Loading
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمی پیچیدہ منظرنامے میں ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطہ جنگ کے امکانات اور امن کی امید، دونوں کو بیک وقت اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ تہران میں پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں معمول کی سفارتی ملاقاتیں قرار دے کر نظرانداز نہیں کی جاسکتیں۔
ان رابطوں کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کرتا رہا ہے، اگرچہ ثالثی کا لفظ اکثر سفارت کاری میں ضرورت سے زیادہ بلند توقعات پیدا کردیتا ہے، لیکن موجودہ صورت حال میں پاکستان کا اصل امتحان کسی فریق کی طرف سے فیصلہ صادر کرانا نہیں بلکہ دونوں فریقوں کو اس مقام تک پہنچانا ہے جہاں بات چیت، جنگ سے زیادہ قابلِ قبول راستہ دکھائی دینے لگے۔ یہی وہ سفارتی خلا ہے جسے پاکستان پُر کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔
ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو تمام شعبوں میں وسعت دینے کی خواہش کا اظہار بھی محض خوشگوار سفارتی جملہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایران اور پاکستان دو ایسے ہمسایہ ممالک ہیں جن کے درمیان جغرافیہ نے تعلقات کو ناگزیر بنا رکھا ہے، مگر تاریخ، سلامتی، تجارت، سرحدی مسائل اور علاقائی طاقتوں کی ترجیحات نے اس ناگزیریت کو ہمیشہ عملی شراکت داری میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ موجودہ بحران شاید دونوں ممالک کو یہ موقع دے رہا ہے کہ وہ اپنے باہمی تعلقات کو محض سرحدی سلامتی یا وقتی سفارتی ضرورت کے زاویے سے نہ دیکھیں بلکہ انھیں خطے میں استحکام کے وسیع تر منصوبے کا حصہ بنائیں، اگر پاکستان ایران کے ساتھ توانائی، تجارت، سرحدی معیشت اور سلامتی کے شعبوں میں قابلِ عمل تعاون بڑھاتا ہے تو اس کے اثرات صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے۔لیکن اس تمام سفارتی سرگرمی کے درمیان اصل سوال یہ ہے کہ کیا تہران اور واشنگٹن واقعی کسی سمجھوتے کے قریب پہنچ رہے ہیں؟ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے ملنے والے اشاروں کی بنیاد پر امن معاہدے یا کسی ڈیل کے امکانات کا ذکر امید ضرور پیدا کرتا ہے، مگر سفارت کاری میں امید اور حقیقت کے درمیان ایک طویل فاصلہ ہوتا ہے۔ مذاکرات کے قریب پہنچنے اور معاہدے پر دستخط ہونے میں کبھی کبھی وہی فرق ہوتا ہے جو جنگ کے آغاز اور جنگ کے اختتام کے درمیان ہوتا ہے۔ فریقین جب میدان میں اپنی طاقت آزما چکے ہوں تو مذاکرات کی میز پر بھی اپنے مفادات، داخلی سیاسی ضرورتوں اور مستقبل کی طاقت کے توازن کو ساتھ لے کر بیٹھتے ہیں۔ اس لیے کسی ممکنہ پیش رفت کو خوش آئند سمجھنا چاہیے، مگر اسے یقینی انجام سمجھ لینا سفارتی سادگی ہوگی۔
ایران کا یہ موقف کہ اس نے خود کو ناقابلِ شکست طاقت ثابت کردیا ہے اور امریکا کا یہ دعویٰ کہ واشنگٹن کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، دونوں بیانات ایک ہی حقیقت کی مختلف تعبیرات ہیں۔ کوئی فریق کمزور دکھائی دے کر مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھنا چاہتا۔ جنگ صرف میزائلوں، ڈرونز اور بحری جہازوں سے نہیں لڑی جاتی، بیانیہ بھی جنگ کا ایک محاذ ہوتا ہے۔ ایران اپنی مزاحمت کو طاقت کی علامت بنا کر پیش کرنا چاہتا ہے، جب کہ امریکا اپنے عسکری اور بحری غلبے کو اس طرح ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ تہران کو یہ باور ہو کہ وقت اس کے حق میں نہیں۔ مگر طاقت کے ایسے دعوے اس وقت خطرناک ہوجاتے ہیں جب وہ فریقین کے لیے پسپائی کو سیاسی شکست بنا دیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ اسی نفسیاتی جنگ کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ امریکا وہاں اپنی بحری طاقت دکھا سکتا ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ دنیا کی توانائی کی ترسیل کا ایک انتہائی حساس حصہ اس راستے سے وابستہ ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی معمولی رکاوٹ بھی عالمی منڈیوں میں قیمتوں، بیمہ لاگت، بحری کرایوں اور سپلائی کے پورے نظام کو متاثر کرسکتی ہے۔ جنگی طاقت کسی گزرگاہ پر وقتی برتری تو قائم کرسکتی ہے، مگر عالمی تجارت کے لیے محفوظ، مستقل اور قابلِ اعتماد راستہ طاقت کے بجائے سیاسی سمجھوتے سے پیدا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ محض مارکیٹ کا معمول کا اتار چڑھاؤ نہیں۔ برینٹ خام تیل کا 84 ڈالر فی بیرل سے اوپر جانا اس خوف کی قیمت ہے جو عالمی منڈی مستقبل کے بارے میں ادا کررہی ہے۔
سرمایہ کار صرف آج کی سپلائی نہیں دیکھتے، وہ کل کے خطرے کو بھی قیمت میں شامل کرتے ہیں، اگر آبنائے ہرمز کی بندش طویل ہوتی ہے، اگر بحری جہازوں کے لیے خطرہ بڑھتا ہے، اگر انشورنس کمپنیوں کے اخراجات بڑھتے ہیں یا اگر متبادل راستوں کی گنجائش محدود رہتی ہے تو توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر محض پٹرول پمپ تک نہیں پہنچے گا۔ یہ خوراک، بجلی، صنعت، ٹرانسپورٹ اور مہنگائی کے پورے ڈھانچے میں سرایت کرسکتا ہے۔پاکستان کے لیے یہ خطرہ دوسروں سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک طرف وہ ایران کا ہمسایہ ہے اور دوسری طرف عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں کے جھٹکوں سے پہلے ہی متاثر ہونے والی معیشت رکھتا ہے۔امریکی فوج کی جانب سے پاناما کے پرچم بردار جہاز پر میزائل حملہ اور دوسری طرف بحری راستوں کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کے امکانات اس بات کی علامت ہیں کہ بحران اب محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہا۔ سمندر میں ایک غلط فہمی، ایک غیر محتاط حملہ یا کسی تجارتی جہاز کو فوجی ہدف سمجھ لینے کا واقعہ کشیدگی کو اس سطح تک لے جاسکتا ہے جہاں واپسی مشکل ہوجاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری کی رفتار عسکری کارروائی کی رفتار سے تیز ہونی چاہیے۔ جنگ میں فیصلہ چند منٹ میں ہوسکتا ہے، امن کے لیے کبھی کبھی مہینوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔ایران کا آبنائے ہرمز کو اپنی شرائط پوری ہونے تک بند رکھنے کا اعلان اور عمان کے ساتھ نئے بحری راستوں کے حوالے سے مذاکرات کا آخری مراحل تک پہنچنا بھی اس بحران کی ایک اہم جہت سامنے لاتا ہے۔ ایران ایک طرف آبنائے کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کررہا ہے، دوسری طرف متبادل انتظامات کی بات بھی ہورہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین جانتے ہیں کہ مکمل بندش کسی ایک ملک کو نہیں بلکہ پورے عالمی نظام کو نقصان پہنچائے گی۔ تیسری اور سب سے اہم سطح داخلی تیاری کی ہے، اگر خطے میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں، بحری تجارت متاثر ہوتی ہے یا خلیجی ممالک میں بحران گہرا ہوتا ہے تو پاکستان کے پاس توانائی، زرمبادلہ، تجارت اور سمندر پار پاکستانیوں کے حوالے سے ہنگامی حکمت عملی ہونی چاہیے۔ سفارت کاری تب ہی مؤثر ہوتی ہے جب اس کے پیچھے ریاستی تیاری موجود ہو۔ اس وقت پاکستان کے لیے سب سے بڑا سفارتی سرمایہ یہی ہے کہ وہ ایران کے قریب ہونے کے باوجود امریکا سے مکمل تصادم میں نہیں اور امریکا کے ساتھ تعلقات کے باوجود ایران کے دروازے بند نہیں کرتا۔ یہ توازن آسان نہیں، مگر اسی مشکل توازن میں پاکستان کے لیے ایک نادر موقع بھی پوشیدہ ہے، اگر اسلام آباد نے جذباتی بیانات کے بجائے خاموش، مسلسل اور نتیجہ خیز رابطہ کاری کو ترجیح دی تو وہ خطے کے بحران میں محض تماشائی نہیں رہے گا، لیکن اگر سفارتی سرگرمی داخلی سیاسی نمائش، فوری کامیابی کے دعوؤںیا غیر ضروری اعلانات کی نذر ہوگئی تو اعتماد کا وہ سرمایہ بھی ضایع ہوسکتا ہے جو طویل عرصے میں بنتا ہے۔ دنیا اس وقت ایک ایسے بحران کے دہانے پر ہے جہاں فتح کا مطلب بھی شکست ہوسکتا ہے۔
امریکا اگر عسکری برتری ثابت کردے مگر عالمی توانائی نظام کو شدید نقصان پہنچ جائے تو یہ مکمل کامیابی نہیں ہوگی۔ ایران اگر اپنی مزاحمت برقرار رکھے مگر طویل بندش کے نتیجے میں اپنی معیشت اور خطے کے تعلقات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے تو یہ بھی فتح نہیں۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے طاقت کے بیانیے کو محفوظ رکھتے ہوئے ایسا سمجھوتا کریں جس سے جنگ کا دروازہ بند اور تجارت کا راستہ کھل جائے۔پاکستان کو اسی ممکنہ راستے کی تلاش جاری رکھنی چاہیے۔ تہران کے دروازے پر اس کی موجودگی دراصل اسلام آباد کے اپنے قومی مفاد کی تلاش ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کی جنگ پاکستان کے لیے دور کی آگ نہیں۔ اس کے شعلے توانائی کی قیمت، سرحدی سلامتی، تجارت، سمندری راستوں اور پاکستانی شہریوں کی جانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے امن کی کوشش یہاں کسی اخلاقی نعرے سے زیادہ ایک عملی ضرورت ہے۔
آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ آبنائے ہرمز طاقت کے اظہار کی علامت بنتی ہے یا سمجھوتے کی گزرگاہ۔ اگر سفارت کاری کامیاب ہوئی تو شاید تاریخ اس بحران کو ایک اور جنگ کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے موڑ کے طور پر یاد کرے جس پر دنیا نے تباہی کے بجائے تدبر کا انتخاب کیا۔ پاکستان کے لیے یہی موقع ہے کہ وہ اپنی محدود عسکری قوت نہیں بلکہ اپنی جغرافیائی اہمیت، سفارتی رسائی اور ہمسایہ تعلقات کو دانش مندانہ قوت میں تبدیل کرے۔ جنگ کے شور میں امن کی آواز اکثر کمزور سنائی دیتی ہے، مگر ریاستوں کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ اسی مدھم آواز کو فیصلہ کن بنا سکیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل