Loading
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کی اسلام آباد میں اسپارکو پلازہ میں کارروائی کے دوران 258 غیرملکی شہریوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا جو ویزا شرائط کے برخلاف مبینہ طور پر غیرقانونی کاروباری و تجارتی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر شہزاد ندیم بخاری کو خفیہ ذرائع سے گلبرگ گرین کے اسپارکو پلازے سمیت دیگر مقامات پر بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کی موجودگی اور ان کے پاکستان کے مجاز ویزے کے برعکس کال سینٹرز چلانے اور دیگر سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اطلاع ملی۔
خفیہ اطلاع پر ضروری تصدیق کے بعد ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ اور ٹریفکنگ سرکل نے چھاپہ مار کر تحقیقات کیں تو انکشاف ہوا کہ تمام 258 غیرملکی موجود ہیں، جن میں ویتنام، انڈونیشیا، چین اور دیگر ممالک کے باشندے شامل ہیں جو مختلف ویزا کیٹیگریز، وزٹ، ٹورسٹ اور بزنس ویزا پر پاکستان آئے ہیں۔
ایف آئی اے حکام نے غیرملکیوں کا ریکارڈ آئی بی ایم ایس کے ذریعے چیک کیا تو تمام کے وزٹ ٹورسٹ یا بزنس ویزہ رکھنے کی تصدیق ہوئی تاہم غیرملکی اسپارکو پلازہ میں بڑے کال سینٹرز طرز کے سیٹ اپ میں موجود تھے جن پر ویزا شرائط کے برخلاف مبینہ کاروباری و تجارتی سرگرمیوں کا الزام سامنے آیا اور پایا گیا کہ غیر ملکیوں کی سرگرمیاں غیرملکیوں کے ویزے کے اعلان کردہ مقصد سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
حکام کے مطابق مبینہ غیرقانونی کاروباری و تجارتی سرگرمیوں پر قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے تمام غیرملکیوں کے خلاف 14 فارن ایکٹرز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیاگیا ہے اور ایف آئی اے نے 258 غیرملکیوں کے نام، قومیت، ویزا کیٹیگری اور پاسپورٹ نمبرز کی فہرست بھی مرتب کرلی۔
ایف آئی آر کے مطابق معاملے میں ملوث دیگر افراد کے کردار کا تعین دوران تفتیش کیا جائے گا اور مقدمے کی تفتیش کی ذمہ داری انسپکٹر محمد عبداللہ کیانی کو سونپ دی گئی ہے اور ذرائع نے بتایا کہ بڑی تعداد میں غیرملکیوں کی گرفتاری کے بعد اسی پلازے کو سب جیل بھی قرار دے دیاگیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل