Loading
نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کی گتھی سلجھانے کے لیے تفتیش اب مقتول کی موبائل سم تک پہنچ گئی ہے۔
اہم اور ہائی پروفائل مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا ہے کہ اس کیس کو مزید آگے بڑھانے کے لیے میر رضا کی سم کا حصول ضروری ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں میر رضا قتل کیس کی سماعت ہوئی، جہاں تفتیشی افسر پیش ہوئے۔ دوران سماعت انہوں نے عدالت کے سامنے تحقیقات میں درپیش ضرورت بیان کرتے ہوئے کہا کہ مقتول کی موبائل سم حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جاسکے۔
اس موقع پر عدالت نے اہم سوال اٹھایا کہ مقتول کی سم آخر حاصل کیسے کی جائے گی؟ جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ میر رضا کی والدہ کے بائیو میٹرک اور قومی شناختی کارڈ کے ذریعے سم حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
مقتول کی سم حاصل کرنے کی کوشش نے کیس کی تحقیقات کو ایک نئی سمت دی ہے، تاہم عدالت میں ہونے والی کارروائی کے دوران تفتیشی افسر نے یہ واضح نہیں کیا کہ سم سے کون سی مخصوص معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی یا تحقیقات میں اس سے کیا پیش رفت متوقع ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت سے مزید مہلت طلب کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ میڈیکل اور تفتیشی رپورٹ مکمل کرنے کے لیے وقت درکار ہے تاکہ آئندہ سماعت پر متعلقہ رپورٹس عدالت کے سامنے پیش کی جاسکیں۔
عدالت نے ڈی ایس پی کو مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 24 اگست تک ملتوی کردی اور ساتھ ہی حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کی رپورٹ اور میڈیکل ایگزامن رپورٹ بھی پیش کی جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل