں حکومت کی آئینی مشینری کو معطل کرے اور وہاں براہِ راست گورنر راج نافذ کرسکتا تھا۔ اس قانون کا اطلاق صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کو برطرف کرکے اور سندھ میں ایوب کھوڑو کی حکومت کو برطرف کرنے کے لیے کیا گیا ۔ اس قانون کو پہلی آئین ساز اسمبلی کو توڑنے اور منتخب وزیر اعظم کو برطرف کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس قانون کو 1954 میں مشرقی بنگال کی جگتوفرنٹ حکومت بھی توڑنے کے لیے استعمال کیا گیا۔  اسی طرح گورنر جنرل غلام محمد نے 1955 میں مشرقی بنگال کی اکثریت کو ختم کرنے کے لیے مغربی پاکستان میں ون یونٹ قائم کیا ۔ یوں پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ون یونٹ میں شامل کیا گیا۔ ون یونٹ نے مشرقی بنگال کے علاوہ مغربی پاکستان کے تینوں صوبوں کے حقوق متاثر کیے۔ سندھ، بلوچستان اور سرحد کے عوام نے ون یونٹ کے خاتمے کے لیے تاریخی جدوجہد کی اور جنرل یحییٰ خان کو ون یونٹ ختم کرکے چاروں صوبے بحال کرنے پڑے۔  سندھ، بلوچستان ،پنجاب اورخیبر پختون خوا کا ہزار ہا سال پرانا ماضی ہے۔ سندھی زبان خطہ کی قدیم زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ کسی صورت ان صوبوں کو توڑ کر اور نئے صوبے بنا کر ملک کا بحران ختم نہیں ہوسکتا بلکہ ایک نئی مزاحمت شروع ہوجائے گی، مگر یہی وقت ہے کہ اب صوبوں کے اختیارات یونین کونسل کی سطح تک منتقل ہونے چاہئیں۔ پیپلز پارٹی نے اپنے 1988کے منشور میں نئے سوشل کنٹریکٹ کا ذکر کرکے نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کا وعدہ کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے لندن میں ہونے والے میثاق جمہوریت میں نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی اداروں کی اہمیت کو تسلیم کیا تھا۔ ضلعی حکومتوں کو مکمل طور پر بااختیار بنایا جائے۔ ملک کے بحران کا حقیقی حل یہی ہے۔ 1973کے آئین کی تمام ریاست پر عملداری اور پارلیمنٹ کی تمام ریاستی اداروں پر بالادستی سے ہی ملک ہر قسم کے بحران کا مقابلہ کرسکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل