Loading
پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپی طاقتوں نے مشرق وسطیٰ کو صرف نقشے پر تقسیم نہیں کیا بلکہ اس کے سیاسی مستقبل پر بھی گہرا اثر ڈالا اور پھر رفتہ رفتہ ان ریاستوں میں ایسے حکمران خاندان مضبوط ہوتے گئے جو نئی عالمی طاقتوں کے ساتھ مفاہمت اور وفاداری کی قیمت خوب سمجھتے تھے۔ جنھوں نے سب سے زیادہ قیمت ادا کی، یعنی جتنی زیادہ فرمانبرداری کا اعادہ کیا، اقتدار اتنا ہی محفوظ رہا۔ ان خاندانوں کا ماضی کیا تھا، ہم اس پر تبصرہ کیے بغیر صرف ’’غیر شاہی‘‘ کہنے پر اکتفا کرلیتے ہیں، مگر آج وہ سب شاہی خاندان ہیں۔ آپ سب تو ویسے بھی جانتے ہیں کہ بغاوت اور خودکشی دو ایسے جرائم ہیں جن میں صرف ناکام ہونے پر سزا ملتی ہے، کامیابی کی صورت میں ایک میں تخت اور دوسرے میں تختہ ملتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ امریکا نے برطانیہ سے اس خطے میں اثر و رسوخ اس لیے تو حاصل نہیں کیا تھا کہ جب اسے اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو تو وہ دنیا اور خطے کے امن کی خاطر اسے چھوڑ کر چلا جائے۔ قابض طاقتوں کا عمومی وطیرہ یہی رہا ہے کہ جب تک مفتوح کے وسائل، جغرافیہ اور سیاسی اثر و رسوخ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ نہ اٹھا لیا جائے، وہ اسے آسانی سے نہیں چھوڑتے۔ جب مشرق وسطیٰ میں توانائی کے وسائل، اہم سمندری راستے، اسٹرٹیجک مقامات اور عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات موجود ہوں تو امریکا بھلا اس خطے کو اچانک کیوں چھوڑنے لگا؟
لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ہوگا۔ امریکا شاید مشرق وسطیٰ سے نکلنا نہ چاہے، مگر اس کی موجودگی کی نوعیت ضرور بدل سکتی ہے اور شاید یہی آنے والے برسوں کا اصل کھیل ہے۔ ابھی آپ جلدی کسی نتیجے پر پہنچنے کی سعی نہ کریں کیونکہ ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے! اس کھیل کا دوسرا بڑا فریق ابھی تک براہِ راست میدان میں اترنے سے گریزاں ہے۔ وہ بالواسطہ، معاشی، سفارتی، تکنیکی اور تزویراتی ذرائع سے اپنے حریف کو تھکانے کی کوشش کررہا ہے۔ چھوٹے چھوٹے چرکے لگا کر اسے زخمی بھی کیا جارہا ہے تاکہ اس کا خون بہتا رہے، وہ کمزور ہوتا جائے اور جب کبھی براہِ راست مقابلے کا وقت آئے تو مقابلہ نسبتاً آسان ہو۔
ہرچند کے اشارہ چین کی جانب ہے لیکن اسے صرف فوجی مقابلے کے تناظر میں دیکھنا شاید درست نہیں ہوگا۔ چین کے لیے امریکا سے فوری جنگ شاید سب سے کم پسندیدہ راستہ ہو۔ زیادہ دانش مندانہ حکمت ِ عملی یہ ہے کہ امریکا کو معاشی، سفارتی، تکنیکی اور جغرافیائی سطح پر بتدریج محدود کیا جائے اور اس کے اتحادیوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی۔ بلکہ دو قطبی بھی نہیں بلکہ کثیر القطبی کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور اب تک یہ حکمت عملی کسی حد تک بھرپور طریقے سے کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اسی لیے براہِ راست تصادم سے گریز سمجھ میں آتا ہے۔
اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ امریکی طاقت کے ایک اہم ستون کا تعلق مشرقِ وسطیٰ کے توانائی کے وسائل،۔ یوں سمجھ لیجیے کہ امریکا کے لیے مشرق وسطیٰ صرف تیل کا کنواں نہیں بلکہ جغرافیہ، توانائی، عالمی تجارت، سمندری راستوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جسے چھوڑنا آسان نہیں۔ امریکا خود سے تو مشرق وسطیٰ نہیں چھوڑے گا، لیکن اسے چھوڑنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ بالکل ایسے جیسے برطانیہ کو اپنی نوآبادیاتی دنیا سے بالآخر دستبردار ہونا پڑا تھا۔ تاریخ شاید خود کو حرف بہ حرف نہیں دہراتی، لیکن بعض اوقات اس کے کردار ضرور بدل جاتے ہیں۔ پہلے جو کردار برطانیہ کا تھا، اب بڑی حد تک امریکا کا ہے۔ اس دفعہ چونکہ فلم نئی اور بڑی ہے تو چین اور روس اس فلم کے نئے اور بڑے کردار ہیں۔
امریکا کے مشرق وسطیٰ میں کئی بڑے مفادات ہیں، لیکن ان میں دو نمایاں ترین ہیں۔ ایک اسرائیل۔ دوسرا، توانائی اور ڈالر کے عالمی مالیاتی نظام سے جڑا مفاد۔ حالیہ ایران امریکا جنگ نے پہلے مفاد کے بارے میں ایک بہت اہم سوال اٹھا دیا ہے۔ بحیرہ عرب کے پانیوں میںامریکی بیڑے برسوں تک امریکی طاقت کی علامت رہے ہیں، لیکن اگر یہی بحری جہاز کسی بڑے علاقائی تنازع میں براہِ راست نشانہ بننے لگیں تو طاقت کا یہی جغرافیہ کمزوری کا جغرافیہ بھی بن سکتا ہے۔ جولائی 2026 میں ایران نے متعدد امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جس سے یہ سوال مزید نمایاں ہوا کہ بحیرہ عرب میں امریکی بحری بیڑے مستقبل کی جنگ میں اثاثے رہیں گے یا ذمے داریاں بن جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل میں امریکا شاید اپنی حکمت عملی تبدیل کر دے۔
اب آتے ہیں پیٹرو ڈالر معاہدے کی طرف لیکن اس سے پہلے یہاں ایک اصطلاح بہت احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر اسے ’’پیٹرو ڈالر معاہدہ‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن زیادہ درست اصطلاح ’’پیٹرو ڈالر نظام‘‘ ہے۔ دوسری طرف دنیا کے کئی ممالک تجارت، ذخائر اور ادائیگیوں کے متبادل نظام پر کام کررہے ہیں۔ چین اپنی کرنسی کے عالمی استعمال کو بڑھانا چاہتا ہے، جب کہ روس اور بعض دیگر ممالک ڈالر سے ہٹ کر مالیاتی راستوں میں دلچسپی رکھتے ہیں لہٰذا سوال یہ ہے کہ کیا دنیا بتدریج ایک ایسے مالیاتی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ڈالر واحد مرکزی راستہ نہ رہے؟ اگر ایسا ہوا تو امریکا کی عالمی طاقت ختم نہیں ہوگی، لیکن اس کی نوعیت ضرور تبدیل ہوگی۔
اصل خطرہ شاید یہی ہے۔ کبھی کبھی طاقت اس وقت کمزور ہوتی ہے جب اس کے اتحادی اس پر پہلے جیسا اعتماد کرنا چھوڑ دیں اور جب اس کے مخالفین اس کی طاقت کا احترام کرنے کے باوجود اس سے خوفزدہ ہونا چھوڑ دیں اور یہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آتی۔ یہ برسوں میں آتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شاید چین فوری جنگ نہیں چاہتا۔ وہ ابھی مزید وقت چاہتا ہے۔ امریکا اپنی مرضی سے مشرقِ وسطیٰ نہیں چھوڑے گا لیکن شاید مستقبل میں سوال یہ نہیں ہوگا کہ امریکا وہاں رہے گا یا نہیں۔ سوال یہ ہوگا کہ وہ کس حیثیت سے رہے گا؟ کیا وہ پہلے کی طرح ہر بحران کا براہِ راست فریق ہوگا؟ کیا وہ ہر اتحادی کی حفاظت کی ضمانت دے گا؟ کیا وہ ہر جنگ میں خود میدان میں اترے گا یا پھر وہ اپنی فوجی موجودگی کو محدود کرکے مقامی طاقتوں کو آگے کرے گا، سمندر اور فضا سے اپنی طاقت استعمال کرے گا اور پیچھے بیٹھ کر پورے خطے کا توازن اپنے حق میں رکھنے کی کوشش کرے گا؟ میرے خیال میں تیسرا راستہ زیادہ قابلِ غور ہے، کیونکہ امریکا کے لیے مشرقِ وسطیٰ کو چھوڑ دینا شاید نقصان دہ ہو، مگر مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی کا طریقہ بدل دینا شاید اس کی نئی حکمتِ عملی ہوسکتی ہے۔ دنیا شاید ایک نئے دو قطبی نظام کے بجائے کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، دنیا کے بہت سے ممالک اس سارے تنازعے کو بغور دیکھ رہے ہیں اور ان کی بدنی بولی، آپ یقین مانیں، ملکوں کی بھی بدنی بولی ہوتی ہے اور وہ کہہ رہی ہے کہ ’’ہم تو جیتنے والے کے ساتھ ہوں گے ۔‘‘ان میں کون کون سے ممالک ہیں، یہ میں آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل